25 Apr, 2018 | 9 Syaaban, 1439 AH

Assalam o alaikum. mera sawal ye hy k aurat ko apny mehram ya wali ki ijazat k bgher safar krny ki kis qadr ijazat hy.? agr koi aurat Deen ka kam krny k liye wali ki ijazat k bgher bahr nikly gi tou kya wo gunahgaar ho gi? jesy aj kl larkiyan ghron se dour daraz parhti hain or hr dafa un k mehram un k sath ya unko leny ni aa skty tou kya unka akely safar krna jaiz hy?

السلام علیکم !میرا سوال یہ ہے کہ عورت کو اپنے محرم یا ولی کی اجازت کے بغیر سفر کرنے کی کس قدر اجازت ہے ؟اگر کوئی عورت دین کا کام کرنے کے لیے ولی کی اجازت کے بغیر باہر نکلے گی تو کیا وہ گناہگار ہوگی ؟جیسے آج کل لڑکیاں گھروں سے دور دراز پڑھتی ہیں اور ہر دفعہ ان کے محرم ان کے ساتھ یا ان کو لینے نہیں آسکتےتو کیا ان کا اکیلے سفر کرنا جائز ہے؟

الجواب حامدا  ومصلیا

عورت کا  اکیلے ، بغیر محرم کے شرعی سفر کرنا جائز نہیں کیونکہ حدیث میں اس کی ممانعت آئی ہے، اور  شرعی سفر کم از کم اڑتالیس (۴۸ )میل ہے جو کہ  سوا ستتر(77.24) کلو میٹر بنتے  ہیں، عورت کے لئے  اس سے کم سفر کرنابغیر محرم کےجائز ہےبشرطیکہ فتنہ  کا اندیشہ نہ ہو، اورمجبوری یا حاجت میں عورت کے لئے   پڑھانے اور ملازمت  کے لیےمسافت  شرعی سے  کم سفر کرنا بھی   جائز ہے بشرطیکہ ملازمت کی جگہ آنے جانے اور کام کاج  کے دوران مکمل شرعی پردہ کا اہتمام کرے  اور غیر محرم مردوں کے ساتھ  اختلاط نہ ہو۔ اور آنے جانے کا راستہ بھی محفوظ ہو۔ البتہ کسی جگہ ملازمت کرنا  ہو یا  پڑھنا پڑھانا  ہو، گھر سے باہر جانا ہو  تو اپنے والد یا شوہر وغیرہ کی اجازت سے ہی  یہ کام کرنے چاہیے۔

حاشية ابن عابدين - (2 / 123)

 قوله ( ولا اعتبار بالفراسخ ) الفرسخ ثلاثة أميال والميل أربعة آلاف ذراع على ما تقدم في باب التيمم  قوله ( على المذهب ) لأن المذكور في ظاهر الرواية  اعتبار ثلاثة أيام كما في الحلية  وقال في الهداية هو الصحيح احترازا عن قول عامة المشايخ من تقديرها بالفراسخ  ثم اختلفوا فقيل أحد وعشرون وقيل ثمانية عشر وقيل  خمسة عشر والفتوى على الثاني لأنه الأوسط وفي المجتبى فتوى أئمة خوارزم على الثالث  وجه الصحيح أن الفراسخ تختلف باختلاف الطريق في السهل والجبل والبر والبحر بخلاف المراحل.

واللہ اعلم بالصواب

      احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

  دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ