25 Apr, 2018 | 9 Syaaban, 1439 AH

جس عورت نے بچہ گود لیا ہے ،اس کے اپنے بچے نہیں ہیں اور وہ گود لینے والے بچہ کو ڈبہ کا دودھ پلا رہی ہے

کیا بچہ  گود  میں لینا جائز ہے؟ جس عورت نے بچہ گود لیا ہے ،اس کے اپنے بچے نہیں ہیں اور وہ گود لینے والے بچہ کو ڈبہ کا دودھ پلا رہی ہے، تو کیا پالنے والے کا ورث ہوگا؟

الجواب حامدا ومصلیا

کسی اجنبی بچہ کو گود  میں لینا جائز ہے، لیکن اس کی وجہ سے وہ حقیقی بیٹا نہیں بنے گا، اس کو  پالنے والی کی وراثت سے اس کو حصہ نہیں ملے گا۔ اور بچے کے بالغ ہوجانے کے بعد اس عورت سے پردہ کرنا ضروری ہوگا، جبکہ  کاغذات  وغیرہ  میں ولدیت کے حصہ میں اس کے  والدکا نام لکھنا ضروری ہوگا، ولدیت  والے حصہ میں پالنے والی کے شوہر کا نام لکھنا جائز نہیں ہے۔

قال الله تعالیٰ :

{ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ }[الأحزاب: 5]

تفسير الألوسي -  روح المعاني (11/ 209)

والأب حقيقة لغوية في الوالد على ما يفهم من كلام كثير من اللغويين، والمراد بالأبوة المنفية هنا الأبوة الحقيقة الشرعية التي يترتب عليها أحكام الأبوة الحقيقية اللغوية من الإرث ووجوب النفقة وحرمة المصاهرة سواء كانت بالولادة أو بالرضاع أو بتبني من يولد مثله لمثله وهو مجهول النسب فحيث نفي كونه صلّى الله تعالى عليه وسلم أبا أحد من رجالهم بأي طريق كانت الأبوة.

وفی احکام القرآن للتھانوی - ( 3 / 291) :

المتبنی لا یلحق فی الاحکام بالابن الحقیقی ، فلا یستحق المراث ولا یورث عنه المدعی، ولا یحرم حلیلته بعد الطلاق والعدۃ علی ذلك المدعی ولا عکسه.

               واللہ اعلم بالصواب

      احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

  دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ