16 Dec, 2017 | 27 Rabiul Awal, 1439 AH

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ: میں ایک گورنمنٹ سکول میں پڑھاتا ہوں، گورنمنٹ کی طرف سے سکول کے بچوں کو کتابیں مفت مہیا کی جاتی ہیں سکول کی طرف سے اساتذہ داخل شدہ بچوں کی تعداد لکھ کر اپنے مرکز میں جمع کرواتے ہیں اور پھر مرکز اس تعداد کے مطابق کتابیں سکول کو مہیا کر دیتا ہے جو بچوں میں تقسیم کر دی جاتی ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ تعداد بھیج دی جاتی ہے کتابیں آ جاتی ہیں اور ساتھ ہی کچھ بچے سکول چھوڑ جاتے ہیں یا سکول تو نہیں چھوڑتے لیکن سارا سال سکول حاضر نہیں آتے اور کتابیں پڑی رہتی ہیں اور اگلا سال آنے پر پھر یہی سلسلہ ہوتا ہے کہ نئی کتابیں آ جاتی ہیں۔ کیا ہم ان پڑی ہوئی کتابوں کو کسی اور بچے کو دے سکتے ہیں جو گورنمنٹ سکول کا نہ ہو؟ لیکن غریب ہے؟ یا گورنمنٹ سکول کا کوئی بچہ جو اپنی گم کر لے تو اسے دوسری دفعہ دے سکتے ہیں؟ یا کسی دوسرے گورنمنٹ سکول کے بچے کو دے سکتے ہیں؟؟ یاد رہے ان کتابوں کی واپسی کوئی سکول نہیں کرتا اور اگر نہ دیں تو پڑی ضائع ہو جائیں گی۔ کیونکہ بعض دفعہ سلیبس تبدیل ہو جاتا ہے اور سال بعد نئی کتابیں بھی لازمی آتی ہیں۔

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ: میں ایک گورنمنٹ سکول میں پڑھاتا ہوں، گورنمنٹ کی طرف سے سکول کے بچوں کو کتابیں مفت مہیا کی جاتی ہیں۔ سکول کی طرف سے اساتذہ داخل شدہ بچوں کی تعداد لکھ کر اپنے مرکز میں جمع کرواتے ہیں اور پھر مرکز اس تعداد کے مطابق کتابیں سکول کو مہیا کر دیتا ہے جو بچوں میں تقسیم کر دی جاتی ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ تعداد بھیج دی جاتی ہے کتابیں آ جاتی ہیں اور ساتھ ہی کچھ بچے سکول چھوڑ جاتے ہیں یا سکول تو نہیں چھوڑتے لیکن سارا سال سکول حاضر نہیں آتے اور کتابیں پڑی رہتی ہیں اور اگلا سال آنے پر پھر یہی سلسلہ ہوتا ہے کہ نئی کتابیں آ جاتی ہیں۔ کیا ہم ان پڑی ہوئی کتابوں کو کسی اور بچے کو دے سکتے ہیں جو گورنمنٹ سکول کا نہ ہو؟ لیکن غریب ہے؟ یا گورنمنٹ سکول کا کوئی بچہ جو اپنی گم کر لے تو اسے دوسری دفعہ دے سکتے ہیں؟ یا کسی دوسرے گورنمنٹ سکول کے بچے کو دے سکتے ہیں؟؟ یاد رہے ان کتابوں کی واپسی کوئی سکول نہیں کرتا اور اگر نہ دیں تو پڑی ضائع ہو جائیں گی۔ کیونکہ بعض دفعہ سلیبس تبدیل ہو جاتا ہے اور سال بعد نئی کتابیں بھی لازمی آتی ہیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

بچوں کو کتابیں تقسیم کرنے میں آپ حکومت کے وکیل ہیں، حکومت کی ہدایا ت کے مطابق کتابیں تقسیم کرنا آپ پر لازم ہے۔ لہذا سوال میں ذکر کردہ صورت حال کے حوالے سے اپنے مرکز  اور گورنمنٹ سے رجوع کریں، اور ان کو  یہ ساری صورت حال بتلائیں۔  وہ جو کہیں ، اور جو پالیسی  بنائیں  اس کے مطابق ہی کام کریں۔ 

 واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۳۰؍جمادی الاول؍۱۴۳۸ھ

۲۸؍فروری؍۲۰۱۷ء