21 Oct, 2017 | 30 Muharram, 1439 AH

السلام علیکم! اگر کپڑے میں جس جگہ منی لگی ہو اس حصہ کو دھو کر فورن پہن سکتے ہیں؟ اور یہ بتائے کہ اگر مشت زنی ہو گئ تو کیا غسل واجب ہو گیا؟ یا پھر صرف نیچے کے حصہ کو دھونے سے پاکی حاصل ہو جائے گی؟ اور منی کے سلسلہ میں اور ضروری مسائل بتا دئے مثلا پاکی کے طریقے۔

السلام علیکم!

1-   اگر کپڑے میں جس جگہ منی لگی ہو اس حصہ کو دھو کر فورن پہن سکتے ہیں؟

2-   اور یہ بتائے کہ اگر مشت زنی ہو گئ تو کیا غسل واجب ہو گیا؟ یا پھر صرف نیچے کے حصہ کو دھونے سے پاکی حاصل ہو جائے گی؟

3-    اور منی کے سلسلہ میں اور ضروری مسائل بتا دئے مثلا پاکی کے طریقے۔

الجواب حامدا ومصلیا

1-  کپڑے  اور اس طرح کی دوسری چیزوں میں  جس جگہ نجاست لگ جائے تو صرف وہی جگہ ناپاک ہوتی ہے،اس کی وجہ سے سارے کپڑے ناپاک نہیں ہوتے۔اور پاک کرنے کے لیے صرف اسی جگہ کو دھونا ضروری   ہوتاہے۔  لہذا صورت مسؤلہ میں کپڑے میں جس جگہ منی لگی ہو صرف اس حصہ کو دھو نے سےکپڑے پاک ہوجائیں گے۔ اور اس کے  فوراً بعد پہن سکتے ہیں ۔

2-  مشت زنی سے اگر منی نکل آئے تو  غسل واجب ہوجائے گا۔ صرف نیچے کے حصہ کو  دھونا کا فی  نہیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ مشت زنی کرنا ناجائز اور حرام ہے۔ مشت زنی کرنے والے پر احادیث میں لعنت بھیجی گئی ہے، قیامت کے دن ایسے لوگوں کے ہاتھ حاملہ ہونگے۔ لہذا اس سے بچنا ضروری ہے۔

3-  اگر منی  جسم اور کپڑے وغیرہ  پر  لگ جائے تو اس  کوپاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو اتنا دھویا جائے کہ اس  کا اثر( دھبہ) زائل ہوجائے۔ جب  اثر(دھبہ) زائل ہوجائے گا تو جسم پاک ہوجائے گا۔ اور اگر کپڑے پر لگی ہوئی منی پھیلاؤ کے اعتبار سے ایک درہم یعنی ہتھیلی کی گہرائی کے برابر،یا اس سے زیادہ ہو تو ان کپڑوں میں نماز پڑھنا درست نہیں، دوسرے پاک کپڑے پہن کر ،یا انہیں کو دھو کر نماز پڑھنا ضروری ہے،اور اگر کپڑے پر لگی ہوئی مذکورہ نجاست اپنے پھیلاؤ کے اعتبار سے ہتھیلی کی گہرائی سے کم ہو تو ان کپڑوں میں اس کو  دھوئے بغیر نما زپڑھنا مکروہ ہے، جس سے بچنا لازم ہے، تاہم اگر کوئی ان کپڑوں میں نماز پڑھ لے تواس نماز کا لوٹانا ضروری نہیں،

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1/ 159)

(وفرض) الغسل (عند) خروج (مني) من العضو.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1/ 328)

(وكذا يطهر محل نجاسة) أما عينها فلا تقبل الطهارة (مرئية) بعد جفاف كدم (بقلعها) أي: بزوال عينها وأثرها ولو بمرة أو بما فوق ثلاث في الأصح.

الدر المختار (2/ 404)

وكذا الاستمناء بالكف وإن كره تحريما لحديث ناكح اليد ملعون ولو خاف الزنا يرجى أن لا وبال عليه.

     واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۵؍جمادی الاول؍۱۴۳۸ھ

۲؍فروری؍۲۰۱۷ء