16 Dec, 2017 | 27 Rabiul Awal, 1439 AH

Kya shohor ke liye 40 days jamat me jaana sahi hai jabke biwi akele darti ho aur akele na reh paye?

کیا شوہر کے لیے چالیس دن کے لیے جماعت میں جانا صحیح ہے جبکہ اس کی بیوی اکیلے ڈرتی ہو اور اکیلے نہ رہ پائے۔

الجواب حامدا ومصلیا

دین کے بنیادی اور ضروری احکامات کا سیکھنا ہر مسلمان مرد وعورت پرفرض عین ہے اور ان احکامات کو سیکھنے کے لیے تبلیغی جماعت میں جانا ضروری نہیں ہے ،اس لیے  کوئی شخص اگر گھر میں رہ کرکسی عالم سے ان احکامات کاعلم حاصل کر لیتا ہے تو بھی اس فریضے سے بری ہو جائے گا اور اگر تبلیغی جماعت میں نکل کر اس کے لیے سیکھنا آسان ہو تو تبلیغ میں نکل کر بھی سیکھ سکتا ہے ۔

اگر کوئی شخص اپنے بیوی بچوں کے نان ونفقہ کا انتظام کیے بغیر تبلیغ کیلئے  جائے گا تو اسکو حقوق العباد میں کوتاہی کرنے  کا سخت گناہ ہوگا کیونکہ بیوی بچوں کی نگرانی ، تربیت اور ان  کے حقوق  کی ادائیگی فرض ِ عین  ہےاور تبلیغ کا کام فرض ِ کفایہ ہے ، دونوں  ہی کام کرنے چاہئیں لیکن فرضِ عین کا نقصان کرکے فرضِ کفایہ میں مشغول  نہ ہونا چاہیے۔(مأخذہ: فتاوی عثمانی ۱ /۲۴۱)

لہذا صورت مسؤلہ میں   بیوی کو اکیلے چھوڑ کر تبلیغ میں جانا شوہر  کے لیے درست نہیں۔ اس کو چاہیے کہ   اپنی بیوی کو اس کے والدین ، یا اپنے والدین کے گھر  پہنچائے،  اور  اپنے بیوی بچوں کے نان ونفقہ کا  مناسب انتظام کرنے کے بعد تبلیغ  کے لئے جاسکتا ہے۔ 

حاشية ابن عابدين (6/ 408)

ولو خرج المتعلم وضيع عياله يراعى حق العيال.

واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۳۱؍جنوری ؍۲۰۱۷ء