21 Oct, 2017 | 30 Muharram, 1439 AH

بیوی نے شوہر سے خلع مانگی۔شوہر نے اپنے والد سے کہا کہ ٹہیک ہے میں اہک طلاق دہتا ہوں اور اگر بیوی چاہے تو رجوع کر سکتی ہے۔شوہر کے والد نے بیوی کے ماموں کے ذریعے بیوی کو کہلوایا کہ شوہر نی ایک طلاق دے دی ہے۔تو سوال یہ ہے کہ کیا کسی کے ذریعے طلاق کا پیغام بہیجنے سے طلاق ہو جاتی ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ دسمبر میں یہ واقعہ پیش آیا اور شوہر یا بیوی نے رجوع نہیں کیا تو اب تک کتنی طلاقیں واقع ہوئیں ؟ اور ایک سوال یہ ہے کہ اس صورت میں بیوی کب عدت شروع کرے گی؟ت

بیوی نے شوہر سے خلع مانگی۔شوہر نے اپنے والد سے کہا کہ ٹھیک ہے میں ایک طلاق دہتا ہوں اور اگر بیوی چاہے تو رجوع کر سکتی ہے۔شوہر کے والد نے بیوی کے ماموں کے ذریعے بیوی کو کہلوایا کہ شوہر نے ایک طلاق دے دی ہے۔تو سوال یہ ہے کہ کیا کسی کے ذریعے طلاق کا پیغام پہنچنے  سے طلاق ہو جاتی ہے؟ جبکہ خبر دینے والے تمام لوگ قابل اعتماد ہیں۔  دوسرا سوال یہ ہے کہ دسمبر میں یہ واقعہ پیش آیا اور شوہر یا بیوی نے رجوع نہیں کیا تو اب تک کتنی طلاقیں واقع ہوئیں ؟ اور ایک سوال یہ ہے کہ اس صورت میں بیوی کب عدت شروع کرے گی؟

الجواب حامدا ومصلیا

صورت مسؤلہ میں ایک طلاق رجعی واقع ہوئی ہے۔ اور طلاق دینے کے بعد تین مکمل حیض(ایام ماہواری)گزرنے کے صورت میں دوبارہ نئے مہر کے ساتھ باہمی رضامندی سے نکاح کر سکتے ہیں۔

جس عورت کو حیض آتاہو اس کی عدت ِطلاق، تین ماہواری(حیض) ہے، تین  ماہ نہیں ہے، حاملہ  عورت کی عدتِ طلاق بچے کی پیدائش ہے۔

جس وقت شوہر نے طلاق دی ہے، اسی وقت سے ہی عدت  شروع  ہوجاتی ہے۔

لما فی الیداية:  (2/254)

وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [البقرة: 231] من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمى إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها " والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي " وهذا صريح في الرجعة ولا خلاف فيه بين الأئمة....قال: " ويستحب أن يشهد على الرجعة شاهدين فإن لم يشهد صحت الرجعة.

واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

  دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۱۵؍رمضان المبارک؍۱۴۳۸ھ

۱۱؍جون؍۲۰۱۷ء