17 Dec, 2017 | 28 Rabiul Awal, 1439 AH

Taqreeban 7 saal pehly aik shohar ny apni bewi sy jhugrey k doran kaha " Mei tme ..... jaga ( bewi k walid k village ka nam lya) chor ata hon" Ghalib guman ha k yehi kaha ta To kahein kanaya wali talaq to ni ho gi ti???

تقریباً سات سال پہلے ایک شوہر نے اپنی بیوی سے جھگڑے کے دوران یہ کہا تھا کہ میں تم  کو   فلاں جگہ چھوڑ آتا ہوں،( بیوی  کے والد کے گاؤں کا نام لیا  تھا۔ غالب گمان یہ ہے کہ یہی الفاظ کہے تھے۔ تو کیا اس سے کوئی کنائی طلاق تو واقع نہیں ہوتی؟

الجواب حامدا ومصلیا

 صورت مسئولہ میں   شوہر کے الفاظ ‘‘میں تم  کو   فلاں جگہ چھوڑ آتا ہوں’’ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی؛  کیونکہ یہ  ‘‘الفاظ  کنائیہ’’ میں سے نہیں ہے۔

فی البحر الرائق (3/ 330)

وخرج عنه لم أتزوجك أو لم يكن بيننا نكاح ووالله ما أنت لي بامرأة وقوله لا عند سؤاله بقوله ألك امرأة وقوله لا حاجة لي فيك كما في البدائع ففي هذه الألفاظ لا يقع وإن نوى عند الكل.

الفتاوى الهندية (1/ 376)

وكذا كل لفظ لا يحتمل الطلاق لا يقع به الطلاق وإن نوى مثل قوله بارك الله عليك أو قال لها أطعميني أو اسقيني ونحو ذلك.

  واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۷؍شعبان المعظم؍۱۴۳۸ھ

۲۴؍مئی؍۲۰۱۷ ء