21 Oct, 2017 | 30 Muharram, 1439 AH

اسلام علیکم، کے طریقے استعمال کرنا جائذ ھیں؟اور اگر استعمال کریں birth controlکیا تونیت کیا ہونی چاہے۔ کیونکہ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ اب بس اتنے بچے کافی ہیں۔اور یہ بھی دیکھاگیاھے کہ جب کوئ طریقہ استعمال کیا جاتا ھے تو کہا جاتا ھے ھم بچہ نہیں چاھتے ھم کنڑول کر رھے ھیں اور گر پھر بھی حمل ٹھر جاے تو کہا جاتا جے اللہ کی مرضی! اس سب کی تحیح فرما دیں۔

السلام علیکم!

کے طریقے استعمال کرنا جائذ ھیں؟ birth control

اور اگر استعمال کریں ، تونیت کیا ہونی چاہے۔ کیونکہ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ اب بس اتنے بچے کافی ہیں۔اور یہ بھی دیکھاگیاھے کہ جب کوئ طریقہ استعمال کیا جاتا ھے تو کہا جاتا ھے ھم بچہ نہیں چاھتے ھم کنڑول کر رھے ھیں اور اگر پھر بھی حمل ٹھر جاے تو کہا جاتا جے اللہ کی مرضی! اس سب کی تصحیح فرما دیں۔

الجواب حامداً  ومصلیاً

خاندانی منصوبہ بندی(birth control)  کی دوصورتیں سامنے آتی ہیں ،ایک قطعِ نسل یعنی بلاضرورتِ شرعیہ آپریشن کرکے دائمی طور پرمرد یا عورت کو اولاد پیداکرنے کے لئے ناقابلِ بنادینا،دوسری صورت  منعِ حمل یعنی کوئی ایسی صورت یادوائی استعمال کرناجس کی بناء پر وقتی طور پر حمل قرارنہ پائے ۔پہلی صورت یعنی قطعِ نسل ناجائز اور حرام ہے ،صرف سخت مجبوری کی حالت میں اس کی گنجائش ہے۔ اور سخت مجبوری یہ ہے کہ  حمل ٹھہرنے  سے عورت کی جان کو خطرہ لاحق ہونے کا غالب گمان  ہو ، اور ماہر دیانت دار ڈاکٹر حضرات یہ تشخیص کردیں کہ اب اس عورت کو حمل ہوا تو اسے مہلک بیماریاں لگ سکتی ہیں یا اب اس میں حمل کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں، جس کی وجہ سے عورت مرجائے گی، تو اس صورت میں اگر موانع حمل طریقے (مثلاً کنڈوم یا دیگر طریقہ کار) بھی مضر ہوں تو عورت کیلئے یہ گنجائش ہے کہ وہ اپنی تولیدی صلاحیت کو ختم کردے ، البتہ اگر موانع حمل طریقے مضر نہ ہوں تو اسی پر اکتفاء کیا جائے تولیدی صلاحیت ختم کرنے کی اجازت نہیں۔

 جہاں تک دوسری صورت یعنی منعِ حمل کا تعلق ہے تو خاص حالات میں وقتی طور پر اس کی گنجائش ہے مثلاًعورت اتنی کمزور ہے کہ بارِ حمل کا تحمل نہ کرسکتی ہو یا اس کا حاملہ ہونااس کے لئے یا اس کی اولاد کے لئے  مضر ہو یاوہ کسی ایسے مقام میں ہو جہاں قیام کا امکان نہیں  بلکہ خطرہ لاحق ہے وغیرہ۔لیکن اگر خاندانی منصوبہ بندی کا طریقہ اختیار کرنے کے پیچھے فقروافلاس یا اقتصادی بدحالی کا خوف ہےیا کوئی اور غیر اسلامی نظریہ کارفرماہےتو یہ فعل سراسر ناجائزاور حرام ہے۔

مشكاة المصابيح: (2 / 952)

وعنه قال: سئل رسول اللّٰه ﷺ عن العزل فقال: «ما من كل الماء يكون الولد وإذا أراد اللّٰه خلق شيء لم يمنعه شيء» . رواه مسلم۔

مشكاة المصابيح: (2 / 951)

وعن أبي سعيد الخدري قال: خرجنا مع رسول اللّٰه ﷺ غزوة بني المصطلق فأصبنا سبيا من سبي العرب فاشتهينا النساء واشتدت علينا العزبة وأحببنا العزل فأردنا أن نعزل وقلنا: نعزل ورسول اللّٰه  ﷺ بين أظهرنا قبل أن نسأله؟ فسألناه عن ذلك فقال: «ما عليكم ألا تفعلوا ما من نسمة كائنة إلى يوم القيامة إلا وهي كائنة»

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: (5 / 2091)

والحاصل أن كل إنسان قدره اللّٰه أن سيوجد ولا يمنعه العزل. قال النووي  رحمه اللّٰه: معناه ما عليكم ضرر في ترك العزل، لأن كل نفس قدر الله خلقها لا بد أن يخلقها سواء عزلتم أم لا، فلا فائدة في عزلكم ; فإنه إن كان الله قدر خلقها سبقكم الماء فلا ينفع حرصكم في منع الخلق۔

شرح النووي على مسلم (10 / 10)

 قوله ﷺ: (لا عليكم ألا تفعلوا ما كتب الله خلق نسمة هي كائنة إلى يوم القيامة إلا ستكون) معناه ما عليكم ضرر في ترك العزل لأن كل نفس قدر اللّٰه تعالٰى خلقها لابد أن يخلقها سواء عزلتم أم لا وما لم بقدر خلقها لا يقع سواء سواء عزلتم أم لا فلا فائدة في عزلكم فإنه إن كان اللّٰه تعالى قدر خلقها سبقكم الماء فلا ينفع حرصكم في منع الخلق.

واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ