22 Oct, 2017 | 1 Safar, 1439 AH

Salam mufti sab . Agar kissi ka shohar zara galti per bohat gusa kerta ho, bohat dant ta ho, ghar valoon or bachoon ka lehaz na kerta ho, gharylo mamlat ma madad na kery, baat by baat bivi ko pagal kahy, jb danty to pechli sb galtian ginvay, tany dy. Aisy soorat ma bivi k liy kia hukam hy?

السلام علیکم!

اگر کسی کا شوہر ذرہ سی غلطی پر بہت غصہ کرتا ہو، بہت ڈانتا ہو، گھر والوں  اور بچوں کا لحاظ نہ کرتا ہو، گھریلوں معاملات میں مدت نہ کرتا ہو، بات بات پر بیوی ک وپاگل کہتا ہو،  اور جب ڈانٹے تو پچھلی  سب غلطیاں گنوائے، طعنے دے، ایسی صورت میں بیوی  کیا کرے ؟ اس کے لیے کیا حکم ہے؟ اس حوالے سے کوئی حدیث شریف بتادیں۔

الجواب حامدًا ومصلیاً

            احادیث مبارکہ میں جس طرح بیوی کو شوہرکی اطاعت و فرمانبرداری کا حکم دیاگیاہےاسی طرح شوہرکوبھی بیوی کےساتھ اچھابرتاؤکرنےکی تاکیدکی گئی ہےاور بیوی کےساتھ بدسلوکی اور اسے تکلیف پہنچانےسے سخت ممانعت وارد ہوئی ہے۔چنانچہ حدیث پاک میں ارشاد ہے:

تم میں سے بہترین شخص وہ ہےجواپنےگھروالوں کےحق میں بہترین ہواور میں اپنےگھروالوں کے حق میں تم سب میں سے بہترین ہوں۔(الحدیث: مشکوٰۃ: ۲۸۱)

ایک دوسری حدیث پاک میں ارشادہے:

حضرت حکیم بن معاویہ قشیری کےوالد کہتے ہیں کہ میں نےعرض کیایارسول اللہ! ہم میں سے کسی کی بیوی کااس کےشوہرپرکیاحق ہے؟آپ ﷺ نےفرمایا:یہ کہ جب تم کھاؤتواس کو بھی کھلاؤ ، جب تم پہنوتواس کو بھی پہناؤ، اس کے منہ پرنہ مارواوراس سے صرف گھر کےاندر ہی علیحدگی اختیارکرو۔(مشکوٰۃ ۲۸۱)

            چنانچہ اگر سوال میں ذکرکردہ صورت حال درست ہےتوسائلہ کے شوہرکایہ طرز عمل بالکل ناجائزاور سخت گناہ کاہے، اس پرلازم ہےکہ اپنےاس طرزعمل سے توبہ کرےاورآئندہ بیوی کو تنگ کرنےسے احتراز کرے۔اسی طرح  شوہرکا بیوی کو طعنےدیناسراسرناجائزاورحرام ہے،اس طرح  کی باتیں  اور رویہ کی وجہ سے وہ سخت گنہگار ہورہاہے، لہذا  ان پربھی لازم ہےکہ اپنےاس فعل پراللہ جل شانہٗ سے توبہ واستغفارکرے اورآئندہ ایسے طرز عمل سے مکمل اجتناب کرے۔

            ایسی صورت میں بیوی کو چاہیئےکہ خاندان کے بڑوں کے ذریعہ شوہرکوسمجھانے کی کوشش کرے،  اور ساتھ ساتھ اللہ سے خوب دعاؤں کا اہتمام کرے، اور نماز کی مکمل پابندی کرے، قرآن کی تلاوت  اور دوسرے ذکر اور اذکار کا بھی اہتمام کرے۔ اور جن باتو ں  سے شوہر کو  نفرت  ہو، اس سے اجتناب کیا جائے۔

(۱)فی صحيح مسلم :(ج 1 / ص 61، بیروت):

حدثنا محمد بن رمح بن المهاجر المصرى أخبرنا الليث عن ابن الهاد عن عبد الله بن دينار عن عبد الله بن عمر عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أنه قال « يا معشر النساء تصدقن وأكثرن الاستغفار فإنى رأيتكن أكثر أهل النار ». فقالت امرأة منهن جزلة وما لنا يا رسول الله أكثر أهل النار.قال « تكثرن اللعن وتكفرن العشير.........

فی شرح النووي تحته (ج 2 / ص 66،بیروت):

 وفيه ان كفران العشير والاحسان من الكبائر فان التوعد بالنار من علامة كون المعصية كبيرة.

فی فتح الباري - ابن حجر - (ج 1 / ص 83)

 ( قوله باب كفران العشير وكفر دون كفر ) .... وخص كفران العشير من بين أنواع الذنوب لدقيقة بديعة وهي قوله صلى الله عليه و سلم لو أمرت أحدا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها فقرن حق الزوج على الزوجه بحق الله فإذا كفرت المرأه حق زوجها وقد بلغ من حقه عليها هذه.

فی تفسير ابن كثير: (2 / 212،دارالکتب العلمیة):

وقوله تعالى: وعاشروهن بالمعروف أي طيبوا أقوالكم لهن، وحسنوا أفعالكم وهيئاتكم بحسب قدرتكم كما تحب ذلك منها، فافعل أنت بها مثله

فی سنن ابن ماجه (1 / 636 ):

1977 - حدثنا أبو بشر بكر بن خلف ومحمد بن يحيى، قالا: حدثنا أبو عاصم، عن جعفر بن يحيى بن ثوبان، عن عمه عمارة بن ثوبان، عن عطاء، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي».

 واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۵؍جمادی الاول؍۱۴۳۸ھ

۲۳؍فروری؍۲۰۱۷ء