17 Dec, 2017 | 28 Rabiul Awal, 1439 AH

اسلام و علیکم درج ذیل تحریر کے بارے میں صحیح حکم کیا ہے؟؟؟ ⭕ ﺟﻮ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﭩﺎ ﮐﺮ ﺍﺳﮑﯽ ﺟﮕﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﭘﻨﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ۔ 🍀 ﻣﺎﻥ ﻟﻮ ﮐﺴﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺷﺎﺩﯼ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﺎﻡ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﻣﻘﺼﻮﺩ ﻋﻠﯽ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﺟﻮﮌ ﮐﺮ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺳﺎﺟﺪ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ۔ ⭕ ﯾﮧ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ۔ 🍀 ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﻮﺉ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﭩﺎ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﻟﮕﺎﮮٔ۔ 🍀 ﯾﮧ ﮐﻔﺎﺭ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮨﮯ۔ 🍀 ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺳﮑﻮ ﺍﭘﻨﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯٔ۔ 🍀 ﺣﻀﻮﺭ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ -: 🍀 ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ " ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺟﻮﮌﺍ ( ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﺎﭖ ﻧﮩﯿﮟ ) ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﻟﻌﻨﺖ ﮨﮯ " ۔ 🔺 ﺍﺑﻦ ﻣﺎﺟﮧ ﺣﺪﯾﺚ ﻧﻤﺒﺮ 2599 🍀 ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﺩﺭ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ " 🍀 ﮐﺴﯽ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﻨﺎﺧﺖ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﻣﻼﺉ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻔﺮ ﮐﯿﺎ۔ 🍀 ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﻮ ﺟﻮﮌﺍ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﺎﭖ ﻧﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﺎ ﭨﮭﮑﺎﻧﺎ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺎﻟﮯ " ۔ 🔺 ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺷﺮﯾﻒ 3508 🍀 ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻌﺪ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻭﻗﺎﺱ ﯾﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻤﺎ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ 🍀 " ﺟﻮ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺟﻮﮌﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺳﮑﺎ ﺑﺎﭖ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺳﮑﺎ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺑﺎﭖ ﻧﮩﯿﮟ : ﺟﻨﺖ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯٔ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ " ۔ 🔺ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺷﺮﯾﻒ .4072 🍀 ﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﻭﺍﺭﻧﻨﮓ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﻔﺎﺭ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮨﮯ۔ 🍀 ﺣﻀﺮﺍﺕ ﯾﮧ ﮐﻔﺎﺭ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﺑﮍﮮ ﺷﻮﻕ ﺳﮯ ﺍﺳﮑﻮ ﺍﭘﻨﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ 🍀 ﯾﺎﺩ ﺭﮨﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﺭﺷﺘﮧ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮯٔ ﺭﺷﺘﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﭨﻮﭨﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﯽ ﺷﻨﺎﺧﺖ ﺍﻭﺭ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﺍﺳﮑﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﮨﻮﮔﯽ۔ 🍀 ﺍﮔﺮ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﺍﻭﺭ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺣﻀﻮﺭ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﺪﻻ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺗﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﺗﺮﯾﻦ ﺷﺨﺺ ﺗﮭﮯ۔ 🍀 ﺣﻀﺮﺕ خدیجہ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﮨﻤﯿﺸﮧ خدیجہ ﺑﻨﺖ ﺧﻮﺍﻟﺪ ﺭﮨﯿﮟ۔ 🍀 ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺎﺋﯿﺸﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺗﺎ ﻋﻤﺮ ﻋﺎﺋﯿﺸﮧ ﺻﺪﯾﻘﮧ ﺭﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ 🍀 ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﺣﻀﻮﺭ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺑﯿﻮﯾﺎﮞ ﺟﻦ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﻔﺎﺭ ﺗﮭﮯ ﺁﭖ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ۔ 🍀 ﺣﻀﺮﺕ ﺻﻔﯿﮧ ﺑﻨﺖ ﺣﯿﺎﯾﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﺎ ﺑﺎﭖ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﻮﺭ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﺎﻧﯽ ﺩﺷﻤﻦ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ۔ 🍀 ﺣﻀﻮﺭ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺣﻀﺮﺕ ﺻﻔﯿﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﻘﺐ ﮐﻮ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﮮٔ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮐﮭﺎ۔ 🍀 ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮩﺎ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺑﻨﺖ ﻣﺤﻤﺪ ( ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ) ﺭﮨﯿﮟ۔ 🍀 ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮﮌﺍ۔ 🍀 ﮔﺰﺍﺭﺵ ﺟﺲ ﺑﮩﻦ ﻧﮯ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﻻﻋﻠﻤﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﻭﮦ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺳﭽﯽ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻭﺍﭘﺲ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﺟﻮﮌﮮ۔ 🍀 ﮨﻤﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﮐﻮ ﺩﯾﻨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺳﺮﺍﺳﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﮨﮯ۔ 🍀 ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺍﺱ ﭘﻮﺳﭧ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺷﯿﺌﺮ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﮨﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﯿﺖ ﺧﯿﺮ ﮐﺎ ﺛﻮﺍﺏ ﻣﻠﮯ۔

السلام و علیکم درج ذیل تحریر کے بارے میں صحیح حکم کیا ہے

 ﺟﻮ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﭩﺎ ﮐﺮ ﺍﺳﮑﯽ ﺟﮕﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﭘﻨﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ۔ 🍀 ﻣﺎﻥ ﻟﻮ ﮐﺴﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺷﺎﺩﯼ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﺎﻡ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﻣﻘﺼﻮﺩ ﻋﻠﯽ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﺟﻮﮌ ﮐﺮ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺳﺎﺟﺪ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ۔  ﯾﮧ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ۔ 🍀 ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﻮﺉ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﭩﺎ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﻟﮕﺎﮮٔ۔ 🍀 ﯾﮧ ﮐﻔﺎﺭ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮨﮯ۔ 🍀 ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺳﮑﻮ ﺍﭘﻨﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯٔ۔ 🍀 ﺣﻀﻮﺭ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ -: 🍀 ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ " ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺟﻮﮌﺍ ( ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﺎﭖ ﻧﮩﯿﮟ ) ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﻟﻌﻨﺖ ﮨﮯ " ۔ 🔺 ﺍﺑﻦ ﻣﺎﺟﮧ ﺣﺪﯾﺚ ﻧﻤﺒﺮ 2599 🍀 ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﺩﺭ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ " 🍀 ﮐﺴﯽ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﻨﺎﺧﺖ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﻣﻼﺉ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻔﺮ ﮐﯿﺎ۔ 🍀 ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﻮ ﺟﻮﮌﺍ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﺎﭖ ﻧﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﺎ ﭨﮭﮑﺎﻧﺎ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺎﻟﮯ " ۔ 🔺 ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺷﺮﯾﻒ 3508 🍀 ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻌﺪ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻭﻗﺎﺱ ﯾﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻤﺎ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ 🍀 " ﺟﻮ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺟﻮﮌﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺳﮑﺎ ﺑﺎﭖ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺳﮑﺎ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺑﺎﭖ ﻧﮩﯿﮟ : ﺟﻨﺖ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯٔ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ " ۔ 🔺ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺷﺮﯾﻒ .4072 🍀 ﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﻭﺍﺭﻧﻨﮓ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﻔﺎﺭ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮨﮯ۔ 🍀 ﺣﻀﺮﺍﺕ ﯾﮧ ﮐﻔﺎﺭ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﺑﮍﮮ ﺷﻮﻕ ﺳﮯ ﺍﺳﮑﻮ ﺍﭘﻨﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ 🍀 ﯾﺎﺩ ﺭﮨﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﺭﺷﺘﮧ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮯٔ ﺭﺷﺘﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﭨﻮﭨﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﯽ ﺷﻨﺎﺧﺖ ﺍﻭﺭ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﺍﺳﮑﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﮨﻮﮔﯽ۔ 🍀 ﺍﮔﺮ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﺍﻭﺭ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺣﻀﻮﺭ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﺪﻻ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺗﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﺗﺮﯾﻦ ﺷﺨﺺ ﺗﮭﮯ۔ 🍀 ﺣﻀﺮﺕ خدیجہ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﮨﻤﯿﺸﮧ خدیجہ ﺑﻨﺖ ﺧﻮﺍﻟﺪ ﺭﮨﯿﮟ۔ 🍀 ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺎﺋﯿﺸﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺗﺎ ﻋﻤﺮ ﻋﺎﺋﯿﺸﮧ ﺻﺪﯾﻘﮧ ﺭﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ 🍀 ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﺣﻀﻮﺭ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺑﯿﻮﯾﺎﮞ ﺟﻦ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﻔﺎﺭ ﺗﮭﮯ ﺁﭖ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ۔ 🍀 ﺣﻀﺮﺕ ﺻﻔﯿﮧ ﺑﻨﺖ ﺣﯿﺎﯾﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﺎ ﺑﺎﭖ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﻮﺭ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﺎﻧﯽ ﺩﺷﻤﻦ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ۔ 🍀 ﺣﻀﻮﺭ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺣﻀﺮﺕ ﺻﻔﯿﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﻘﺐ ﮐﻮ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﮮٔ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮐﮭﺎ۔ 🍀 ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮩﺎ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺑﻨﺖ ﻣﺤﻤﺪ ( ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ) ﺭﮨﯿﮟ۔ 🍀 ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮﮌﺍ۔ 🍀 ﮔﺰﺍﺭﺵ ﺟﺲ ﺑﮩﻦ ﻧﮯ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﻻﻋﻠﻤﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﻭﮦ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺳﭽﯽ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻭﺍﭘﺲ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﺟﻮﮌﮮ۔ 🍀 ﮨﻤﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﮐﻮ ﺩﯾﻨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺳﺮﺍﺳﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﮨﮯ۔ 🍀 ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺍﺱ ﭘﻮﺳﭧ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺷﯿﺌﺮ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﮨﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﯿﺖ ﺧﯿﺮ ﮐﺎ ﺛﻮﺍﺏ ﻣﻠﮯ

الجواب حامدا ومصلیا

جواب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ نسبت  کی  دو قسمیں ہیں:

1-    کسی سے اپنے نسب  کے اظہار کے لیے ۔

قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں جہاں اپنے آباء کی طرف نسبت کرنے اور غیر آباء کی طرف نسبت نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس سے مراد نسب کے اعتبار سے نسبت کرنا ہے، یعنی، باپ یا دادا وغیرہ کے علاوہ کسی اور کی طرف باپ یا دادا ہونے کی حقیقی نسبت کرنا ناجائز اور گناہ ہے۔ جیسا کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس ممانعت کے حکم سے قبل حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا کہتے ہوئے یوں تذکرہ کرتے تھے زید بن محمد تو اللہ تعالیٰ نے اس بات سے منع فرما دیا اور حکم دیا کہ

{ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ} [الأحزاب: 5]

‘‘ یعنی ان کی نسبت ان کے آباء کی طرف کرکے ان کو بلاؤ، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف والی بات ہے۔ 

اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے زید بن محمد کی بجائے زید بن حارثہ کہنا شروع کر دیا۔ اس سے یہ واضح ہے کہ کسی شخص کا اپنے باپ کو چھوڑ کر کسی اور کی طرف حقیقی بیٹا ہونے کی نسبت کرنا ناجائز اور گناہ ہے۔

اسی  طرح وہ احادیث ، جو سوال میں ذکر کی گئی ہیں، ان سب کا تعلق اسی سے نسب کے اعتبار سے نسبت کرنے سے ہے۔

2-  کسی کی طرف منسوب کرنا تعارف  اور شناخت  کے لیے ،  یہ جائز ہے، لہذا  بیوی کا اپنےنام کیساتھ شوہر کا نام لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ کیونکہ یہ تعارف اور شناخت کے باب سے ہے، جس میں وہم یا اختلاط نسب نہیں ہوتا۔ اپنے نام کے ساتھ والد کے سوا کسی اور  کا نام لگانا یا اسکی طرف نسبت کرنا اس انداز سے ہو کہ  جس سے ولدیت تبدیل نہ ہو ، خود رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم   سےثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے اپنی نسبت اپنے داد کی طرف کرتے ہوئے فرمایا:

 «أَنَا النَّبِيُّ لاَ كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ المُطَّلِبْ»

میں نبی ہوں‘ اس میں کوئی جھوٹ نہیں.. . میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں صحیح البخاری۔

اسی طرح سیدنا مقداد بن الاسود رضی اللہ عنہ الاسود بن عبد یغوث الزہری کے زیر پرورش تھے‘ جس بناء پر وہ مقداد بن الاسود مشہور ہوگئے  حالانکہ انکے والد کا نام عمرو بن ثعلبہ بن مالک البہرانی الکندی تھا۔ چونکہ ان کی ولدیت معروف تھی کہ یہ کس کے بیٹے ہیں ، اس لیے مقداد بن الاسود کہنے یا کہلانے پر کوئی نکیر نہیں کی۔  

اور زیادہ سے زیادہ یہ کہاجاسکتا ہے کہ عورت نے اپنے نام کے ساتھ شوہر کے نام کا لاحقہ لگا کر اپنا نام تبدیل کیا ہے ، تو نام کی تبدیلی عمر کے کسی حصہ پر بھی کی جاسکتی ہے۔  لہذا خاوند کانام اپنے نام کے ساتھ لگانا کوئی عیب نہیں‘ اصل عیب اور ممنوع اور حرام کام اپنے والد کے سوا کسی اور کو اپنا باپ قرار دینا ہے۔

یہ بھی واضح رہے کہ تعارف اور شناخت کا باب بہت وسیع ہے، تعارف اور شناخت کبھی ولاء  کو ذکر کرنے سے ہوتی ہے ،جیسے:

أبي علقمة عن يسار مولى ابن عمر،  عکرمه مولی ابن عباس، ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم، و أبو رافع مولى النبي صلى الله عليه و سلم إسمه أسلم، أبو عبيد مولى عبد الرحمن بن عوف إسمه سعد ويقال له مولى عبد الرحمن بن أزهر۔

اور تعارف اور شناخت کبھی پیشہ ذکرکرنے  سے ہوتی ہے جیسے غزالی ، اوربھی لقب اور کنیت سے ہوتی ہے جیسے أعرج اور ابوحفص، کبھی ماں کی طرف نسبت کر کے ہوتی ہے حالانکہ باپ معروف ہوتا ہے جیسےاسماعیل ابن علیہ۔

قرآن وحدیث میں بعض عورتوں کا تعارف اور شناخت اللہ نے ان کے شوہروں کی نسبت سے کرایا ہے: جیسا کہ  قرآ ن مجید میں  ہے:

{ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَامْرَأَتَ لُوطٍ }[التحريم: 10]

{وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ} [التحريم: 11]

بخاری و مسلم کی روایت ہے ،سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

جَاءَتْ زَيْنَبُ، امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ، تَسْتَأْذِنُ عَلَيْهِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ زَيْنَبُ، فَقَالَ: «أَيُّ الزَّيَانِبِ؟» فَقِيلَ: امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «نَعَمْ، ائْذَنُوا لَهَا»

ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب آئیں اور اجازت طلب کی ،کہا گیا :یا رسول اللہ ! یہ زینب آئی ہیں،آپ نے پوچھا: کونسی زینب؟ کیا گیا :ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی،فرمایا: ہاں اسے آنے کی اجازت دے دو۔ 

اسی طرح  امہات المومنین رضی اللہ عنھن کا تعارف زوجۃ النبیﷺ سے  کریا جاتا تھا۔

تعارف کی خاطر بیوی کا اپنے شوہر کے نام لاحقہ لگانا  نسبت کی  ممنوعہ صورت میں  سرے سے داخل ہی نہیں جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

-1جو خاتون نکاح کے بعد اپنی نسبت اپنے شوہر کی طرف کرے اور اپنے نام کے ساتھ لاحقہ کے طور پر اس کا نام لگائے اس کا ہرگز یہ دعویٰ نہیں ہوتا کہ وہ اس شوہر کی بیٹی ہے اور وہ شوہر اس کا باپ ہے اگر اس کا یہ دعویٰ ہوتا کہ وہ اس شوہر کی بیٹی ہے تو ان کا باہم نکاح ناجائز ہوتاحالانکہ ان دونوں کا نکاح عملاً اس بات کی نفی کرتا ہے۔ 

-2نیز اس لاحقہ لگانے کے انداز میں غور کیا جائے تو اس کی ترتیب یوں ہے مثلاً زینب عبد اللہ  کہ اس میں بیوی کا نام زینب اور شوہر کا نام عبد اللہ ہے اور دونوں کے درمیان ابنیت کے اظہار کیلئے نہ کوئی لفظ موجود ہے اور نہ زبانی اس بات کا دعویٰ ہے، عربی ترکیب کے حوالے سے ان دونوں الفاظ کے مجموعہ کو مرکب اضافی قرار دیا جا سکتا ہے جسکا مطلب ہوگا  کہ عبد اللہ  کی زینب ۔ او ریہ بات بالکل عیاں ہے کہ اس نسبت سے نکاح کے ذریعہ پیدا ہونے والے تعلق کا اظہار درست طریقہ پر ہو رہا ہے کہ یہ زینب اب  زینب عبد اللہ  کی   ہے، یعنی اس کی منکوحہ ہے کسی اور کی طرف منسوب نہیں ہے۔

3 - مذ کورہ لفظ خلافِ واقعہ تب ہوتا جبکہ یہ ترکیب اس طرح ہوتی زینب بنت  عبد اللہ ، عبد اللہ کی بیٹی زینب اور ایسا نہ دعویٰ ہے نہ تصور ہے او رنہ وہم ہے۔ 

4- مذکورہ ترکیب عرفاً مروج ہو چکی ہے اور اس میں کوئی مخطور شرعی بھی لازم نہیں آتا اس لیے اس کو ممنوع قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے،  لہٰذا یہ کسی طرح ان آیات و احادیث کی وعید کے تحت داخل نہیں ہوتا جس میں اپنا نسب بدلنے کی ممانعت منقول ہے۔"

  واللہ اعلم بالصواب        

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۱۰؍جمادی الاول؍۱۴۳۸ھ

۷؍فروری؍۲۰۱۷ء