16 Dec, 2017 | 27 Rabiul Awal, 1439 AH

ولی کی اجازت کے بغير نكاح هو سكتا هي ؟؟؟؟ اگر ولى احازت نه دى اور آپ کو گناه ميں ملوث هوني كا ڈر هو تو کيا پھر بھي نھيں اجازت؟؟؟؟

ولی کی اجازت کے بغير نكاح ہو سكتا ہے ؟؟؟؟ اگر ولى احازت نہ  دے اور آپ کو گناه ميں ملوث ہونے كا ڈر ہو تو کيا پھر بھي نہيں اجازت؟؟؟؟

الجواب حامدا ومصلیا

بالغ عورت خود مختار ہے، چاہے نکاح کرے یا نہ کرے اور جس کے ساتھ چاہے کرے، اس پر  کوئی شخص زبردستی  نہیں کرسکتا۔ لیکن اس کے باوجود بھی  عورت کو چاہیے کہ اپنی خواہش اپنے والدین تک پہنچادےاور اپنی خوشی اور رائے پر اپنے والدین کی  رائے کو ترجیح  دے ؛ کیونکہ ان کا تجربہ بھی زیادہ ہے، اور شفقت بھی کامل ہوتی ہے، اور ادھر والدین کو بھی یہ حکم ہے کہ  وہ اپنی اولاد کے جذبات اور خواہشات کاخیال رکھیں۔ اور والدین کی اجازت کے بغیر کسی سے نکاح کرنا حیا اور مروت اور اخلاق کے خلاف ہے، اور مسلمان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے،  اور جو عورتیں اپنے ولی کی اجازت کے بغیر ، اپنا نکاح خود   کرلیتی  ہیں عام طور  پروہ بعد میں ساری زندگی بے سکونی اور ظلم کے ساتھ گذارتی ہیں، اس لیے اپنے ولی کی اجازت سے ہی نکاح کرنا چاہیے، لیکن اس کے باوجود عورت اگر  اپنے ولی کی  اجازت کے بغیر ، اپنا نکاح خود کسی سے  کرلے تو اس کی  دوصورتیں ہیں:

1-    اس نے   نکاح ایسے لڑکے سے کیا  جو  ذات ، مال اخلاق اور مذہب کے اعتبار سے اس کے جوڑکا ہے ، تو یہ نکاح صحیح ہوجائےگا۔

2-   دوسری صورت یہ ہے کہ وہ لڑکا ذات ، مال اخلاق اور مذہب  کے لحاظ سے لڑکی سے گھٹیا ہے ، تو اس صورت میں  لڑکی کا اپنے طور پر کیا ہوا نکاح ، شرعاً  صحیح نہیں ہوگا، بلکہ وہ لغو اور باطل ہوگا۔

ہمارا آپ کو مشورہ یہ ہے کہ آپ اپنی ساری صورت حال سے  اپنے ولی کو آگاہ  کریں  اور اگر اس بارے میں کوئی رکاوٹ ہے تو دوبارہ اس بارے میں مشورہ کر لینا۔ اور  اللہ سے دعا بھی کریں، نماز اور قرآن پاک پڑھنے کا اہتمام کریں ، ان شاء اللہ مشکل آسان ہوجائے گی۔

حاشية ابن عابدين (3/ 84)

حاصله أن المرأة إذ زوجت نفسها من كفء لزم على الأولياء وإن زوجت من غير كفء لا يلزم، أو لا يصح.

واللہ اعلم بالصواب

محمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۱۰؍ربیع الثانی؍۱۴۳۸ھ

۹؍جنوری ؍۲۰۱۷ء