22 Nov, 2017 | 3 Rabiul Awal, 1439 AH

Dear Musharraf Jelani, Please read the answer below for you question "بندے نے حج تمتع کا احرام پشاور سے باندها. عمره کے بعد احرام کهول دیا. اب چونکہ حج میں تقریبا ۲۰ دن رهتے تهے کہ حاجی صاحب قریبی میقات مسجد عائشہ جعرانه سے پهر احرام باندهہ کر دو دفعہ عمرہ کیا. کیا اس حاجی صاحب پر کهوئی دم یا جرمانہ واجب ہوتا هے. کیا اس سے حج تمتع خراب ہو جاتا ہے.": Answer: یہ حاجی صاحب کہاں کے رہنے والے تھے، جنہوں نے بار بار عمرہ کیا؟ سعودی عرب کے رہنے والے تو نہیں تھے؟ I was asked to clarify my question above. Here is my answer جی نھیں یہ حاجی صاحب پاکستان سے حج گروپ میں تشریف لاۓ تھے سعودی عرب کے رہائشی نہیں تھے

بندے نے حج تمتع کا احرام پشاور سے باندها. عمره کے بعد احرام کهول دیا. اب چونکہ حج میں تقریبا ۲۰ دن رهتے تهے کہ حاجی صاحب قریبی میقات مسجد عائشہ جعرانه سے پهر احرام باندھ کر دو دفعہ عمرہ کیا. کیا اس حاجی صاحب پر کهوئی دم یا جرمانہ واجب ہوتا هے. کیا اس سے حج تمتع خراب ہو جاتا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ یہ حاجی پاکستان کا رہنے والا تھا، سعودیہ کارہنے والا نہیں تھا۔

الجواب حامدا ومصلیا

عمرہ کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے، سال میں صرف پانچ دن ہیں، جن میں حج ہوتا ہے، یعنی ۹ذی الحجہ سے لے کر ۱۳ تک، ان دنوں میں عمرہ کرنا مکروہ  تحریمی  اور ناجائز ہے۔ ان پانچ دنوں کے علاوہ سال بھر میں جب چاہیں، جتنے چاہیں،  عمرہ کرسکتے ہیں۔ (حج کے ضروری مسائل)

لہذا صورت مسؤلہ  مذکورہ حاجی صاحب کا  عمرہ کرنا درست ہے، اور اس کی وجہ سے اس کا  حجِ تمتع خراب نہیں ہوگا۔

   واللہ اعلم بالصواب

      احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

  دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۸؍صفر المظفر؍۱۴۳۸ھ

                 ۲۸؍اکتوبر؍۲۰۱۷ء