16 Dec, 2017 | 27 Rabiul Awal, 1439 AH

Hajj or umrah k doran chehry k pardy k bary me bta dain?

حج اور عمرہ کے دوران چہرے کے پردہ کاکیا حکم ہے؟

الجواب حامدا ومصلیا

عورتوں  پر احرام کی حالت میں( خواہ احرام حج کا ہو یا عمرہ کا ) نا محرم  مردوں سے پردہ کرنا اور ان سے اپنا چہرہ چھپانا  ضروری ہے۔ حج اور عمرہ کے دوران بھی  نامحرم مردوں کے سامنے چہرہ ظاہر کرنا ممنوع ہے۔اور عورت کو احرام کی وجہ سے حکم یہ ہے کہ وہ احرام کی حالت میں چہرہ پر کپڑا نہ لگنےدے۔  چہرہ پر کپڑا نہ لگانا اور بات ہے ، اور غیر محرموں کے سامنے چہرہ کھولنا اور بات ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

عن عائشة قالت كان الركبان يمرون بنا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم محرمات فإذا حاذوا بنا سدلت إحدانا جلبابها من رأسها إلى وجهها فإذا جاوزونا كشفناه.

کہ ہم حالت احرام میں  رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے،  گذرنے والے ہمارے پاس سے گذرتے تھے تو ہم اپنی چادروں کو  چہرہ کے سامنے لٹکالیتے تھے، جب وہ لوگ آگے بڑھ جاتے  تو ہم چہرہ کھول لیتے تھے۔

اس سے صاف معلوم ہوا کہ احرام کی حالت میں بھی عورت اپنے چہرہ کو غیر محرم کے سامنے نہیں کھولے گی۔ اور پردہ ایسے طریقہ سے کرے گی کہ چہرہ پر کپڑا نہ لگے ۔ 

اور آج کل چھجہ والے نقاب ملتے ہیں، جس سے پردہ بھی ہو جاتا ہےاور چہرہ کو کپڑا بھی نہیں لگتا۔        ( مأخذہ : تسہیلِ بہشتی زیور:  ۱ /  ۴۶۹)

            واللہ اعلم بالصواب                 

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۹؍رجب؍۱۴۳۸ھ

۶؍اپریل؍۲۰۱۷ء