22 Oct, 2017 | 1 Safar, 1439 AH

AOA, Dear Sir, hazrat main emahad ka student hun mujhy kuch hajj aur umrah k bary main pochna hai mera sawal ye hai. 1:agr aik admi ko dam par gya hai(umrah ya hajj)main to ic ka kafara janwar ki qurbani k ilwa kuch aur bhi hai k nai?? 2:aur sawal ye hai k tawaaf k douran agar mobile se daikh k parhni hun to parh skty hain k nai?us mn koi gunnah to nai hai agr duaein yad nai hain to. Thanks & Regard, Thair Arshad

السلام علیکم!

حضرت! میں ای معہد کا طالب علم ہوں، مجھے کچھ حج اور عمرہ کے بارے میں پوچھنا ہے۔ میرا سوال یہ ہے  کہ

1-   اگر آدمی  پر دم آگیا ہو حج یا عمرہ میں تو اس کا کفارہ قربانی کے جانور کے علاوہ کچھ اور بھی ہے کہ نہیں؟

2-   طواف کے دوران موبائل سے دیکھ کر دعائیں  پڑھنی ہو تو پڑھ سکتے ہیں یا نہیں  ، اس میں کوئی گناہ تو نہیں ہے، جبکہ دعائیں یاد نہیں ہیں؟  

الجواب حامدا ومصلیا

1-   مندرجہ ذیل پانچ قسم کی جنایتیں ایسی ہیں کہ  اگر یہ عذر سے کی جائیں تو ان کی جن صورتوں میں دم لازم ہوتا ہے، وہاں جنایت کرنے والے کو اختیار ہوتا ہے کہ دم دے دے، یا تین روزے رکھ لے، یا چھ مسکینوں کو صدقہ دےدے ، یعنی ہر مسکین کو ایک ایک صدقۃ الفطر کی مقدار دے۔

وہ پانچ قسم کی جنایتیں یہ ہیں:

1-  بدن، یا کپڑوں، یا کھانے پینے میں خوشبوں کا استعمال کرنا۔

2-  سلا ہوا کپڑا، یا بوٹ، موزے وغیرہ استعمال کرنا۔

3-  سر یا چہرے کا ڈھانپنا۔

4-  جسم کے کسی حصے کے بال مونڈنا، یا کٹوانا۔

5-  ناخن کاٹنا۔

ان جنایات کے علاوہ باقی جنایات اگر عذر کی وجہ سے بھی تو یہ اختیار نہیں ملتا،  بلکہ دم ہی دینا پڑےگا۔

یہ بھی واضح رہے کہ ان پانچ قسم کی جنایتوں میں آسانی کا ذکر اوپر آیا ہے، وہ بھی ہر عذر میں نہیں  ملتی، بلکہ اس کے لیے خاص قسم کے عذر مقرر ہیں، جو مندرجہ ذیل ہیں:

بخار۔ زخم،پھوڑا، پھنسی۔ درد سر۔ شدید سردی۔  شدید گرمی۔ جوؤں کی زیادتی۔ ہر وہ تکلیف یا بیماری جس میں مشقت زیادہ  ہو۔ (کذا فی رفیق حج : 154-157،  مؤلفہ: مفتی محمد رفیع عثمانی مدظلہ)

2-   کتاب ، یا موبائل سے بھی دیکھ کر پڑھ سکتے ہے۔(مأخذہ : فتاوی دار العلوم دیوبند :6/338)۔ البتہ دعا ایک کیفیت کا نام ہے، لہذا دوران طواف  کچھ وقت لکھی ہوئی دعاؤں کے ساتھ توجہ اور عاجزی کے ساتھ  زبانی بھی، خواہ اپنی ہی زبان میں کیوں نہ ہو، دعاکرنی چاہیے۔

فی الدر المختار (2/ 557)

( تصدق بنصف صاع من بر ) كالفطرة ( وإن طيب أو حلق ) أو لبس ( بعذر ) خير إن شاء( ذبح ) في الحرم ( أو تصدق بثلاثة أصوع طعام على ستة مساكين ) أين شاء ( أو صام ثلاثة أيام ) ولو متفرقة.

وفی حاشية ابن عابدين (2/ 557)

قوله ( بعذر ) قيد الثلاثة وليست الثلاثة قيدا فإن جميع محظورات الإحرام إذا كان بعذر ففيه الخيارات الثلاثة كما في المحيط. وأما ترك شيء من الواجبات بعذر فإنه لا شيء فيه على ما مر أول الباب عن اللباب وفيه ومن الأعذار الحمى والبرد والجرح والقرح والصداع والشقيقة والقمل ولا يشترط دوام العلة ولا أداؤها إلى التلف بل وجودها مع تعب ومشقة يبيح ذلك وأما الخطأ والنسيان والإغماء والإكراه والنوم وعدم القدرة على الكفارة فليست بأعذار في حق التخيير ولو ارتكب المحظور بغير عذر فواجبه الدم عينا أو الصدقة فلا يجوز عن الدم طعام أو صيام ولا عن الصدقة صيام فإن تعذر عليه ذلك بقي في ذمته.

  واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۵؍ذی الحجہ؍۱۴۳۷ھ

۲۸؍ستمبر ؍۲۰۱۶ء