16 Dec, 2017 | 27 Rabiul Awal, 1439 AH

Ehram ki haalat ki pabandiya batadai barayai meherbaani or ehraam ki halat mai parda kaise kiya jaye

احرام کی حالت کی پاپندیاں بتادیں، برائے مہربانی ، اور احرام کی حالت میں پردہ کیسے کیا جائے؟

الجواب حامدا ومصلیا

حج یاعمرہ کی نیت  کرکے تلبیہ پڑھ لینے سے احرام بندھ جاتاہے، اس کےبعد کچھ چیزیں ایسی ہیں جو احرام میں منع ہیں، ان کو احرام کی پاپندیاں بھی کہتے ہیں اور ممنوعات احرام بھی کہاجاتاہے۔ پھر کچھ پاپندیاں ایسی ہیں کہ مرد اور عورت دونوں کے لیے ہیں، اور کچھ ایسی ہیں جو صرف مرد کے لیے ہیں۔

مرد وعورت دونوں کے لیے:

1-    ناخن تراشنا

2-   جسم کسی حصے کے بال  کاٹنا

3-   خوشبو لگانا

4-   میاں بیوی والے خاص تعلق، اور شہوت کی کوئی بات یاکام کرنا۔

صرف مردوں کے لیے

5-   احرام کی حالت میں مرد کو سلاہواکپڑا پہننا، جو پورے بدن یا کسی ایک عضو کی ہیئت اور بناوٹ کے مطابق تیار کیا گیاہو، منع ہے۔

6-  مرد کے لیے سراور چہرہ  دونوں کا ڈھانکنا منع ہے، عورت کے لیے صرف چہرے کو ڈھانکنامنع ہے۔لیکن چہرے کا پردہ کرنا لازم ہے، اس کے لیے چھجے والی ٹوپی،یا نقاب استعمال کرے، تاکہ نقاب کاکپڑا چہرے کو نہ لگے۔

7-   دستانے یا موزے پہننا ، ایسی چپل  بھی ممنوع ہے جوپیر کی پشت کی بیچ میں ابھری ہوئی ہڈی کو ڈھانک دے۔

ان کے علاوہ دو چیزیں ایسی ہیں جو حدود حرم میں ہر ایک کے لیے ممنوع ہیں:

1-  کسی جاندارکو ستانا یا شکار کرنا۔

2-  قدرتی گھاس ، پودا یا درخت کاٹنا۔

الدر المختار (2/ 486)

( وبعده ) أي الإحرام بلا مهلة ( يتقي الرفث ) أي الجماع أو ذكره بحضرة النساء ( والفسوق ) أي الخروج عن طاعة الله ( والجدال ) فإنه من المحرم أشنع ( وقتل صيد البر لا ) البحر ( والإشارة إليه ) في الحاضر ( والدلالة عليه في الغائب ) ومحل تحريمهما إذا لم يعلم المحرم أما إذا علم فلا في الأصح ( والتطيب ) وإن لم يقصده وكره شمه ( وقلم الظفر وستر الوجه ) له أو بعضه كفمه وذقنه نعم في الخانية لا بأس بوضع يده على أنفه ( والرأس ) بخلاف الميت وبقية البدن ولو حمل على رأسه ثيابا كان تغطية لا حمل عدل وطبق ما لم يمتد يوما وليلة فتلزمه صدقة وقالوا لو دخل تحت ستر الكعبة فأصاب رأسه أو وجهه كره وإلا فلا بأس به ( وغسل رأسه ولحيته بخطمي ) لأنه طيب أو يقتل الهوامبخلاف صابون ودلوك وأشنان اتفاقا زاد في الجوهرة وسدر وهو مشكل ( وقصها ) أي اللحية ( وحلق رأسه و ) إزالة ( شعر بدنه ) إلا الشعر النابت في العين فلا شيء فيه عندنا ( ولبس قميص وسراويل ) أي كل معمول على قدر بدن أو بعضه كزردية وبرنس ( وقباء ) ولو لم يدخل يديه في كميه جاز عندنا( وعمامة ) وقلنسوة ( وخفين إلا أن لا يجد نعلين فيقطعهما أسفل من الكعبين ) عند معقد الشراك فيجوز لبس الزرموزة لا الجوربين ( وثوب صبغ بما له طيب ) كورس وهو الكركم وعصفر وهو زهر القرطم ( إلا بعد زواله ) بحيث لا يفوح في الأصح.

       واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۱۶؍شوال؍۱۴۳۷ھ

۲۱؍جولائی ؍۲۰۱۶ء