25 Apr, 2018 | 9 Syaaban, 1439 AH

Asslam o alikum, If all four Imams of fiq are on right path then why it is necessary to follow one Imam,can’t we take any problem solution from any one though they all drived these solutions from Quran and Ahadees, please guide me. Jzakallah

الجواب حامدا ومصلیا

1- قرآن ِ کریم اور سنت ِ مطہرہ کے اعتبار سے چاروں أئمہ کرام ہدایت پر ہیں ، لہذا چاروں اماموں کو برحق ماننا اور ان کے مذاہب اور اصول کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔

 البتہ چاروں اماموں میں سے کسی ایک کی تقلید اور اس کے اصول پر عمل کرنا اس لیے  واجب ہے ، تا کہ خواہشات ِ نفسانی کا اتّباع لازم نہ آئے۔  اتّباع ہویٰ (خواہشات ِ نفسانی کا اتّباع) قرآن کریم  کی بیشمار تصریحات کے مطابق سنگین گناہ ہے ۔  اگر اس بات کی کھلی اجازت دے دی جائے کہ جس امام  کا چاہو ،قول اختیار کرو، تو دین ایک کھلونا بن کر رہ جائے گا ، کیونکہ اکثر مجتہدین  وائمہ کرام کے یہاں کچھ نہ کچھ منفرد اقوال ایسے ملتے ہیں جوہمارےاعتبار سے  خواہشات ِ نفس کے مطابق ہوتے ہیں ، اگر کوئی شخص ایسے اقوال کو تلاش کر کے ان پر عمل کرنا شروع کر دے گا تو ایک ایسا دین تیار ہو جائے گا جس کا بانی سوائے شیطان اور نفس کے کوئی نہیں ہو گا ۔ قرونِ اولیٰ میں دیانت عام تھی ، اس لئے تقلید ِ مطلق میں اتّباع ِ ہویٰ( خواہشات ِ نفسانی کے اتّباع)  کا کوئی خطرہ نہیں تھا ، لیکن بعد میں دیانت کا وہ معیار باقی نہیں رہا ،لہذا اگر تقلید ِ مطلق کا دروازہ کھلا رکھا گیا تو لوگ اپنے نفس کی خواہشات کے مطابق جس امام کے قول میں آسانی دیکھیں گے، اسے اختیار کر لیں گے ، اور یہ وہ سنگین گمراہی ہے جس کے خلافِ اسلام ہونے میں کسی کو شبہ نہیں ،اور خود علامہ ابن ِ تیمیہ ؒ نے اپنے فتاویٰ میں اس طرزِ عمل کو انتہائی مذموم قرار دیا ہے ۔

            خلاصہ یہ کہ تقلید ِ مطلق کی کھلی اجازت دینے میں اس قسم کے اتّباع ِ ہویٰ کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا تھا، اس لئے علماء نے چوتھی صدی ہجری میں تقلید ِ شخصی کو واجب اور ضروری قرار دیدیا ۔

اس وجہ سے ہم کسی مسئلے کا حل ہر امام سے نہیں لے سکتےاگرچہ سارے ائمہ  کرام قرآن اور احادیث سے ہی حل نکالتے ہیں۔                                                                                          (درسِ ترمذی بتصرف:۱؍۱۲۰(

2-   ساتھ یہ بھی ہے کہ جس علاقہ میں جس امام کی  فقہ رائج ہو،  اس  کے مسائل جاننا بھی آسان ہوتاہے، جس امام  کی فقہ رائج نہ ہو، تو اس کے مسائل بتلانا والے بھی اس علاقہ میں نہیں ہوتے۔            

اس موضوع پر  مزید تفصیل کے لئے درج ذیل کتب کا مطالعہ فرمائیں :

            ۱۔ ‘‘اختلافِ امّت اور صراطِ مستقیم ’’ از حضرت مولانا یوسف لدھیانوی  صاحب ؒ

            ۲۔ ‘‘ اسبابِ اختلافِ الأئمہ’’ از شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب ؒ

            ۳۔ ‘‘تقلید کی شرعی حیثیت ’’از حضرت مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکات

                             واللہ اعلم بالصواب

         احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

  دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۱۴ ؍ رجب المرجب  ؍ ۱۴۳۹ھ

۱ ؍اپریل   ؍ ۲۰۱۸ء