22 Oct, 2017 | 1 Safar, 1439 AH

Aslam o alikum I want to know about Auliya the titles use ghous quthb abddals does these titles are proven by quran or hadees secound can you explain ki kashf kiya hai kiys nabi saw ki elawa bhi wahi ya gaib ka ilm hai kiya kashf bhe wahi hoti hai jazakhallah waiting for replt

السلام علیکم!

1-   میں جاننا چاہتا ہوں کہ اولیاء جو القاب استعمال کرتے ہیں، غوث، قطب، ابدال وغیرہ ، کیا قرآن وحدیث  سے یہ القاب ثابت ہیں؟

2-   دوسری بات یہ کہ کشف کیا ہے ؟ کیا کشف بھی وحی ہے؟

3-    کیا نبی کریم ﷺ کےعلاوہ بھی کسی کو وحی یا غیب کا علم حاصل ہوسکتا ہے، ؟

الجواب حامدا ومصلیا

1-  غوث، ابدال ، قطب، یہ اولیا کے مراتب ہیں، حدیث میں صرف  ابدال کا ذکر ملتا ہے۔ چونکہ یہ اصطلاحات عوام کے موضوع کی چیزیں نہیں ، اور نہ ان اصطلاحات پر کسی عقیدے اور عمل کا مدار ہے، اس لیے ان کی تشریح کے درپے ہونے کی ضرورت نہیں۔

2-  بعض اوقات آدمی پر کسی چیز کی حقیقت کھول دی جاتی ہے، اور اس سے پردے اٹھادیئے جاتے ہیں، اس  کو کشف کہتے ہیں۔  نبی کے علاوہ کسی اور کو کشف ہوسکتا ہے، لیکن وہ وحی نہیں ہے، اور حجت بھی نہیں، نہ اس کے ذریعہ سے کوئی حکم ثابت ہوگا۔ کشف اگر شریعت کے موافق ہو تو صاحب کشف کے لیے اس پر عمل کرنا جائز ہوتا ہے، اور اگر شریعت کے مخالف ہو تو وہ مردود ہے، اس پر عمل کرنا بالکل جائز نہیں ۔

3-    اصل علم غیب سب کا سب اللہ تعالی کے ساتھ مخصوص  ہے، پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے علم غیب میں سے احکام غیب( شریعت کے احکام) انبیاء علیھم السلام بذریعہ وحی بتلائے ہیں۔ اور اَکْوان غیب ( یعنی میں دنیا میں آنے والے واقعات )کا علم، جزوی  جزوی طور پر انبیاء علیہم السلام کو بذریعہ وحی، اور کسی ولی کو بذریعہ الہام ، جس قدر اللہ کو منظور ہوتاہے، عطافرمادیا جاتا ہے، جو منجانب اللہ عطاکیا ہوا ہوتا ہے۔ اس کو حقیقی معنی میں علم غیب نہیں کہا جاتا، بلکہ اَنْباءُ الغیب (غیب کی خبریں) کہا جاتا ہے۔ (معارف القرآن : ۵۵/۷)

تفسير الألوسي (4/ 424)

وقد عد الشيخ قدس سره فيها أنواعاً كثيرة ، والسلفيون ينكرون أكثر تلك الأسماء ، ففي بعض «فتاوي ابن تيمية» ، وأما الأسماء الدائرة على ألسنة كثير من النساك والعامة مثل الغوث الذي بمكة والأوتاد الأربعة والأقطاب السبعة ، والأبدال الأربعين والنجباء الثلثمائة ، فهي ليست موجودة في كتاب الله تعالى ولا هي مأثورة عن النبي صلى الله عليه وسلم لا بإسناد صحيح ولا ضعيف محتمل إلا لفظ الأبدال ، فقد روي فيهم حديث شامي منقطع الإسناد عن علي كرم الله تعالى وجهه مرفوعاً إلى النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال : " إن فيهم يعني أهل الشام الأبدال أربعين رجلاً كلما مات رجل أبدل الله تعالى مكانه رجلاً " ولا توجد أيضاً في كلام السلف انتهى.

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (15/ 462)

لم يعتبر أحد من الفقهاء جواز العمل في الفروع الفقهية بما يظهر للصوفية من الأمور الكشفية أو من الحالات المنامية ولو كانت منسوبة إلى الحضرة النبوية على صاحبها أفضل الصلاة وأكمل التحية.

روح المعاني (6/ 207)

من يشرك بالله أى شيئا فى عبادته سبحانه أو فيما يختص به من الصفات والافعال كنسبة علم الغيب وإحياء الموتى بالذات إلى عيسى عليه السلام فقد حرم الله عليه الجنة.

تفسير الفخر الرازى (ص: 2005)

علم الغيب ليس إلا لله سبحانه وتعالى.

 واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۶؍ذی الحجہ؍۱۴۳۷ھ

۲۹؍ستمبر ؍۲۰۱۶ء