22 Oct, 2017 | 1 Safar, 1439 AH

Aslam o alikum My question is about learning ilm ul addad is it allowed in sahria to learn this knoweledge and practise it i have seen some scholars using it is it allowed to predict future through it jazakhallah waiting for reply

السلام علیکم!

علم الاعداد کے بارے میں شریعت  کا کیا حکم ہے؟کیا شریعت مطہرہ اس کی اجازت دیتی ہے کہ اس کو سیکھا جائےاور عمل میں لایا جائے؟ کیا یہ بات جائز ہے کہ اس کو اس علم کے ذریعے مستقبل کی پیشن گوئی کی جائے ۔  ؟

الجواب حامدا ومصلیا

قسمت کا حال اللہ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں، اللہ تعالیٰ کی عالی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کے حکم کے مطابق کام کیا جائے ، اللہ تعالیٰ نے جن کاموں کو کرنے کا حکم دیا ہے اس کو کرے، اور جن کاموں سے بچنے کا حکم دیا ہے اس سے بچے، اسی میں خیر ہے، اور اسی میں دلوں کا سکون اور اطمینان ہے۔

علم الاعدادکا سیکھنا، اور اس کوعمل میں لانا، ،مستقبل  کی پیشن گوئی کرنا، یہ سب نا جائز  ہے، اور ایسے آدمی کے پاس اس غرض سے جانا بھی جائز نہیں۔علم الاعداد پر یقین رکھنا گناہ ہے، اس کو موثر حقیقی سمجھنا کفرہے ۔  لہذا اس سے مکمل طور پراجتناب ضروری ہے۔

(کذا فی: آپ کے مسائل اور ان کا حل)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1/ 43)

وحراما، وهو علم الفلسفة والشعبذة والتنجيم والرمل وعلوم الطبائعيين والسحر والكهانة، ودخل في الفلسفة المنطق، ومن هذا القسم علم الحرف (قوله: علم الحرف) يحتمل أن المراد به الكاف الذي هو إشارة إلى الكيمياء، ولا شك في حرمتها لما فيها من ضياع المال والاشتغال بما لا يفيد. ويحتمل أن المراد به جمع حروف يخرج منها دلالة على حركات. ويحتمل أن المراد علم أسرار الحروف بأوفاق الاستخدام وغير ذلك. ويحتمل أن المراد الطلسمات، وهي كما في شرح اللقاني نقش أسماء خاصة لها تعلق بالأفلاك والكواكب على زعم أهل هذا العلم في أجسام من المعادن أو غيرها تحدث لها خاصة ربطت بها في مجاري العادات.

واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۹؍ذی الحجہ؍۱۴۳۷ھ

۲؍نومبر ؍۲۰۱۶ء