21 Oct, 2017 | 30 Muharram, 1439 AH

As wr wb. Kia Nabi S.W.a.w hayat hain? Log boltay hain ki wo hayat hain?? Please mein bohat confuse horai hon aap bta dain jazakillah?

السلام علیکم!

کیا نبی کریم ﷺ حیات ہیں؟ لوگ کہتے ہیں کہ وہ حیات ہیں، برائے مہربانی اس بارے آپ رہنمائی فرمادیں، میں بہت پریشان ہورہی ہوں؟

الجواب حامدا ومصلیا

انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام سمیت تمام مخلوقات کو موت آتی ہے، البتہ موت کے بعد ہر انسان کو برزخی زندگی سے واسطہ پڑتاہے، برزخی زندگی کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی روح کا اس کے جسم کے ساتھ کسی قدر تعلق رہتا ہے، یہ تعلق عام انسانوں میں بھی ہوتا ہے، مگر اتنا کم کہ اس کے اثرات محسوس نہیں ہوتے۔ شہداء کی روحوں کا تعلق ان کے جسموں کے ساتھ عام انسانوں کے مقابلہ میں زیادہ ہوتا ہے، اس لیے قرآن کریم نے شہداء کو زندہ قرار دیا ہے، اور انبیاء علیہم السلام کا درجہ شہداء سے اونچاہے، اس لیے انبیاء علیہم السلام کی روحوں کا تعلق ان کے جسموں کے ساتھ سب سے زیادہ ہوتا ہے، یہاں تک کہ ان کی میراث بھی تقسیم نہیں ہوتی، اور ان کی بیویوں کا نکاح بھی دوسری جگہ نہیں ہوسکتا۔  چونکہ ان کی روحوں کا تعلق ان کے جسموں کے ساتھ سب سے زیادہ ہے اس لیے ان کی حیات برزخی عام مسلمانوں کے مقابلے میں اتنا زیادہ قوی ہے، ہے کہ وہ حیات دنیوی سے بہت قریب ہے، مگر یہ حیات ایسی نہیں ہے جیسے انہیں موت سے پہلے حاصل تھی۔ اس لیے اہلِ سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ آپﷺاور دیگر انبیاء علیہم الصلٰوۃوالسلام جسدِعنصری کے ساتھ اپنی قبروں میں حیات ہیں اور ان کی یہ حیات دنیا کی سی ہے سوائے اس کے کہ وہ احکامات کے مکلف نہیں ۔یہ عقیدہ متعدد احادیث  سے ثابت ہے ۔ جیسے آپ ﷺ کا فرمان ہے: ‘‘انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں ، نماز پڑھتے ہیں’’۔ اور اسی  وجہ  سے روضہءِاطہر پر پڑھے گئے درود و سلام کو بغیر کسی واسطے کےآپﷺ خود سماعت فرماتے ہیں، اورجو درود و سلام دور  سے پڑھاجاتاہے  اللہ تعالٰی کے فرشتے مقرر ہیں جو آپ ﷺ تک وہ درودوسلام پہنچاتے ہیں اور آپ ﷺ اس کا  بھی جواب  دیتے ہیں۔(ملاحظہ ہوحدیث نمبر۴،۵،۶،۷۔ وکذا فی فتاوی عثمانی)

واضح رہے کہ یہ اہل سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے، اس میں زیادہ غور و خوض اور بحث و مباحثہ کرنا صحیح نہیں ہے۔

1.     مسند أبي يعلى الموصلي - (7 / 445)

عن ثابت البناني ، عن أنس بن مالك ، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « الأنبياء أحياء في قبورهم يصلون »(وكذا رواه البزاز)

2.    فتح الباري لابن حجر - (10 / 243)

 أن الأنبياء أفضل من الشهداء والشهداء أحياء عند ربهم فكذلك الأنبياء فلا يبعد أن يصلوا ويحجوا ويتقربوا إلى الله بما استطاعوا ما دامت الدنيا وهي دار تكليف باقية، وقد جمع البيهقي كتابا لطيفا في حياة الأنبياء في قبورهم أورد فيه حديث أنس " الأنبياء أحياء في قبورهم يصلون " أخرجه من طريق يحيى بن أبي كثير وهو من رجال الصحيح

3.    نيل الأوطار - (5 / 331)

 وَوَرَدَ النَّصّ فِي كِتَابِ اللَّهِ فِي حَقّ الشُّهَدَاءِ أَنَّهُمْ أَحْيَاء يُرْزَقُونَ وَأَنَّ الْحَيَاة فِيهِم ْمُتَعَلِّقَة بِالْجَسَدِ فَكَيْف بِالْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ .

وَقَدْ ثَبَتَ فِي الْحَدِيثِ { أَنَّ الْأَنْبِيَاءَ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ } رَوَاهُ الْمُنْذِرِيُّ وَصَحَّحَهُ الْبَيْهَقِيُّ . وَفِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : { مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بِمُوسَى عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ }

4.     سنن أبي داود - (3 / 239)

 عن أوس بن أوس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن من أفضل أيامكم يوم الجمعة فيه خلق آدم وفيه قبض وفيه النفخة وفيه الصعقة فأكثروا علي من الصلاة فيه فإن صلاتكم معروضة علي قال قالوا يا رسول الله وكيف تعرض صلاتنا عليك وقد أرمت يقولون بليت فقال إن الله عز وجل حرم على الأرض أجساد الأنبياء(وکذارواه النسائي وابن ماجة واحمدوالحاكم وقال على شرط الشيخين واقره الذهبى والدارمي وابن خزيمة

5.     مشكاة المصابيح - (1 / 204)

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من صلى علي عند قبري سمعته ومن صلى علي نائيا أبلغته " . رواه البيهقي في شعب الإيمان

6.    مشكاة المصابيح - (1 / 202)

 وعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إن لله ملائكة سياحين في الأرض يبلغوني من أمتي السلام " . رواه النسائي والدارمي واحمدوالحاكم وقال صحيح الاسنادواقره الذهبي وعبدالرزاق في مصنفه والطبراني والبيقي في شعب الايمان وابن ابي شيبة وابن حبان وابويعلى الموصلي والبزاز)

7.    سنن أبي داود - (باب زيارة القبور)

عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ما من أحد يسلم علي إلا رد الله علي روحي حتى أرد عليه السلام(ورواه احمدوالبيهقي والطبراني).

وفی تکملة فتح الملهم – (5/32)

فالحقائق التی یجب الاعتراف بھا بمقتضی النصوص ھی:

1-     ان لأرواح الانبیاء الشریفۃ بعد وفاتھم تعلقا قویا باجسادھا.

2-     وان ھذا التعلق اقوی بکثیر من تعلق ارواح غیرھم من الوتی باجسادھم.

3-  وبفضل ھذا التعلق حدث لھم من خصائص الحیاۃ السابقۃ علی وفاتھم ما قد علم بالنصوص.

4-  وإن ھذا التعلق القوی یصح التعبیر عنہ بالحیاۃ وعن اصحابہ بالاحیاء کما ورد فی النصوص.

5-  وان ھذہ الحیاۃ الحاصلۃ لھم بعد وفاتھم لیست الحیاۃ الدنیویۃ بعینھا او بجمیع خصائصھا، بل ھی فی مثل الحیاۃ الدنیویۃ  فی بعض خصائصھا المنصوصۃ جزما، وفی بعضھا احتمالا، ومادام الانسان یعترف بھذہ الحقائق فانہ موافق لعقیدۃ اھل السنۃ والجماعۃ، ولا حاجۃ الی الخوض فی تفاصیلھا مما ذکرنا.

 واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۱۷؍ذی الحجہ؍۱۴۳۷ھ

۲۰؍ستمبر ؍۲۰۱۶ء