22 Oct, 2017 | 1 Safar, 1439 AH

Istakhara karay insaan kisi chez k liye aur pahlay din e bohat acha ishara mil jai to kiya us k bad bhi continue rakhna chaheyay? agar haan to aur kitnay din karein, aur agr nahi to bus foran faisala kr laina chaheyay?

 

استخارہ کرے انسان کسی چیز کے لیے، اور پہلے دن ہی بہت اچھا اشارہ مل جائے تو کیا اس کے بعد بھی اس کو جاری رکھنا چاہیے؟ اگر جاری رکھناچاہیے تو کتنے دن  کرنا چاہیے؟اور اگر جاری نہیں رکھنا چاہیے  تو بس فوراً فیصلہ کرلینا چاہیے؟

الجواب حامدا  ومصلیا

کسی مباح اوراہم کام کے بارے میں انسان کشمکش میں مبتلاہوکہ یہ کام کروں یانہ کروں تو ایسے موقع پر استخارہ اورمشورہ کرناشرعاًمسنون اوردنیااورآخرت میں باعثِ برکت ہے ،اورقرآن وحدیث میں دونوں کی بہت ترغیب آئی ہے ،چنانچہ استخارہ کے بارے میں ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ :

 من سعادة ابن آدم استخارته الله ورضاه بما قضى الله عليه، ومن شقاوة ابن آدم تركه استخارة الله، وسخطه بما قضى الله عز وجل

یعنی ابن آدم کی خوش نصیبی اورسعادت مندی ان کااللہ تعالی سے خیرمانگنا(استخارہ کرنا) ہے اوران پراللہ نے جوفیصلہ فرمایاہے اس پرراضی رہناہے اوراولادآدم کی بدبختی اور بدنصیبی اللہ سے خیرطلب کرنے کاچھوڑدینااوراللہ کے فیصلہ پرناراض ہوناہے۔ (شعب الايمان للبیہقی ۱:۲۱۹)

مشورہ کرنے کی اہمیت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ خوداللہ رب العلمین نے حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کویہ حکم دیتے ہوئے فرمایا:

وشاورهم فی الامر

اوران سے اہم معاملات میں مشورہ لیتےرہو(سورة الشوری آيت ۱۵۹)

اورایک دوسری حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایاکہ :

من أراد أمرا فشاور فيه وقضى لله هدي لأرشد الأمور

یعنی جوشخص کسی کام کاارادہ کرے اورباہم مشورہ کرنے کے بعد اس کے کرنے یانہ کرنے کافیصلہ کرے تواللہ تعالی کی طرف سے اس کوصحیح اورمفیدصورت کی طرف ہدایت ملتی ہے(شعب الایمان للبیہقی۷۵:۶)

استخارہ سے دو فائدے حاصل ہوتے ہیں:

1-    ایک دل کا کسی ایک جانب متفق ہوجانا۔

2-    جس کام میں خیر ہوتی ہے، اس کے اسباب کا میسر ہوجانا۔ خواب میں کسی چیز کا آجانا، یا اشارہ مل جانا ضروری نہیں۔

 صورت مسؤلہ میں  جب پہلے دن  دل کا خلجان اور تردّد ختم  ہوگیا، اور دل  میں ایک بات آگئی، تو دوسرے دن استخارہ کرنا لازمی نہیں، البتہ  اس کے بعدصالح، تجربہ کار خیر خواہ لوگوں سے مشورہ  بھی کا جاسکتا ہے،  پھر اس کے بعد کوئی فیصلہ کرلیا جائے۔

واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۱۷؍ذی الحجہ؍۱۴۳۷ھ

۲۰؍ستمبر ؍۲۰۱۶ء