17 Dec, 2017 | 28 Rabiul Awal, 1439 AH

Ghar main Dog rakhna theek hai? Shari'yt is baray main kiya kehty hai?

گھر میں کتا پالنا ٹھیک ہے؟ شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے؟

الجواب حامدا ومصلیا

کتا پالنا، اس  کوگھر میں رکھنا درست نہیں ، گناہ اور معصیت  کا کام ہے، البتہ اگر کوئی شخص مکان کی حفاظت کے لیے ، یا کھیت کی یا  مویشی کی حفاظت کے لیے یا شکار کی ضرورت کے لیے  کتا پالتا ہے، تو یہ جائز ہے ۔

 حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ فرشتے ایسے  گھر میں داخل  نہیں ہوتے ، جس گھر میں کتا یا تصویر ہو۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ  عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو جانور وں کے محافظ کتے، یا شکار ی، یا کھیتی کے کتے علاوہ کتا پالتاہے، تو ہر روز اس کے اجر(ثواب) میں سے دو قیراط (ساڑھے تین رتی)گھٹ جاتے ہیں۔

سنن أبى داود - (4 / 121)

 عن أبى طلحة الأنصارى قال سمعت النبى -صلى الله عليه وسلم- يقول « لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا تمثال ».

سنن الترمذي - (4 / 79)

عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من اقتنى كلبا ليس بضار ولا كلب ماشية نقص من أجره كل يوم قيراطان.

البحر الرائق - (6 / 188)

في فتح القدير والانتفاع بالكلب للحراسة والاصطياد جائز إجماعا لكن لا ينبغي أن يتخذ في داره إلا إن خاف اللصوص أو عدوا وفي الحديث الصحيح من أقتنى كلبا إلا كلب صيد أو ماشية نقص من أجره كل يوم قيراطان .

حاشية ابن عابدين - (5 / 227)

والبيوت والزرع فيجوز بالإجماع لكن لا ينبغي أن يتخذه في داره إلا إن خاف لصوصا أو أعداء للحديث الصحيح من اقتنى كلبا إلا كلب صيد أو ماشية نقص من أجره كل يوم قيراطان.

 واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۳؍ذو الحجہ؍۱۴۳۷ھ

۶؍ستمبر ؍۲۰۱۶ء