22 Nov, 2017 | 3 Rabiul Awal, 1439 AH

Kya aj kal market me jo boski(resham) ka libas milta he use pehna jaiz he ya nh

آجکل مارکیٹ میں   جو بوسکی ( ریشم ) کا لباس ملتا ہے، اسے پہننا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامدا ومصلیا

واضح رہے کہ ہماری معلومات کے مطابق آجکل بازاروں میں جو بوسکی دستیاب ہیں، وہ عام طور پر مصنوعی ریشم سے بنے ہوئے ہوتے ہیں، لہذا اس کا مردوں کے لیے استعمال جائز ہے، بشرطیکہ اس میں عورتوں کے ساتھ مشابہت نہ  ہو۔ البتہ اگرکوئی کپڑا اصلی ریشم کا بنا ہوا ہو، تو اگر اس کا   تانا  اصلی ریشم کااور بانا کسی اور چیز کا ہے،تو  مردوں کے لیے اس کا استعمال ممنوع نہیں ہے۔ ہاں اگر اس کا صرف بانا اصلی ریشم  کا ہو، اور تانا کسی اور چیز کا ہو، یا تانا بانا دونوں اصلی ریشم کا ہو  تو وہ ممنوع ہے۔

سنن الترمذي : باب  ما جاء في الحرير والذهب

عن أبي موسى الأشعري : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال حرم لباس الحرير والذهب على ذكور أمتي وأحل لإناثهم.

وقال الامام الترمذی :و حديث أبي موسى حديث حسن صحيح.

فی الدر المختار (6/ 356)

  ( يحرم لبس الحرير ولو بحائل ) بينه وبين بدنه ( على المذهب ) الصحيح ....( و ) يحل ( لبس ما سداه إبريسم ولحمته غيره ) ككتان وقطن وخز لأن الثوب إنما يصير ثوبا بالنسج والنسج باللحمة فكانت هي المعتبرة دون السدي.

وفی حاشية ابن عابدين (6/ 351)

قال في المغرب الحرير الإبريسم المطبوخ وسمي الثوب المتخذ منه حريرا.   

       واللہ اعلم بالصواب

      احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

  دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۸؍ذیقعدہ؍۱۴۳۸ھ

                     ۱؍اگست؍۲۰۱۷ء