22 Nov, 2017 | 3 Rabiul Awal, 1439 AH

1 Assalamualaykum wa rehmatullahi wa barkatahu Hazrat ready made kapdo may embroidary hoti jinmat resham ka istimaal ki jaata hai kuch topiyon may bhi iska istimaal hota hai kya yeh pehenna durust hai. 2 hazrat ham abu dhabi may hai aur hamaray jo kafil hai woh hamay dadhi [beard] choti karnay ko kah rahay hai Alhamdulillah hamari dadhi 1 mooth hai,woh kehtay hai k aaj kal badi mushkil hai dadhi walon k liye kyun k jo syria may daash k logon nay kiya is wajah say yahan ki hukumat may bhi badi dadhi rakhna mana hai woh kehtay hai k dadhi ki wajah se hamay aur unko mushkil hongi ham jab unsay visa laganay k liye milay to hamay dehk kar sar ko hath laga liya aur dadhi k matallik yeh sab kaha phir kaha k aap roengay agar hamay India behjayn ge to isi itwaar ko hamay visa k mutallik unsay milnay jana hai kya isi haal badi dadhi k saath jaae ya dadhi ko unkay kehnay k mutabil chota kiya jaae 3 kya juma mubarak kehna durust hai. 4 ek raay chahiye thi k hamaray bhai india may B.com may phad rahay hai padae k baad ham chatay hai k woh abu dhabi may aa kar kaam karay aur woh kehtay hai k woh wahin indai may hi kuch business karengay dua ki darkhwast jazak Allahu khairan wa ahsan jaza.

السلام علیکم !

حضرت!

1-   بعض ریڈی میڈ کپڑوں  ریشم استعمال کیا جاتا ہے۔ اور اسی طرح بعض ٹوبیوں میں بھی ریشم استعمال ہوتا ہے۔ کیا اس طرح  کے کپڑوں کا استعمال درست ہے؟ 

2-   ہم ابو ظہبی میں رہتے ہیں۔ اور ہم کو ہمارا کفیل داڑھی چھوٹی کرنے کا کہہ رہاہے۔  الحمد اللہ ہماری داڑھی ایک مٹھی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ  آج کل داڑھی والوں کے لیے بڑی مشکل ہے، ان حالات کی وجہ سے جو داعش نے سوریا میں کیے ہیں، یہاں کی حکومت نےبڑی  داڑھی رکھنے سے منع کیا ہوا ہے،جب ہم ان سے ویزہ کے سلسلہ میں ملا ،تو  وہ کفیل کہتا ہے بڑی داڑھی کی وجہ سے ہم کو اور آپ کو بہت مشکل ہوگی۔  اور ویزہ نہ ملنے کی وجہ سے ہم کو اپنے وطن انڈیا بھیج دیاجائے گا۔ تو اس صورت میں ہمارے لیے کیا حکم ہے؟

3-   کیا جمعہ مبارک کہنا جائز ہے؟

یہ بھی واضح رہے کہ  کپڑوں میں ریشم  کی مقدار بہت تھوڑی ہوتی ہے۔

       الجواب حامدا ومصلیا

1-  حدیث شریف جس چیز کی ممانعت آئی ہے ، وہ‘‘حریر’’ ہے۔ اور اس کی تعریف تمام اہل لغت نے ‘‘ الابریسم المطبوخ ’’ سے کی ہے ۔ لہذا صرف وہ کپڑے مردوں کے لیے ممنوع ہیں جو کیڑوں  سے نکالے  ہوئے ریشم  کے ہوں۔

ان میں بھی یہ تفصیل ہے کہ کہ اگر تانا ریشم کااور بانا کسی اور چیز کا ہےتو  مردوں کے لیے ممنوع نہیں۔ ہاں! مکمل ریشم کا ہو، یا بانا ریشم کا اور تانا کسی اور چیز کا ہو، تو وہ ممنوع ہے۔اب جن کپڑوں کے بارے میں آپ  پوچھ رہے ہیں، انہیں ان اصولوں پر دیکھ لیا جائے کہ وہ شرعاً ریشمی کہلائیں گے یا نہیں؟

یہ  بھی یا د رہے کہ آج کل جو مصنوعی ریشم  مشینوں سے بنایا جاتا ہے، کیڑوں کے ریشم سے نہیں، اس کاپہننا ریشم کے حکم میں نہیں۔ (ماخذہ :فتاوی عثمانی: ۴/ ۳۴۱)

2-    یہ سوال زیر غور ہے۔

3-    جمعہ  مبارک کہنا  چونکہ احادیث سے ثابت نہیں ، اس لیےجمعہ مبارک کہنا مباح ہے، یعنی  اس کے  کہنے میں گناہ  بھی نہیں ہے اور  ثواب بھی نہیں ہے ۔ لہذا اسے سنت یا واجب سمجھے بغیر کبھی کبھی جمعہ مبارک کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ (ونظیر ہ  فی فتاوی عثمانی  تحت عنوان: عید مبارک کہنا کاحکم،فتاوی عثمانی: ۴/ ۵۰۰)

سنن الترمذي : باب  ما جاء في الحرير والذهب

عن أبي موسى الأشعري : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال حرم لباس الحرير والذهب على ذكور أمتي وأحل لإناثهم.

وقال الامام الترمذی :و حديث أبي موسى حديث حسن صحيح.

الدر المختار (6/ 356)

  ( يحرم لبس الحرير ولو بحائل ) بينه وبين بدنه ( على المذهب ) الصحيح ....( و ) يحل ( لبس ما سداه إبريسم ولحمته غيره ) ككتان وقطن وخز لأن الثوب إنما يصير ثوبا بالنسج والنسج باللحمة فكانت هي المعتبرة دون السدي.

حاشية ابن عابدين (6/ 351)

قال في المغرب الحرير الإبريسم المطبوخ وسمي الثوب المتخذ منه حريرا.   

         واللہ اعلم بالصواب                 

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۷؍جمادی الثانی؍۱۴۳۸ھ

۲۷؍مارچ؍۲۰۱۷ء