22 Nov, 2017 | 3 Rabiul Awal, 1439 AH

اسلام وعلیکم : میرا سوال یہ ہے؟ جب احتلام ہوتا ہے تو کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں۔ ناپاکی دور کرنے کیلئے تین مرتبہ اس جگہ کو دھو لیتے ہیں لیکن نشان باقی رہ جاتے ہیں۔ کیا کپرے پاک ھو جاتے ہیں ؟ دھوئے ہوئے کپروں پے جو نشان ہوتے ہیں اس سے نماز ہوجاتی یے یا نہیں ؟ وضاحت کردیں۔

السلام وعلیکم : میرا سوال یہ ہے؟ جب احتلام ہوتا ہے تو کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں۔ ناپاکی دور کرنے کیلئے تین مرتبہ اس جگہ کو دھو لیتے ہیں لیکن نشان باقی رہ جاتے ہیں۔ کیا کپڑے پاک ہو جاتے ہیں ؟ دھوئے ہوئے کپڑوں پے جو نشان ہوتے ہیں اس سے نماز ہوجاتی یے یا نہیں ؟ وضاحت کردیں۔

                           الجواب حامداً مصلیاً

اگر کپڑے پر گاڑھی نجاست لگ جائے ، جیسے خون ، منی وغیرہ ، تو اس کو  پاک کرنے لیےسادے پانی سے اتنا دھونا ضروری ہےکہ  نجاست زائل ہوجائے اور اس  کا دھبہ اور بدبوختم ہوجائے، البتہ اگر نجاست ایسی ہے کہ   اس کا دھبہ آسانی سے نہیں جاتا،   بلکہ کئی دفعہ دھونے اور نجاست کے زائل ہوجانے کے بعد نجاست کادھبہ   رہ  جاتا  ہے، تواس صورت میں نجاست کے زائل ہوجانے کے بعد  وہ کپڑا پاک ہوجائے گا۔   لہذا صورت مسؤلہ میں  کپڑے اچھی طرح دھولینے کے بعد  وہ پاک ہو گئے ہیں، اگرچہ  نجاست کے دھبہ  کے نشان باقی  ہوں۔ اس میں نماز وغیرہ پڑھنا جائز ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 328)

(وكذا يطهر محل نجاسة) أما عينها فلا تقبل الطهارة (مرئية) بعد جفاف كدم (بقلعها) أي: بزوال عينها وأثرها ولو بمرة أو بما فوق ثلاث في الأصح، ولا يضر بقاء أثر) كلون وريح (لازم) فلا يكلف في إزالته إلى ماء حار أو صابون ونحوه، الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 328)

 (قوله: أو بما فوق ثلاث) أي: إن لم تزل العين والأثر بالثلاث يزيد عليها إلى أن تزول ما لم يشق زوال الأثر. (قوله: في الأصح) قيد لقوله ولو بمرة. قال القهستاني: وهذا ظاهر الرواية، وقيل: يغسل بعد زوالها مرة، وقيل: مرتين، وقيل: ثلاثا كما في الكافي. اهـ.

                واللہ اعلم بالصواب                 

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۰؍جمادی الثانی؍۱۴۳۸ھ

۲۰؍مارچ؍۲۰۱۷ء