17 Dec, 2017 | 28 Rabiul Awal, 1439 AH

Assalamoalaikum hazrat I am in problem.pehle me paki napaki ka khayal Ni rkhti thi it b naye masial PTA chale Hain pr me kuch ziada he masle me phasti ja rahi hun.smjh nai at ki weham Hai aur Kia laparwahi kabhi kbhi weham smjh k jhatak deti hun baad me PTA chalta Hai k apni ghalti thi.iske ilava mjhe lecorya ka marz bhi Hai aur depression ki medicines bhi le rhi hun..Depression inherited Hai.lekin lecora ki waja se bht kamzor ho gyi hun bht masle me hun na wuzu maintain. Rehta Hai na utha betha jta hai aur Namaz bhi nai pari ja rhi please meri help krein

مجھے لیکوریا کا مرض ہے جس کی وجہ سے میں بہت کمزور ہوگئی ہوں، میرے لیے اٹھنا بیٹھنا بہت مشکل ہوگیا ہے،   میرے لیے طہارت کا کیا حکم ہے،  ا س حوالے سے آپ میری رہنمائی کریں۔

الجواب حامدا ومصلیا

لیکوریا کی بیماری کی وجہ سے جو پانی خارج ہوتا  ہے، وہ چونکہ رحم سے آتا ہے، اس لیے نجاست غلیظہ کے حکم میں ہے۔ اس سے کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں۔ اور اس  کے  نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

اگر یہ پانی ہر وقت بہتا رہتا ہے اور اتنا وقفہ بھی نہیں ملتا کہ جس میں وضو کرکے  چار رکعت  نماز ادا کی  جاسکے ،تو  آپ  معذور کے حکم میں  ہیں۔ آپ   ہر نماز کے وقت کےداخل ہونے پر وضو کرلیا کریں اور اس سے جتنی چاہیں نمازیں ( فرض ، واجب، سنت ، نفل ، قضا ، ) پڑھتی  رہیں، جب تک نماز کا وقت رہے گا، لیکوریا کے پانی نکلنے کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔  پھر جب نماز کا وقت ختم ہوگا ، وضو  ٹوٹ  جائے گا۔  پھر جب دوسری نماز کا وقت آئے تو اس کے لیے نیا وضو کرلیں۔

اور معذور ہونے کی صورت میں دورانِ نماز جو لیکوریا کا پانی  نکل کر کپڑے یا جسم پر لگ جائے، تو استنجا کرنے اور کپڑوں کو دھونے کے متعلق حکم یہ ہے کہ اگر پانی   اتنی کثرت سے نکل  آتا ہوکہ ایک دفعہ استنجا کرنے اور دھونے کے بعد نماز مکمل کرنے سے پہلےپہلے  دوبارہ نکل  کر پھر کپڑوں پر لگ جاتاہو، تو ایسی صورت میں کپڑوں اور جسم کودھونا واجب نہیں ، انہیں کپڑے کے ساتھ  نماز پڑھنا بھی جائز ہے۔

اگر  آپ کوایک  نماز  کے  پورے   وقت میں  لیکوریا کے پانی  کے نکلنے کے  بعد    اتنا  وقفہ  ملتا  ہو  کہ جس میں آپ وضو کرکے صرف فرض نماز پڑھ سکیں ، تو آپ شرعاًمعذور نہیں ہیں۔  اور اس صورت میں لیکوریا کے پانی  کے نکلنے سے آپ کا وضو ٹوٹ جائے گا۔  لہذا   اس صورت میں باوضو ہوکر پاک کپڑوں میں  نماز پڑھنا  ضروری ہوگا۔

الدر المختار - ( 1 /  305)

( وصاحب عذر من به سلس ) بول لا يمكنه إمساكه ( أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة ) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة ( إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة ) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث ( ولو حكما ) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم ( وهذا شرط) العذر ( في حق الابتداء وفي ) حق ( البقاء كفي وجوده في جزء من الوقت ) ولو مرة ( وفي ) حق الزوال يشترط ( استيعاب الانقطاع ) تمام الوقت ( حقيقة ) لأنه الانقطاع الكامل ( وحكمه الوضوء ) لا غسل ثوبه ( لكل فرض ) اللام للوقت كما في لدلوك الشمس  ( الإسراء 18 ) ( ثم يصلي ) به ( فيه فرضا ونفلا ) فدخل الواجب بالأولى ( فإذا خرج الوقت بطل ) أي ظهر حدثه السابق حتى لو توضأ على الانقطاع ودام إلى خروجه لم يبطل بالخروج ما لم يطرأ حدث آخر أو يسيل كمسألة مسح خفه  وأفاد أنه لو توضأ بعد الطلوع ولو لعيد أو ضحى لم يبطل إلا بخروج وقت الظهر  ( وإن سال على ثوبه ) فوق الدرهم ( جاز له أن لا يغسله إن كان لو غسله تنجس قبل الفراغ منها ) أي الصلاة ( وإلا ) يتنجس قبل فراغه ( فلا ) يجوز ترك غسله هو المختار للفتوى            

بدائع الصنائع - (ج 1 / ص 129)

وإنما تبقى طهارة صاحب العذر في الوقت إذا لم يحدث حدثا آخر أما إذا أحدث حدثا آخر ، فلا تبقى ، لأن الضرورة في الدم السائل لا في غيره فكان هو في غيره كالصحيح قبل الوضوء ، وكذلك إذا توضأ للحدث أو لا ، ثم سال الدم فعليه الوضوء ، لأن ذلك الوضوء لم يقع لعدم العذر فكان عدما في حقه .وكذا إذا سال الدم من أحد منخريه فتوضأ ، ثم سال من المنخر الآخر فعليه الوضوء ، لأن هذا حدث جديد لم يكن موجودا وقت الطهارة فلم تقع الطهارة له فكان هو ، والبول ، والغائط سواء فأما إذا سال منهما جميعا فتوضأ ، ثم انقطع أحدهما فهو على وضوء ما بقي الوقت لأن طهارته حصلت لهما جميعا .والطهارة متى وقعت لعذر لا يضرها السيلان ما بقي الوقت فبقي هو صاحب عذر بالمنخر الآخر ، وعلى هذا حكم صاحب القروح إذا كان البعض سائلا ثم سال الآخر ، أو كان الكل سائلا فانقطع السيلان عن البعض.

 واللہ اعلم بالصواب

 احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

 دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۶؍رجب المرجب؍۱۴۳۸ھ

۲۶؍اپریل؍۲۰۱۷ء