17 Dec, 2017 | 28 Rabiul Awal, 1439 AH

السلام علیکم مسئلہ: زید پیشاب کے بعد جب فارغ ہو جاتا ہے تو اسے پیشاب کے کچھ قطرے انے کی بیماری ہے جو صرف ایک بار ایک سے دو قطرے کی صورت میں ہوتی ہے، اس مرض میں وہ دو سال سے مبتلا ہے ابھی کچھ مہینے سے دوا کھا رہا ہے تو اس صورت میں طہارت کا مسئلہ بیان فرما دیں تو مہربانی ہوگی.. اور یہ بھی کہ ضرورت پڑنے پر کیا زید اس بیماری کی حالت میں امامت بھی کر سکتا ہے؟؟ جزاک اللہ خیر

السلام علیکم!

 مسئلہ: زید پیشاب کے بعد جب فارغ ہو جاتا ہے تو اسے پیشاب کے کچھ قطرے آنے کی بیماری ہے جو صرف ایک بار ایک سے دو قطرے کی صورت میں ہوتی ہے، اس مرض میں وہ دو سال سے مبتلا ہے ابھی کچھ مہینے سے دوا کھا رہا ہے تو اس صورت میں طہارت کا مسئلہ بیان فرما دیں تو مہربانی ہوگی.. اور یہ بھی کہ ضرورت پڑنے پر کیا زید اس بیماری کی حالت میں امامت بھی کر سکتا ہے؟؟ جزاک اللہ خیر

الجواب حامد اومصلیا

اگر زید کو پیشاب کے  قطرے، صرف پیشاب کرنے کے بعد آتے ہوں، اور ہر وقت نہ آتے ہوں ، (جیساکہ سوال سے معلوم ہوتا ہے)، تو  اس صورت میں اس کا وضو پیشاب کاقطرہ  نکلنے کے فوراً بعد ٹوٹ جائے گا، خواہ  پیشاب کا ایک قطرہ نکلے یا اس  سے زیادہ ۔ لہذا  اس  پر باوضو ہوکر نماز پڑھنا  ضروری ہے۔ اور اس صورت میں آسانی سے  وضو کرنے کا یہ طریقہ بھی اختیار کرسکتا ہےکہ  وہ نماز کے اوقات سےبہت پہلے استنجا سے فارغ ہولیا کرے،  اور نماز پاک کپڑوں میں باوضو ہوکر  اداکرے۔ اور اس صورت میں وہ امامت بھی کرسکتا ہے، بشرطیکہ وضو کے بعد اس کے قطرے نہ نکلے ہوں، اور کپڑے بھی پاک ہوں۔ اور  اگر اس کوہر وقت   قطرے آتے رہتے ہیں اور اتنا وقت بھی نہیں ملتا کہ وقت کے اندر نماز پڑھ سکیں، تو تفصیل لکھ کردوبارہ سوال پوچھ لیا جائے۔

الدر المختار (1/ 134)

( وينقضه خروج ) كل خارج ( نجس ) بالفتح ويكسر ( منه ) أي من المتوضىء الحي معتادا أو لا من السبيلين أو لا ( إلى ما يطهر ) ... ثم المراد بالخروج من السبيلين مجرد الظهور وفي غيرهما عين السيلان ولو بالقوة.      

 واللہ اعلم بالصواب 

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۱؍رجب المرجب؍۱۴۳۸ھ

۱۹؍اپریل؍۲۰۱۷ء