21 Oct, 2017 | 30 Muharram, 1439 AH

Hazrat mera saawal Tayammum ke mutaliq hai; 1.Agar mareez ka operation howa ho aur us ke liye bistar se uth kar bathroom ja kar wudu karna mumkin na ho, Aysi surat me woh Tayammum karay ya ghar walay uss ko layty howay wudu karway? 2. Agar mareez uth ke bethnay ke layk na ho tu aysi surat mein sirf mu (face) ko Qiblay ki taraf kiya jaye ya bistar ko ic tarha rakha jaye ke mareez ki tangy Qiblay ki tarf ho? 3. Agar mareez ko hospital me IV drip, pipe, aur degar medical machinery jism ke saath joray honay ki waja se mareez ko qiblay ki taraf karna mumkin na ho tu aysi surat mein kiya kary? 4. Agar mareez ke aik hisay mein surgery ho rahi ho jesy local anesthesia dekar jism ka nichy wala hissa sun ho magar mareez apnay hosh mein ho, aysi surat mein namaz ka kiya hukum hai? Naamaz baad mein ada kary ya surgery ke doran ada kary? Jazakumullah khyiran kasseran

حضرت! میرا سوال تیمم کے متعلق ہے ۔

1-  اگر مریض کا آپریشن ہو ا ہو  اور اس کے  لیے بستر سے اٹھ کر  باتھ روم میں جاکر وضو کرنا ممکن نہ  ہو ، تو وہ تیمم   کرے یا گھر والے اس کو وضو لیٹے لیٹے   وضوکروادیا کریں؟

2-  اگر مریض  اٹھ کر بیٹھنے کے لائق نہ ہو  تو  نماز کے لیے صرف اس کا چہرہ قبلہ کی طرف ہونا کافی ہے یا  بستر کو اس طرح رکھا جائے کہ اس کی ٹانگیں  قبلہ کی طرف ہوجائیں؟

3-   اگر مریض  کو ڈرپ ، نالی، یا دیگر میڈیکل مشینری  لگی ہوئی ہو، جس کی وجہ سے اس کو قبلہ کی جانب کرنا نا ممکن ہو،  تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے۔

4-   اگر مریض کی سرجری ہورہی ہو، اور اس کا نیچے والا حصہ سُن کردیا گیا ہو، اور اوپر والا حصہ اپنی حالت پر ہو،  اور وہ ہوش وحواس میں ہو، تو ایسی صورت میں نماز کا کیا حکم ہے؟ نماز بعد میں ادا کرے یا سرجری کے دوران ہی نماز ادا کرے؟

الجواب حامدا ومصلیاً

1-  ایسا شخص ، جسے  بستر سے اٹھ کر  باتھ روم میں جاکر وضو کرنا مشکل ہو، لیکن  وہ گھر والوں یا کسی دوسری کی مدد سے بستر  پرآسانی سے وضو کرسکتا ہو، تو ایسی صورت میں اس کے گھر والے  اس کو وضو کروادیا کریں، اس شخص کے لیے تیمم کرنا درست نہیں۔

2-  اگر مریض  اٹھ کر بیٹھنے کے لائق نہ ہو  تو   و نماز لیٹ کر پڑھے۔ جس کا طریقہ  یہ ہے کہ چت لیٹ جائے اور اپنے دونوں پائوں قبلے کی طرف کرے ، اگر ہو سکے تو دونوں گھٹنوں کو کھڑا کرلے، تاکہ  قبلے کی طرف پاؤں نہ پھیلائے، اور اگر ایسا نہ کر سکے تو پاؤں پھیلا لے اور سر کے نیچے تکیہ وغیرہ رکھ کر سر کو ذرا اونچا کر دیا جائے اور رکوع و سجود کے لئے سر جھکا کر اشارہ سے نماز پڑھے اور سجدے کا اشارہ زیادہ نیچا کرے۔ یہ صورت افضل ہے ۔ اور اگر ایسا کرنے میں دشواری ہو تو  ایسا کرلے  کہ شمال کی جانب سر کر کے داہنی کروٹ پر لیٹے یا جنوب کی جانب سر کر کے بائیں طرف کروٹ پر لیٹے اور اشارہ سے نماز پڑھے۔  

3-  اگر مریض  کو ڈرپ ، نالی وغیرہ  لگی ہوئی ہو، جس کی وجہ سے وہ قبلہ کی جانب چہرہ کرنے سے عاجز ہو ،  تو ایسی صورت  میں،  اس کے لیےجس طرف رخ کرنا آسان ہو ، اسی طرف رخ کرکے نماز پڑھ سکتاہے۔

4-   اگر مریض کا آپریشن ہورہاہو، اور اس کا نیچے والا حصہ سُن کردیا گیا ہو، اور اوپر والا حصہ اپنی حالت پر ہوش وحواس میں ہو، تو اس کے لیے  تو ایسی صورت میں  مریض کو آپریشن سے پہلے یا آپریشن کے بعد نماز کے وقت سے اس کو اتنا وقت نہیں ملتا  کہ جس میں وہ وضو کرکے  صرف فرض نماز پڑھ سکے ،اور نماز کا سارا وقت آپریشن میں گذر جائےتواس  صورت  وہ شخص  معذور ہے، اورمعذورکے لیے حکم یہ ہے کہ  وہ ایک نماز کے وقت کے لئے وضو کریں اور اس وضو سےاس نماز کے وقت  کے اندر جتنی نمازیں چاہیں فرض ، واجب، سنت، نفل، قضاءاور ادا سب پڑھ سکتے ہیں ،نماز کے اندر  اور اس کے بعدوقت کےختم ہونے تک خون کے نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹے گا، البتہ جب نماز کا وقت ختم ہوجائے تو وضو ٹوٹ جائے گا اور اگلی نماز کے وقت کے لئے دوبارہ وضو کرنا پڑے گا۔ اور اس صورت میں  (نماز کا سارا وقت آپریشن میں گذر  جائے)، مریض کے لیے جس طرح ممکن ہو ( بیٹھ کر یا لیٹ کر اشاروں سے)نماز پڑھ لے۔ اور اگر  مریض کو آپریشن سے پہلے یا آپریشن کے بعد نماز کے وقت سے اس کو اتنا وقت ملتا ہو کہ جس میں وہ وضو کرکے  صرف فرض نماز پڑھ سکے ،اور نماز کا سارا وقت آپریشن میں نہ گذرےتو اس صورت میں وہ آپریشن سے پہلے یا آپرشن کے نماز پڑھے، آپریشن کے دوران پڑھنا درست نہیں ہے۔

فی الدر المختار (1/ 427)

( و ) السادس ( استقبال القبلة ) حقيقة أو حكما كعاجز والشرط حصوله لا طلبه وهو شرط زائد للابتلاء يسقط للعجز.

وفی حاشية ابن عابدين (1/ 427)

قوله ( كعاجز ) أي كاستقبال عاجز عنها لمرض أو خوف عدو أو اشتباه فجهة قدرته أو تحريه قبلة له حكما.

     وفی الدر المختار (2/ 99)

 (أومأ مستلقيا) على ظهره (ورجلاه نحو القبلة) غير أنه ينصب ركبتيه لكراهة مد الرجل إلى القبلة ويرفع رأسه يسيرا ليصير وجهه إليها (أو على جنبه الأيمن) أو الأيسر ووجهه إليها (والأول أفضل) على المعتمد.

   وفی حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 99)

(قوله ويرفع رأسه يسيرا) أي يجعل وسادة تحت رأسه لأن حقيقة الاستلقاء تمنع الأصحاء عن الإيماء فكيف بالمرضى بحر (قوله الأيمن أو الأيسر) والأيمن أفضل وبه ورد الأثر إمداد.

(قوله والأول أفضل) لأن المستلقي يقع إيماؤه إلى القبلة والمضطجع يقع منحرفا عنها بحر

وفی الدر المختار - ( 1 /  305)

( وصاحب عذر من به سلس ) بول لا يمكنه إمساكه ( أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة ) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة ( إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة ) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث ( ولو حكما ) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم ( وهذا شرط) العذر ( في حق الابتداء وفي ) حق ( البقاء كفي وجوده في جزء من الوقت ) ولو مرة ( وفي ) حق الزوال يشترط ( استيعاب الانقطاع ) تمام الوقت ( حقيقة ) لأنه الانقطاع الكامل ( وحكمه الوضوء ) لا غسل ثوبه ( لكل فرض ) اللام للوقت كما في لدلوك الشمس  ( الإسراء 18 ) ( ثم يصلي ) به ( فيه فرضا ونفلا ) فدخل الواجب بالأولى ( فإذا خرج الوقت بطل ) أي ظهر حدثه السابق حتى لو توضأ على الانقطاع ودام إلى خروجه لم يبطل بالخروج ما لم يطرأ حدث آخر أو يسيل كمسألة مسح خفه  وأفاد أنه لو توضأ بعد الطلوع ولو لعيد أو ضحى لم يبطل إلا بخروج وقت الظهر  ( وإن سال على ثوبه ) فوق الدرهم ( جاز له أن لا يغسله إن كان لو غسله تنجس قبل الفراغ منها ) أي الصلاة ( وإلا ) يتنجس قبل فراغه ( فلا ) يجوز ترك غسله هو المختار للفتوى            

وفی بدائع الصنائع - (ج 1 / ص 129)

وإنما تبقى طهارة صاحب العذر في الوقت إذا لم يحدث حدثا آخر أما إذا أحدث حدثا آخر ، فلا تبقى ، لأن الضرورة في الدم السائل لا في غيره فكان هو في غيره كالصحيح قبل الوضوء ، وكذلك إذا توضأ للحدث أو لا ، ثم سال الدم فعليه الوضوء ، لأن ذلك الوضوء لم يقع لعدم العذر فكان عدما في حقه .وكذا إذا سال الدم من أحد منخريه فتوضأ ، ثم سال من المنخر الآخر فعليه الوضوء ، لأن هذا حدث جديد لم يكن موجودا وقت الطهارة فلم تقع الطهارة له فكان هو ، والبول ، والغائط سواء فأما إذا سال منهما جميعا فتوضأ ، ثم انقطع أحدهما فهو على وضوء ما بقي الوقت لأن طهارته حصلت لهما جميعا .والطهارة متى وقعت لعذر لا يضرها السيلان ما بقي الوقت فبقي هو صاحب عذر بالمنخر الآخر ، وعلى هذا حكم صاحب القروح إذا كان البعض سائلا ثم سال الآخر ، أو كان الكل سائلا فانقطع السيلان عن البعض.

واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۳۰؍جمادی الاول؍۱۴۳۸ھ

         ۲۸؍فروری؍۲۰۱۷ء