17 Nov, 2017 | 27 Safar, 1439 AH

مرے ہوے انسان کی طرف سے قربانی کی جاسکتی ھے۔ اور اگر مردے رشتے دار کی طرف سے قربانی ہوتی ہے تو پھر اس حصے میں اپنے لیے گؤشت استعمال کرنا جایز ہے یا نہیں؟

1-  کیامرے ہوے انسان کی طرف سے قربانی کی جاسکتی ھے۔

2-   اور اگر مردے رشتے دار کی طرف سے قربانی ہوتی ہے تو پھر اس حصے میں اپنے لیے گؤشت استعمال کرنا جایز ہے یا نہیں؟

الجواب حامدا ومصلیا

1-  میت( مرنے والے )  کی طرف سے  قربانی کرنا جائز ہے۔

2-  میت کی طرف سے قربانی کرنے کی دو صورتیں ہیں:

۱۔۔۔ مرنے والے نے وصیت کی تھی تو اس کی قربانے کے گوشت کو مسکینوں  میں  صدقہ کرنا ضروری ہے، خود  کھانا جائز نہیں۔

۲۔۔۔ میت نے قربانی کی وصیت نہیں کی، بلکہ ورثا ء ، رشتہ دار اپنی خوشی سے میت کے لیے قربانی  کی ہے، تو اس کا گوشت  خود بھی کھا سکتے ہیں۔

فی حاشية ابن عابدين (6/ 335)

لو ضحى عن ميت وارثه بأمره ألزمه بالتصديق بها وعدم الأكل منها وإن تبرع بها عنه له الأكل لأنه يقع على ملك الذابح والثواب للميت.

   واللہ اعلم بالصواب

      احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

  دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۴؍ذی الحجہ؍۱۴۳۸ھ

                ۲۷؍اگست؍۲۰۱۷ء