22 Nov, 2017 | 3 Rabiul Awal, 1439 AH

Mujhy bchy ki padaish k silsila m kch sawalon m rahnumai chahye 1. Bachy k khatna kranay m islami hukm kya h ktna arsa m krana chahye r kya js din aqeqa krn khatna b usi din kraen 2. Aqeqa m kn sa janwar zyda bhtr h 3. Mn js jga job krta hn apni wife k 7 wahen rhta hn bchy ki padaish b wahen h. Hm ne yni mne wife r bchy k sath bd m yahen rhna h. Mray behn bhai r bqi relatives dosaray shehr m rhty hn. Ab bhtr kya h jahan rhta hn wahen aqiqa krn ya apny abbai shehr m 4. Aqeqa krna ktna zruri h?

مجھے بچے کی پیدائش کے سلسلہ میں کچھ مسائل پوچھنے ہیں:

1-   بچے کا ختنہ کب کرنا چاہیے؟ کیا عقیقہ کے دن بھی کراسکتے ہیں؟

2-   عقیقہ میں کونسا جانور زیادہ  بہتر ہے؟

3-  میں عقیقہ کہاں کروں؟   ایک شہر میں ملازم ہوں، اور  میں اپنے بیوی بچوں  کے ساتھ اسی شہر میں رہتا ہوں، اور دوسرے بہن بھائی اور رشتہ دار دوسرے شہر میں رہتے ہیں، تو مجھے عقیقہ کہاں کرنا چاہیے؟

4-   عقیقہ  کرنا  کتنا ضروروی ہے ؟

الجواب حامدا ومصلیا

1-  لڑکوں کی جسمانی صلاحیت اور صحت الگ الگ ہے اس لیے  شریعت نے   ختنہ کے لیے عمر کی کوئی  حد مقرر نہیں کی ۔ جب بچہ ختنہ کو برداشت کرسکے ، وہی عمر  ختنہ  کے لیے زیادہ بہتر ہے۔(کذ ا فی احسن الفتاوی)      اس لیے ڈاکٹر اور اطباء  سے اس حوالہ سے مشورہ کرلینا چاہیے۔

2-   بچہ کی پیدائش کے ساتویں دن  بعداس کا نام رکھنا اور عقیقہ کرنا مستحب ہے عقیقہ کرنے سے بچے  کی بلائیں دور ہوجاتی ہیں اور آفتوں سے حفاظت رہتی ہے۔ اگر ساتویں دن  عقیقہ نہ کرسکے تو جب چاہے کرلے، البتہ ساتویں  دن کا لحاظ کرنا بہتر ہے۔  عقیقہ کے جانور کے بارے میں یہ تفصیل ہے کہ   اگر لڑکا ہو تو دو بکرے یا دو بھیڑ اور لڑکی ہو تو ایک بکرےیا ایک بھیڑ ذبح کرے۔ اگر زیادہ استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے لڑکے کی جانب سے ایک بکرے کا عقیقہ کرے ، تو کوئی حرج نہیں۔ اور  عقیقہ  کے دن بچہ کے سر کے بال منڈواکر اس کے برابر چاندی  یا سونا ، یا ان کی قیمت  خیرات کردینا بھی سنت ہے۔

3-   عقیقہ کا جانور دوسرے  شہر  بھی ذبح کرسکتے ہیں۔

4-   عقیقہ سنت ہے ،  اگر گنجائش ہو تو ضرور کردینا چاہیے، نہ کیا جائےتو کوئی گناہ نہیں، صرف عقیقے کے ثواب سے محرومی ہے۔

حاشية ابن عابدين (6/ 336)

يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضة أو ذهبا ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي أو تطوعا على ما في شرح الطحاوي وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى سواء فرق لحمها نيئا أو طبخه بحموضة أو بدونها.

(وکذا فی تسہیل بہشتی زیور، وآپ کے مسائل اور ان کا حل)

 واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۱۱؍ربیع الثانی؍۱۴۳۸ھ

۱۰؍جنوری ؍۲۰۱۷ء