22 Nov, 2017 | 3 Rabiul Awal, 1439 AH

Salam wr wb. mere abbu qistoun per cheezain laitay hain. maslann k ager ac market main 30 000 ka hai toh qist wali dukaan 40 000 ka degi. aur woh kehtay hain k beshak app issi waqt sari payment kerdain jo k 40 000 hai ya qistain kerwalain. phir qist k raqam decide kerletay hain. waisey toh qist ada kernay main late houn toh jurmana hota hai. lakin mere abbu sey ager qist late hojaye toh woh jurmana nai detay aur na hi dukaan leti hai. youn hum jurmanay k beghair qistain detay rehtay hain jub tuk k raqam poori na hojaye. toh kia yeh jaiz hai?

السلام علیکم !

میرے ابو قسطوں پر چیزیں لیتے ہیں مثلاً کہ اگر اےسی مارکیٹ میں 30 000کا ہے تو وہ قسط والی دکان   40000کا دیگی ، اور وہ کہتے ہیں  کہ بیشک آپ ساری رقم اسی وقت ادا کردیں  جو کہ 40000 ہے، یا قسطیں کروالیں۔ پھر قسط کی رقم    متعین کرلیتے ہیں ۔ ویسے تو  قسط ادا کرنے میں لیٹ ہوں تو جرمانہ ہوتا ہے۔ لیکن میرے ابو سے اگر قسط لیٹ ہوجائے تو وہ جرمانہ نہیں دیتے اور نہ ہی دکان والے لیتے ہیں ۔ یہ ہم جرمانہ کے بغیر قسطیں دیتے رہتے ہیں جب تک کہ رقم  پوری نہیں ہوجاتی، تو کیا ہی جائز ہے؟

الجواب حامدا  ومصلیا

نقدکے معاملے میں ادھار اور قسطوں پر زیادہ قیمت میں اشیاء کی خرید وفروخت اگر درج ذیل شرائط کے ساتھ ہو تو شرعاً جائز ہے ،یہ سود میں داخل نہیں ،شرائط یہ ہیں۔

·       ۱۔۔۔مبیع اےسی  مثلاًمتعین کر لی جائےاور سودا ہو جانے کے بعد وہ خریدار کے سپرد کردی جائے۔

·       ۲۔۔۔ اے سی کی ایک قیمت یعنی نقد یا قسطوں کی صورت میں سے کوئی ایک صورت طے کرکے فریقین اسی مجلس میں اس پر متفق ہو جائیں ۔ 

·       ۳۔۔۔ادائیگی کی مدت ،اوقات اور قسطوں کی مقدار بھی متعین کرلی جائے۔

·       ۴۔۔۔قیمت متعین ہوجانے کے بعد ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے قیمت میں اضافہ یا جرمانہ کے نام پر زائد رقم وصو ل کرنے کی شرط نہ لگائی جائے۔

صورت مسؤلہ میں   آپ کے ابو  نے چو نکہ ان شرائط کو پورا کیا ہے، اس لیے یہ  صورت جائز ہے،البتہ  اگر کسی وقت  قسطوں پر خرید وفروخت کے معاملہ میں  ان مذکورہ شرائط  کوپورا نہیں کیاجائےگاتو وہ معاملہ درست نہیں ہوگا۔

سنن الترمذي - (ما جاء في النهي عن بيعتين في بيعة)

عن أبي هريرة قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن بيعتين في بيعة

 قال أبو عيسى حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح والعمل على هذا عند أهل العلم وقد فسر بعض أهل العلم قالوا بيعتين في بيعة أن يقول أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة وبنسيئة بعشرين ولا يفارقه على أحد البيعين فإذا فارقه على أحدهما فلا بأس إذا كانت العقدة على أحد منهما

المبسوط للسرخسي - (13 / ۹رشيديه)

وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم…………. وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد.

الهداية - (3 / 21)

قال ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما

الهداية - (3 / 78)

لأن للأجل شبها بالمبيع ألا يرى أنه يزاد في الثمن لأجل الأجل.

 واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۱۸؍رمضان؍۱۴۳۷ھ

۲۴؍جون ؍۲۰۱۶ء