22 Nov, 2017 | 3 Rabiul Awal, 1439 AH

Assalamualaikum, Hazrat Mera sawaal installment pe kuch khareene ke mutalliq hai. For Example if I want to buy a car or bike. The current price on Cash Payment for eg. Rs 1,00,000, I do not have that amount with me, they have scheme if I will make them the payment by installment in 10 months, but installment amount is Rs 11,000. So the final cost will come Rs 1,10,000 in 10 months. Is It permissible or not. On documents they write clearly that take the Bike on instalment by paying 11000 per month 10% Interest per month. Rs 10000 per month installment + 10 % interest so it comes to 11000 per month. Also request you to please help us with clear points so that it will be easy for us in future to buy things on installment.

السلام علیکم!

حضرت! میرا سوال  قسطوں پر چیر خریدنے  کے بارے میں ہے: مثال کے طور پر اگر میں کوئی کاریا موٹر سائیکل خریدنا چاہتا ہوں، تو اس کی نقد قیمت ایک لاکھ روپے ہے، لیکن میرے پاس یہ رقم نہیں ۔ ان کے پاس ایک سکیم ہے، کہ اگر میں ان کو قیمت کی ادائیگی  قسطوں کی صورت میں دس مہینوں میں کروں تو ماہانہ مجھے گیارہ ہزار روپے کی قسط ادا کرنی ہوگی اور دس مہینے کے بعد کل قیمت ایک لاکھ دس ہزار بن جائے گی ۔ کیا یہ شرعا جائز ہے؟ کاغذات میں انہوں نے  بڑی وضاحت کے ساتھ لکھا ہوا ہے کہ قسطوں پر موٹرسائیکل خریدتے ہوئے ماہانہ گیارہ ہزار دینے ہوں گے ۔ ماہانہ دس فی صد سود کے ساتھ ۔ یعنی ماہانہ دس ہزار کی قسط + دس فی صد سود، یہ سب مل کر گیارہ ہزار فی ماہ ۔

آپ سے یہ درخواست ہے شرعی نقطہ نظر سے بات کو واضح کرتے ہوئے ہماری مدد کریں، تاکہ ہمارے لیے مستقبل میں قسطوں کے ساتھ چیزیں خریدنا آسان ہو۔

الجواب حامدا  ومصلیا

نقدکے معاملے میں ادھار اور قسطوں پر زیادہ قیمت میں اشیاء کی خرید وفروخت اگر درج ذیل شرائط کے ساتھ ہو تو شرعاً جائز ہے ،یہ سود میں داخل نہیں ،شرائط یہ ہیں:

·       ۱۔۔۔خریدی جانے والی چیز مثلاً کار، موٹر سائیکل وغیرہ متعین کر لی جائےاور سودا ہو جانے کے بعد وہ خریدار کے سپرد کردی جائے۔

·    ۲۔۔۔ اس کی ایک قیمت یعنی نقد یا قسطوں کی صورت میں سے کوئی ایک صورت طے کرکے فریقین اسی مجلس میں کسی ایک متعین قیمت  پر متفق ہو جائیں ۔ 

·       ۳۔۔۔ادائیگی کی مدت ،اوقات اور قسطوں کی مقدار بھی متعین کرلی جائے۔

·    ۴۔۔۔قیمت متعین ہوجانے کے بعد ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے قیمت میں اضافہ یا جرمانہ کے نام پر زائد رقم وصو ل کرنے کی شرط نہ لگائی جائے۔

صورت مسؤلہ میں   آپ جس سے قسطوں پر خریدنا چاہتے  ہو اگروہ  ان شرائط کو پورا  کرتا ہے، اس سےقسطوں پر اشیاکو  خریدنا جائز ہے۔اور ادھار اور قسطوں پر بیچنے کی وجہ سے قیمت میں اضافہ کرنا سود نہیں ،البتہ اور اگر ان شرائط کو پورا نہیں کیاجاتا تو اس سے قسطوں پرخریدنا جائز نہیں ہوگا۔

سنن الترمذي –

(ما جاء في النهي عن بيعتين في بيعة)

عن أبي هريرة قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن بيعتين في بيعة

 قال أبو عيسى حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح والعمل على هذا عند أهل العلم وقد فسر بعض أهل العلم قالوا بيعتين في بيعة أن يقول أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة وبنسيئة بعشرين ولا يفارقه على أحد البيعين فإذا فارقه على أحدهما فلا بأس إذا كانت العقدة على أحد منهما

المبسوط للسرخسي - (13 / ۹رشيديه)

وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم…………. وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد.

الهداية - (3 / 21)

قال ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما

بحوث في قضايا فقهية معاصرة - (1 / 12)

أما الأئمة الأربعة وجمهور الفقهاء والمحدثون، فقد أجازوا البيع المؤجل بأكثر من سعر النقد، بشرط أن يبت العاقدان بأنه بيع مؤجل بأجل معلوم، وبثمن متفق عيه عند العقد، فأما إذا قال البائع: أبيعك نقدا بكذا ونسيئة بكذا، وافتراقا على ذلك، دون أن يتفقا على تحديد واحد من السعرين، فإن مثل هذا البيع لا يجوز، ولكن إذا عين العاقدان أحد الشقين في مجلس العقد، فالبيع جائز.

واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۶؍ذی الحجہ؍۱۴۳۷ھ

۲۹؍ستمبر ؍۲۰۱۶ء