22 Nov, 2017 | 3 Rabiul Awal, 1439 AH

A.O.AMa ap sy shair ka bara ma tafsili hukam janna chata hn.lihaza is masla ma mari puri rahnimi farmay.shariz ka karubar karna jaizz ha yanahe?or agr jaizz hatu wo konsi sharit hn jin ka khail rakhna zaruri ha ?neez shairzkharidna ka bad inhay kab aiga faroth karna jaizz ha or kab najizz ha?

السلام علیکم ! میں آپ سے شیئرز  کے بارے میں تٖفصیلی حکم جانناچاہتا ہوں ،لہذا اس مسئلہ میں میری پوری راہ نمائی فرمائیں ،شیئرز کا کاروبار کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟اور اگر جائز ہےتو وہ کون سی شرائط ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے؟نیز شیئرز خریدنے کے بعد انہیں آگے کب فروخت کرنا جائز ہے اور کب ناجائز ہے ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

1۔۔۔جس کمپنی کے شیئرز خریدنا چاہتے ہیں ا س کا کاروبار حلال ہو ۔اگر کمپنی کا کاروبار غیر شرعی ہو تو اس کے شیئرز کی خریدوفروخ جائز نہیں ۔

2۔۔۔اس کمپنی کا کاروبار واقعۃً شروع ہوچکاہو اور اس کمپنی کی املاک وجود میں آچکی ہوں مثلاً عمارت اور مشینری وغیرہ وجود میں آچکی ہوں اور نقد اثاثے صرف پلاننگ اور منصوبہ بندی تک محدود نہ ہوں ۔ اگر کمپنی صرف منصوبہ بندی اور نقد اثاثوں تک محدود ہواور کاروبار شروع نہ ہو ا ہو تو شیئرز کو صرف ان کی اصل قیمت  (Face value)پر خریدنا یا بیچنا جائز ہے ا س سے کم وپیش پر خریدنا بیچنا جائز نہیں ۔

3۔۔۔نفع اور نقصان دونوں میں شرکت ہویعنی اگر کمپنی کو نفع ہو تو شیئرز کے خریدار بھی نفع میں شریک ہوں گے اور اگر نقصان ہو تو اپنے سرمائے کے تناسب سے نقصان میں شریک ہونگے۔

4۔۔۔نفع فیصد کے اعتبار سے طے ہو یعنی نفع کی ماہانہ یا سالانہ کوئی خاص رقم یقینی طور پر مقرر نہ  ہو بلکہ فیصد کے حساب سے نفع مقرر کیا گیا ہو کہ جو نفع ملے گااس میں سے اتنے فیصد کمپنی کا ہوگا اور اتنے فیصد شیئرز ہولڈرز میں تقسیم کیا جائےگا ۔

5۔۔۔شیئرز خریدنے میں یہ بھی ضروری ہے کہ کمپنی کا اصل کاروبار حلال ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ضمنی طور پر کسی ناجائز کام یا معاملہ میں ملوث نہ ہو اور اس ضمنی ناجائز کام سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تناسب اس کی مجموعی آمدنی میں معتدبہ مثلاً پانچ فیصد نہ ہو (جیسا کہ اس کی پابندی آج کل کے اسلامی مالیاتی اداروں میں کروائی جارہی ہے )بصورت دیگر شیئرز خریدنےوالا اس ارادے سے خریدے کہ وہ کمپنی کو ناجائز اورحرام معاملات کرنے سے ہر طرح منع کرے گا،تحریری طورپر بھی اور خصوصاً کمپنی کے سالانہ اجلاس میں بھی یہ آواز اٹھائے گا کہ کمپنی ناجائز اور حرام معاملہ نہ کرے اورکم ازکم ہمارا سرمایہ کسی حرام اورناجائز کاروبار میں نہ لگائے۔

6۔۔۔شق نمبر 5کے پیشِ نظر جب کمپنی سے سالانہ نفع وصول ہو تو شیئرز رکھنے والا اس کمپنی کی بیلنس شیٹ میں دیکھے کہ کمپنی نے اس ناجائز ضمنی معاملہ سے کتنے فیصد سرمایہ ناجائز کاروبار میں لگا کر نفع حاصل کیا ہے پھر آمدنی کا اتنے فیصد حصہ اپنے حاصل شدہ نفع سے صدقہ کردے ۔

7۔۔۔شیئرز ہولڈرز ا س بات کا بھی اہتمام کرے کہ جس کمپنی کے شیئرز خریدے اس کے مجموعی سرمائے کے تناسب میں اس کمپنی کے سودی قرضوں کی مقدار بہت زیادہ (مثلاًتینتیس فیصد %33سے زیادہ)نہ ہو۔

8۔۔۔شیئرخریدا جارہا ہو اس کے پیچھے موجود خالص نقد اثاثوں (Net liquid assets)کی مقدار اس شیئرکی بازاری قیمت (Market value)سے کم ہو۔

9۔۔۔اگر شیئرز کو ان کی قیمتِ اسمیہ سے کم یا زیادہ پر خرید ایا بیچا جارہا ہو تو شیئرزجس کمپنی کے ہوں اس کے پاس نقد اثاثوں(Current assets) کے ساتھ ساتھ ایک معتد بہ مقدار جامد اثاثے بھی موجود ہوں (مثلاً بیس فیصد یا اس سے زائد جامد اثاثے ہوں )۔

10۔۔۔مروجہ غیر اسلامی بینکوں اور انشورنس کمپنیوں ،اسی طرح شراب بنانے والی اور بنیادی طور پر سود کا کام کرنے والی کمپنیوں کے شیئرز خریدنا بھی جائز نہیں ۔

11۔۔۔شیئرزکی خریدوفروخت کرنے میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ شیئرز خریدنے کے بعد شیئرز ہولڈرز ان شیئرز پر قبضہ کرے اور اس کے بعد ان کو فروخت کرے ،شیئرز پر قبضہ کئے بغیر انہیں آگے فروخت کرنا شرعاً درست نہیں جس کی وضاح درج ذیل ہے ۔

شیئرز آگے فروخت کرنے میں قبضہ کے مسائل:

اسٹاک ایکسچینج  میں ڈے ٹریڈنگ  میں حاضر سود ے کی جو صورت رائج ہے وہ یہ ہے کہ حاضر سودے میں سودا ہوتے ہی اس کا اندراج فوراً ہی KAT میں ہوجاتا ہے جو اسٹاک ایکسچینج میں ہونے والے سودوں کا کمہیوٹرائزڈ ریکارڈ ہوتا ہے لیکن آج کل ہرسودے کے دو کاروباری دنوں کے بعد خریدار کو طے شدہ قیمت ادا کرنی ہوتی ہے اور بیچے ہوئے حصص کی ڈیلیوری دینی ہوتی ہے (جبکہ پہلے اس میں تین دن لگتے تھے)جس کی یہ صورت ہوتی ہے کہ متعلقہ کمپنی کے ریکارڈ میں سی ڈی سی کے ذریعے خریدے گئے شیئرز خریدار کے نام منتقل کئے جاتے ہیں ،اسٹاک ایکسچینج کی اصلاح میں ا س کو ڈیلیوری اور قبضہ کہاجاتا ہے۔

مذکورہ صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ جب تک خردیے گئے شیئرز سی ڈی سی کے ذریعہ متعلقہ کمپنی کے ریکارڈ میں خریدار کے نام منتقل نہیں ہوجاتے انہیں آگے فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں کیونکہ شرعاً کسی بھی چیز کو آگے بیچنے کے لئے ا س پر قبضۃ شرط ہے ،اسٹاک ایکسچینج کے مروجہ طریقِ کار کے مطابق اگرچہ شیئرز خریدتے ہی ktaمیں ان کا انداراج ہوجاتاہے اورشیئرز کا نفع ونقصان بالآخر خریدار کو ہی پہنچتا ہے لیکن چونکہ شیئرز کی خریدوفروخت در حقیقت کمپنی کے حصہ مشاع کی خریدوفروخت ہے اورحصہ مشاع کی بیع میں محض نفع ونقصان کے خریدار کی طرف منتقل ہونے کی شرعی قبضہ قرار نہیں دیا جاسکتا اورحصہِ مشاع پر حسی قبضہ بھی ممکن نہیں لہذا اس صورت میں قبضہ کے تحقق کے لئے تخلیہ کاپایا جانا ضروری ہے اور اسٹاک ایکسچینج کے موجودہ قواعد وضوابط کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سی ڈی سی کے ذریعے کمپنی ریکارڈ میں شیئرز خریدار کے نام منتقل ہونے سے پہلے تخلیہ نہیں پایا جاتا لہذا مذکورہ صورت میں سی ڈی سی کے ذریعے متعلقہ کمپنی کے ریکارڈٖمیں بیچے گئے شیئرز خریدار کے نام منتقل ہونے سے پہلے انہیں آگے فروخت کرنا بیع قبل القبض ہے جو کہ شرعاً جائز نہیں۔خلاصہ یہ کہ حاضر سودے کی صورت میں بھی خریدے گئے شیئرز سی ڈی سی کے ذریعے کمپنی کے ریکارڈ یعنی ڈیلیوری سے پہلے آگےبیچنا جائز نہیں ۔

12۔۔۔فارورڈسیل ( Forward trading)یا فیوچرسیل(Future trading)کی جتنی صورتیں اسٹاک ایکسچینج میں رائج ہیں وہ اپنی موجودہ شکل میں شرعاًناجائزہیں۔

13۔۔۔اسٹاک ایکسچینج میں رائج بدلہ کے معاملات بھی بیع قبل القبض اور دوسری شرطِ فاسد (یعنی زیادہ قیمت پر واپس خریدنے کی شرط پر بیچنے)کی بناء پر جائز نہیں۔

14۔۔۔اسٹاک ایکسچینج میں رائج شیئرز کی بلینک سیل(Forward trading)اورشارٹ سیل (Short sale)بھی شرعاً ممنوع اور ناجائز ہے ۔

الجواب صحیح                                واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب

عبد الوہاب عفی عنہ                                 عبدالرحمان

عبد النصیر عفی عنہ                                  معہدالفقیر الاسلامی جھنگ

معہد الفقیر الاسلامی جھنگ                     13/1/1436ھ