17 Nov, 2017 | 27 Safar, 1439 AH

دو بہنوں کی ایک گھر میں دو بھائیوں سے شادی ہوئ پھر مختلف قسم کے جھگڑوں اور زہنی اذیتوں کی وجہ سے (مثلاَََ َََََاپنا زیور ہمیں دو اپنے باپ سے جائیداد لے کر دو ہماری دوسری دوسری شادی کرواؤوغیرہ وغیرہ) دونوں بہنیں میکے آ گئیں پھر ایک بہن کو طلاق دے دی دوسری کو نہیں۔ اب لڑکی کے گھر والےدوسرے لڑکے سےبھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ بھی طلاق دے دے اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا لڑکی کے گھر والوں کا طلاق کا مطالبہ جائز ہے وہ گنہگار تو نہیں ہوں گے اور دوسری بات یہ کہ اگر لڑکا طلاق نا دے تو بذریعہ عدالت نکاح ختم کروانےکی صورت میں عدالتی طلاق ٹھیک ہو گی یا نہیں ۔": اور یہ دوسری بہن بھی طلاق کا مطالبہ کرتی ھے

دو بہنوں کی ایک گھر میں دو بھائیوں سے شادی ہوئ پھر مختلف قسم کے جھگڑوں اور زہنی اذیتوں کی وجہ سے (مثلاَََ َََََاپنا زیور ہمیں دو اپنے باپ سے جائیداد لے کر دو ہماری دوسری دوسری شادی کرواؤوغیرہ وغیرہ) دونوں بہنیں میکے آ گئیں پھر ایک بہن کو طلاق دے دی دوسری کو نہیں۔ اب لڑکی کے گھر والےدوسرے لڑکے سےبھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ بھی طلاق دے دے اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا لڑکی کے گھر والوں کا طلاق کا مطالبہ جائز ہے وہ گنہگار تو نہیں ہوں گے اور دوسری بات یہ کہ اگر لڑکا طلاق نا دے تو بذریعہ عدالت نکاح ختم کروانےکی صورت میں عدالتی طلاق ٹھیک ہو گی یا نہیں ۔": اور یہ دوسری بہن بھی طلاق کا مطالبہ کرتی ھے۔

الجواب حامدا ومصلیا

بیوی اپنے خاوند سے مختلف وجوہات کی بناء پر طلاق کا مطالبہ کرسکتی ہے اور وہ یہ ہیں  کہ میاں  بیوی کے مزاجوں  میں شدید اختلاف ہو کہ ان کااکٹھے زندگی گزارنا ممکن نہ ہو، یا پھر ایک ساتھ رہنے میں  الله عز وجلّ کے بتائے ہوئے احکامات پر عمل ممکن نہ ہو، یا  شوہربیوی  پر ظلم کرتا ہو، مثلاً بلاوجہ مارپٹائی کرتا ہو وغیرہ وغیرہ ،  ایسی صورتوں  میں  شریعت نے عورت کو طلاق کے مطالبہ کا حق دیا ہے،البتہ بلاوجہ اور بغیر شرعی عذر کے عورت کی طرف سے طلاق کا مطالبہ کرنا ناجائز ہے۔

صورت مسؤلہ میں میاں بیوی کی آپس میں صلح کرالی جائے، فریقین کو نرمی سے سمجھا دینا چاہیے۔ ایک گھر کے اجڑنے سے دوسرا گھر برباد کرنا، عقلمندی نہیں ہے اور یہ شرعاً ممنوع بھی ہے۔ لہذا بے جا طلاق درست نہیں ہے۔ جہاں تک عدالتی خلع کا معاملہ ہے تو آجکل   عدالتیں، خلع  کی شرعی شرائط کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتیں ، جس کی وجہ سے ان کا خلع درست نہیں ہوتا، اور نکاح باقی رہتا ہے۔ 

 لمافی القرآن الکریم (البقرة:۲۲۹):

 وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَأْخُذُوْا مِمَّا آتَيْتُمُوْهُنَّ شَيْئًا إِلَّا اَن يَّخَافَا اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللهِ فَإِنْ خِفْتُمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ تِلْكَ حُدُوْدُ اللهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا وَمَن يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللهِ فَاُولٰئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ.

وفی المشکوۃ (۲۸۳/۲):

عن ابن عباس : أن امرأة ثابت بن قيس أتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت : يا رسول الله ثابت بن قيس ما أعتب عليه في خلق ولا دين ولكني أكره الكفر في الإسلام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " أتردين عليه حديقته ؟ " قالت : نعم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "اقبل الحديقة وطلقها تطليقة " .

وفی بدائع الصنائع - (ج 7 / ص 215)

وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول ؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة ، ولا يستحق العوض بدون القبول بخلاف النوع الأول فإنه إذا قال : خالعتك ولم يذكر العوض ونوى الطلاق فإنه يقع الطلاق عليها ، سواء قبلت أو لم تقبل ؛ لأن ذلك طلاق بغير عوض فلا يفتقر إلى القبول وحضرة السلطان ليست بشرط لجواز الخلع عند عامة العلماء فيجوز عند غير السلطان وروي عن الحسن وابن سيرين أنه لا يجوز إلا عند السلطان ، والصحيح قول العامة لما روي أن عمر وعثمان وعبد الله بن عمر رضي الله عنهم جوزوا الخلع بدون السلطان ، ولأن النكاح جائز عند غير السلطان فكذا الخلع .

   واللہ اعلم بالصواب

      احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

  دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۸؍صفر المظفر؍۱۴۳۸ھ

                   ۲۸؍اکتوبر؍۲۰۱۷ء