17 Nov, 2017 | 27 Safar, 1439 AH

Assalam o Alaikum, Sir, mn ne apni wife ko 16 May 2016 ko aik divorce di mobile par message kar k. aur 17 May 2016 ko phir written divorce deed (with one divorce) us k address par post kar di and us ki aik photo copy union council ko send kar di.kia aap bata sakty hn k meri aik divorce hoi ya 2? 2nd question is thatk ab mein apni wife se sulah karna chahta hoon aur wo bhi sulah chahti hy magar us k ghar wale keh rahe hn k us ki teeno divorce ho gai hn aur mujhy keh rahe hn k mn fatwa ly kar aaon k teen divroce nahi hoi. agar meri teen divorce nahi hoi to kia aap mujhy kindly fatwa jari kar sakty hn k teen talak nahi hoi last question ye hy k mn rujoo karna chahoon 90 days se pehly to us k liye mujhy kia karna ho ga aur rujoo karne k baad wo meri bivi hi rahe gi? us k ghar wale jo nahi maan rahe un ki mukhalfat ka rujoo par koi asar to nahi pare ga? Rujoo k liye kia alfaz zarrori hn aur kis tarah kia ja sakta hy? ALLAH aap ko jaza e khair ata farmaye.. ameen

السلام علیکم!

مفتی صاحب! میں نے اپنی بیوی کو 16مئی 2016 کو ایک طلاق دی موبائل پر میسج کرکے اور 17 مئی 2016 کو پھر  تحریری  طلاق دیدی( اسی ایک طلاق کے ساتھ)، اس کے ایڈریس پر بھیج دی اور اس کی ایک فوٹو کاپی یونین کونسل کو بھیج دی۔ کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ میری ایک طلاق ہوئی  ہے یا دو؟

اس کے ساتھ دوسراسوال یہ ہے کہ اب میں اپنی بیوی سے صلح کرنا چاہتاہوں اور وہ بھی صلح چاہتی ہے ، مگر اس  کے گھر والے کہہ رہے ہیں  کہ اس کی تینوں طلاقیں ہوگئی ہیں  اور مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں فتوی لے کر آؤں کہ تین طلاق نہیں ہوئی  ۔ گر میری تین طلاق نہیں ہوئی تو کیا آپ مجھے فتوی  جاری کرسکتے ہیں کہ ان کی تین طلاق نہیں ہوئی؟

آخری سوال یہ  ہے کہ میں رجوع کرنا چاہوں 90 دن سے پہلے تو اس کے لیے مجھے کیا کرناہوگا؟ اور رجوع  کرنے کے بعد وہ میری بیوی ہی رہی گی ؟ اس کے گھر والے جو نہیں مان رہے ، ان کی مخالفت کا رجوع پر کوئی اثر  تو نہیں پڑے گا؟ رجوع کے لیے کیا الفاظ ضروری ہیں  اور کس طرح کیا جاسکتا ہے؟ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، آمین۔

سوال(تنقیح): آپ نے کن الفاظ سے طلاق دی تھی؟وہ الفاظ بتلائیں۔

جواب:  جی ! میں نے ان الفاظ میں طلاق دی تھی، اور یہ طلاق میں نے موبائل میں میسج  میں لکھ کر بھیجی تھی،   اس کے بعد کوئی طلاق نہیں دی ہے۔’’میں areeba feroze تمہیں  پورے حوش و حواس  میں طلاق دیتا ہوں‘‘۔ یہی ایک طلاق یونین کونسل میں لکھ کر  بھیج دی تھی۔شکریہ ۔

سوال :  استفتاء میں 17 مئی کو طلاق دینے کا بھی ذکرہے؟

جواب:  یہ پہلی والی ہی طلاق تھی  جو میں یونین کونسل میں جمع کرانے کے لیے تحریر کی تھی ، اس سے میری دوسری  طلاق کی نیت نہیں تھی ۔ میں نے باقاعدہ ایک ہی طلاق دی تھی ، جو میں نے  میسیج پر لکھ کر بھیجی تھی، اس کو تحریری صورت میں یونین کونسل کو بھیجنا ضروری تھا، سو  ایک stamp paper پر لکھ   کریونین کونسل کو بھیج دی تھی۔ اب  میری علم میں نہیں ہے کہ یونین کونسل  میں جمع کرانے کے لیے لکھی گئی طلاق دوسری شمار ہوگی یا نہیں؟ شکریہ۔

سوال کاخلاصہ  : سوال کاخلاصہ یہ ہے کہ سائل نے اپنی بیوی کوایک طلاق میسج پر لکھ بھیجی دی، اس کے  بعدیہی طلاق لکھ  کر یونین کونسل میں جمع کرادی، اب وہ پوچھناچاہتا ہے کہ ایک طلاق ہوئی یا دو؟

الجواب حامدا ومصلیا

جواب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ مفتی غیب نہیں جانتا   وہ  سوال کا پابند ہوتا ہے جیسا سوال ہوتا ہے اسی کے مطابق جواب لکھتا ہے ، سوال کے سچے اور جھوٹے ہونے کی ذمہ داری سائل پر ہوتی ہے ،غلط بیانی  کے ذریعے اپنے حق میں فتوی حاصل کرلینے سے حرام حلال نہیں ہوتا، بلکہ حرام بدستور حرام ہی رہتا ہے اور غلط بیانی کا مزید وبال بھی اس پرعائد ہوتا ہے۔

صورت مسؤلہ میں اگر بیانات درست ہیں کہ آپ نے میسج میں ایک ہی طلاق لکھی تھی، اس کے بعد  زبانی یا تحریری کوئی طلاق نہیں دی،تو آپ کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوئی ہے۔ اور یونین کونسل  میں جمع کرانے کےلیےلکھی گئی طلاق ،دوسری شمار نہیں ہوگی۔

طلاق رجعی کا حکم یہ ہے  کہ عدت یعنی تین مرتبہ  ایام ماہواری گذرنے سے پہلےپہلے  آپ اپنی بیوی سے رجوع کرسکتے ہیں۔  رجوع کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ دو گواہوں کے سامنے یہ کہہ دیں کہ میں نے طلاق سے رجوع کرلیا ۔ اس کے بعدآپ دونوں حسب سابق میاں بیوی کی طرح رہ سکتے ہیں۔ رجوع کے لیے لڑکی کے گھروالوں کی رضامندی کی بھی ضرورت نہیں، وہ نہ بھی چاہیں تب بھی آپ کا رجوع صحیح ہوجائے گا،اور میاں بیوی والا رشتہ بحال ہوجائےگا۔

اگر آپ نے عدت کے اندر رجوع نہ کیا تو  عدت پوری ہونے پر بیوی آپ کے نکاح سے نکل جائے گی،  پھر  رشتہ ازدواج کی بحالی کے لیے آپ کوباہمی رضامندی  سے نیا نکاح نئے مہر کے ساتھ کرناضروری ہوگا، از سر نونکاح کیے بغیر آپ دونوں میاں بیوی کی طرح نہیں رہ سکتے۔

جس عورت کو حیض آتاہو اس کی عدت ِطلاق تین ماہواری(حیض) ہے، تین  ماہ نہیں ہے، حاملہ  عورت کی عدتِ طلاق بچے کی پیدائش ہے۔

واضح رہے کہ اگر آپ نے اس واقعہ سے پہلے کوئی طلاق نہیں دی ،تو اس طلاق  کے بعد آپ کو اپنی بیوی پر صرف دو طلاقوں  کا اختیار ہوگا، اگردو مرتبہ مزید طلاق دیدی تو حرمتِ مغلظہ ثابت ہوجائیگی،اسلئے طلاق کے معاملے میں احتیاط لازم ہے۔

لما فی الیداية:  (2/254)

وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [البقرة: 231] من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمى إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها " والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي " وهذا صريح في الرجعة ولا خلاف فيه بين الأئمة.... قال: " ويستحب أن يشهد على الرجعة شاهدين فإن لم يشهد صحت الرجعة.

واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۱۰؍رمضان؍۱۴۳۷ھ

۱۶؍جون ؍۲۰۱۶ء