17 Nov, 2017 | 27 Safar, 1439 AH

کیا مدارس کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ جمع ہونے والے زکوۃ اور صدقات واجبہ کی رقم کسی اسلامی بنک اکاؤنٹ میں رکھوا دیں؟ اس رقم پر لگنے والے منافع کا کیا حکم ہوگا؟

کیا مدارس کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ جمع ہونے والے زکوۃ اور صدقات واجبہ کی رقم کسی اسلامی بنک اکاؤنٹ میں رکھوا دیں؟ اس رقم پر لگنے والے منافع کا کیا حکم ہوگا؟

الجواب حامدا ومصلیا

میزان بینک، بینک اسلامی، اور اس طرح کے دوسرے بینک  جو مستند علماء کی زیرِ نگرانی کام کر رہے ہیں ان سے معاملہ کرنا ،ان میں اکاؤنٹ کھولنا اور نفع لینا،  قرض حسنہ لینا،  اور ان میں ملازمت کرنا، سب درست ہے۔ اور اگر وہ بینک  مستند علماء کی زیرِ نگرانی کام نہیں کر رہا ، تو  اس میں اکاؤنٹ کھولنا اور نفع لینا،  قرض لینا،  اور اس میں ایسی ملازمت کرنا، کہ جس کا تعلق سود کے ساتھ ہو، جائز نہیں ۔

لہذا صورت مسؤلہ میں مدارس کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ جمع ہونے والے زکوۃ اور صدقات واجبہ کی رقم کسی اسلامی بنک اکاؤنٹ میں رکھوا دیں، اور  اس رقم   پر نفع وصول کریں۔

   واللہ اعلم بالصواب

      احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

  دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۳۰؍ذیقعدہ؍۱۴۳۸ھ

                   ۲۳؍اگست؍۲۰۱۷ء