22 Nov, 2017 | 3 Rabiul Awal, 1439 AH

السلام عیکم مفتی صاحب میرے بھائ کا بیٹا دبئ میں وزٹ ویزا میں آیا ھے کیا میں اس کو پکا ویزا خریدنے کیلئے زکوة کے پیسے دے سکتا ھوں یہ رقم آٹھ ھزار درھم بنتی ھے جو کہ اکٹھی ایک ساتھ دینی ھو گی جزاک اللہ خیرا

السلام علیکم !

مفتی صاحب! میرے بھائی کا بیٹا دبئی میں وزٹ ویزا میں آیا ہے ،کیا میں اس کو پکا ویزا خریدنے کیلئے زکوة کے پیسے دے سکتا ہوں یہ رقم آٹھ ہزار درہم بنتی ہے، جو کہ اکٹھی ایک ساتھ دینی ہو گی جزاک اللہ خیرا۔

الجواب حامدا ومصلیا

اگر آپ کے بھائی   کا   بیٹامستحقِ زکوٰۃ ہے، تو  ان کو  زکوٰۃ دینا جائز ہے۔ البتہ مستحقِ زکوۃ کو ایک ساتھ اتنا مال دینا کہ جتنے مال پر زکوۃ واجب ہوتی ہے، مکروہ ہے۔  بہتر یہ ہے کہ آپ اس کو قرض کے طور پر رقم دے دیں۔

 مستحقِ زکوٰۃ وہ شخص ہے کہ جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی ،یا اس کی قیمت کے  بقدر نقدی،یا ضرورت سے زائد سامان موجود نہ  ہو۔

الدر المختار - (2 / 339)

مصرف الزكاة والعشر ... ( هو فقير وهو من له أدنى شيء ) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير تام مستغرق في الحاجة ( ومسكين من شيء له ).

 

   واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

  دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۲؍شوال المکرم؍۱۴۳۸ھ

                    ۱۷؍جولائی؍۲۰۱۷ء