22 Nov, 2017 | 3 Rabiul Awal, 1439 AH

Kya madrasa ki tameer krny k lye ya madrasa k lye zameen kharidnay k lye zakat ki raqam di ja sakti h. Iski koi sorat h k zakat ki mohtamim e madrasa ko raqm zakat ki mad m dn r wo usy madrasa ki zameen kharidanay k lye istamal kr skn??

کیا مدرسہ کے تعمیر کے لیے یا مدرسہ کے لیے زمین خریدنے کی غرض سے زکوۃ کی رقم  دی جاسکتی ہے ؟ اس کی کوئی صورت  کہ زکوۃ   کی رقم مدرسہ کی تعمیر یا مدرسہ کی زمین خریدنے کے لیے انتظامیہ ِمدرسہ  استعمال کرسکے۔

الجواب حامدا ومصلیا

زکوٰۃ کا مصرف صرف مستحق فقراء اور مساکین ہیں ،زکوٰۃ کی رقم اور اشیاء  ان کو مالک بنا کر دینا ہی شرعاً لازم ہے ، لہذازکوۃکی رقم براہ راست مدرسہ کی تعمیر ، اور زمین خریدنے ، بجلی کے بل ، وغیر ہ میں خرچ  کرنا جائز نہیں ہے۔سوال کے مطابق اگر اس دینی مدرسہ کو تعمیر  کرنے کیلئےنہ کوئی وقف کی آمدنی ہے،نہ چندہ پوراہوتا ہے تو بدرجہ مجبوری  حیلہ تملیک کے ذریعہ   زکوٰۃ  کی رقم کو  مدرسہ کی تعمیر وغیرہ   پرلگایا جاسکتا ہے۔ حیلہ تملیک یہ  ہے کہ کسی مستحقِ زکوۃ  شخص کوزکوۃ کی رقم کا  اس طرح مالک بنایا جائے  کہ وہ اس رقم میں اپنے اختیار اور مرضی سے جو تصرف کرنا چاہے کرسکے، پھر اس کے بعد وہ اپنی مرضی سے اس مدرسہ کے لیے بطور چندہ دے دے۔

الدر المختار - (2 / 344)

ويشترط أن يكون الصرف ( تمليكا ) لا إباحة كما مر ( لا ) يصرف ( إلى بناء ) نحو (مسجد)...

حاشية ابن عابدين - (2 / 344)

 قوله ( نحو مسجد ) كبناء القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكرى الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه  زيلعي.

البحر الرائق - (2 / 263)

وقيد بالزكاة لأن النفل يجوز للغني كما للهاشمي وأما بقية الصدقات المفروضة والواجبة كالعشر والكفارات والنذور وصدقة الفطر فلا يجوز صرفها للغني لعموم قوله عليه الصلاة والسلام لا تحل صدقة لغتي ( لغني )  خرج النفل منها لأن الصدقة على الغني هبة كذا في البدائع.

 واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۵؍شعبان المعظم؍۱۴۳۸ھ

۲۲؍مئی؍۲۰۱۷ء