17 Nov, 2017 | 27 Safar, 1439 AH

Assalamu Alaikum Muhtaram Asatza karam. Myri umar 27 sal hy aur my 12 salo se private company my Receptionist ki job kr raha ho aur august 2016 k mahiny se myri salary Rs. 17,937 hogai yani 12 salo my ab yaha thak pohnchi hy. Myri mangni ko 7 sal hogaye hy aur agar mazeed aur 7 sal guzar jaye to to b shadi k pesy humary pas nai hy q k jo salary lety hy Allah k fazal se is se ghar ka kharcha chal jata hy lekin shadi k liye saving ka dosra koi zarya nai hy. Khulasa ye hy k myra 1 dost muje help k thor pe thory se pesy dena chah raha hy lekin wo zakat k peso se de raha hy aur muje ye pata hy k zakat k pesy itna lena chahiye thaky dosra b zakat deny wala na ban jaye, kya my ye zakat k pesy lay k apni shadi ki zaruryat my istemal kar sakta ho? baraye karam asani farmayega aur duwao ka khas talabgar. bandaye ajiz Aftab

سوال کا خلاصہ :

میں ایک کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں، میری عمر 27 سال ہے، سات سال  پہلے منگنی ہوئی تھی، پیسے نہ ہونے کی وجہ سے شادی نہیں ہورہی، دوست و احباب سے قرض مانگا ہے، انہوں نے مدد کرنے سے انکار کردیا، اب ایک دوست کہتے ہیں کہ میں آپ کو زکوۃ کے پیسے دیتا ہوں، توکیا گھربنانے کے لیے مجھے یہ پیسے لینا جائز ہے یا نہیں؟

میری شادی میں دو بڑی رکاوٹیں ہیں:

ایک  سونا بنانا،  اوردوسرا کمرہ اور بیت الخلا بنانا ہے، جو ہم سات سالوں میں نہیں بناسکے کیونکہ پیسے نہیں ہیں۔ تو کیا زکوۃ کے پیسوں سے یہ کام کراسکتا ہوں، اور میں اس کے کتنا زکوۃ لے سکتا ہوں، وہ مجھے کہتے ہیں کہ پہلے یہ کسی صحیح عالم سے پوچھ لو پھر میں آپ کو دونگا۔ براہ کرم رہنمائی فرمائی جائے۔ جزاکم اللہ۔

الجواب حامدا ومصلیا

صورت مسئولہ میں اگر آپ مستحق زکوٰۃ ہیں تو آپ کا دوست  آپ کو زکوٰۃ کی رقم گھر کی تعمیر کےلیےدے سکتاہے۔جس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ زکوٰۃ کی رقم سے آپ کے لیے گھر تعمیر کرائے اور اس کے بعد تعمیر شدہ گھر آپ کو مالک بناکر آپ کے قبضہ میں دے دے۔اس کی عملی صورت یہ ہے کہ وہ آپ کو گھر بنانے کاوکیل بنادے، آپ اس کی رقم سے گھربنائیں اور جب گھر بن جائے تو آپ  اس کوکہہ دیں کہ گھر بن گیا ہے، اس کے بعد وہ آپ کے حوالے کردے۔

یا وہ زکوٰۃ کی رقم تھوڑی تھوڑی کرکے آپ کو دیتے رہیں اور آپ اس سے مکان تعمیرکرتے رہیں۔ اس صورت میں بیک وقت  نصاب (ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت)کے بقدر زکوٰۃ کی رقم  نہ دے بلکہ اس سے کم کم دیتا رہے، اور جب وہ خرچ ہوجائیں تو دوسری رقم دے۔ یاآپ کسی سے  مکان کی تعمیر کے لیے قرض لے لیں، اور پھر قرض کی ادائیگی کے لیے آپ زکوٰۃ کی رقم لے لین اور فوری قرض ادا کردیں، اس صورت میں زکوٰۃ کی رقم تھوڑی تھوڑی وصول کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔

یہ بھی واضح رہے کہ مستحق زکوٰۃ وہ شخص ہے کہ جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی ،یا اس کی قیمت کے  بقدر نقدی،یا ضرورت سے زائد سامان موجود نہ  ہو۔

الدر المختار - (2 / 339)

مصرف الزكاة والعشر ... ( هو فقير وهو من له أدنى شيء ) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير تام مستغرق في الحاجة ( ومسكين من شيء له ).

الدر المختار - (2 / 344)

ويشترط أن يكون الصرف ( تمليكا ) لا إباحة كما مر.

وفی الهداية - (1 / 114)

 ويكره أن يدفع إلى واحد مائتي درهم فصاعدا وإن دفع جاز.

وفی الفتاوى الهندية - (1 / 188)

ويكره أن يدفع إلى رجل مائتي درهم فصاعدا وإن دفعه جاز.

وکذا فی خیر :3/470، فی فتاوی مفتی محمود: 3/360)

واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۳؍ذی الحجہ؍۱۴۳۷ھ

۲۶؍ستمبر ؍۲۰۱۶ء