17 Nov, 2017 | 27 Safar, 1439 AH

Maine Last Year Se Zakat Dena Shooroo Kiya hai, aur Mujhe yeh Pata nahi hai ke Pichle kitne Saal se mujhe Zakat Ada karna tha. aur ab main agar Pichle un Sab Zakat Ada karna ho to kaise Karen.

میں نے آخری سال سے زکوٰ ۃ دینا شروع کیا ہے، اور مجھے یہ  پتا نہیں ہے کہ پچھلے کتنا سال سے مجھے ادا کرنی ہے۔ اور اب میں اگر پچھلے ان سب  (سالوں) کی زکوٰۃ ادا کروں تو کیسے کروں؟

الجواب حامدا ومصلیا ومسلما

زکوٰۃ اللہ تعالیٰ کی طرف سےایک فریضہ ہے۔ اگر کوئی کسی وجہ سے کسی سال ، کئی سال  زکوٰۃ نہ نکال سکے تو بعد میں اس پر گذشتہ سالوں  کی زکوٰۃ نکالنا ضروری  ہوتاہے۔  اورسب سے پہلے جس دن کسی  کی ملکیت میں نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی، یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیّت کے بقدر نقد رقم،زیورات ، مال تجارت  ) آجاتاہے ، تو ٹھیک  ایک سال بعد قمری تاریخ کے اعتبار سے اس مہینے کی اسی تاریخ   کو اس پر زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہوجاتی ہے ۔ اور کسی شخص پر کچھ سالوں سے   زکوٰۃ  واجب ہے اور اس کو واجب ہونی  کی مدت کا علم نہیں ،تو اس صورت میں  اس پر ضروری ہے کہ غور وفکر م کرکے  تخمینہ اور اندازہ لگا ئے اور جو  مدت  بنتی ہو اس کو  مقرر کرلے، اور اس حساب سے زکوٰۃ ادا کرے ۔

 اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے  کہ گذشتہ سالوں میں سے ہرسال  آپ کے پاس کتنی    رقم  تھی، یا نصاب کی مالیت کی مقدار کیا تھی ؟  اگر معلوم ہے تو اس حساب سے ہرسال کی رقم  (نصاب)   سے  ڈھائی فیصد زکوٰۃ ادا کردیں۔

اور اگر  گذشتہ سالوں کی رقم کا یا نصاب کی مالیت کی معلوم نہیں تو غور و فکر کرکے اندازہ لگا کرتعین کر لیں کہ گذشتہ سالوں میں سے ہر سال آپ کے پاس کتنی رقم، یا نصاب کی مقدار کیا  تھی اور اس کا ڈھائی فیصد زکوٰۃادا کردیں۔

جہاں تک ممکن ہو اس بات کی کوشش کریں کہ اندازہ لگاتے وقت کم اندازہ نہ کریں، بلکہ کچھ زیادہ ہی لگالیں تاکہ زکوٰۃ کا کوئی ذرہ آپ کے ذمہ میں نہ رہے۔

فی الدر المختار - (2 / 259)

( وسببه ) أي سبب افتراضها ( ملك نصاب حولي ) نسبه للحول لحولانه عليه ( تام ) بالرفع صفة ملك خرج مال المكاتب... ( فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد ) سواء كان لله كزكاة وخراج أو للعبد ولو كفالة أو مؤجلا ولو صداق زوجته المؤجل للفراق... ( و ) فارغ ( عن حاجته الأصلية ) لأن المشغول بها كالمعدوم... ( نام لو تقديرا ) بالقدر على الاستنماء ولو بنائبه

وفی حاشية ابن عابدين - (2 / 259)

قوله ( ملك نصاب ) فلا زكاة في سوائم الوقف والخيل المسبلة لعدم الملك ولا فيما أحرزه العدو بدارهم لأنهم ملكوه بالإحراز عندنا خلافا للشافعي بدائع

 ولا فيما دون النصاب.

واللہ اعلم بالصواب

محمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۱؍شعبان؍۱۴۳۷ھ

۹؍مئی ؍۲۰۱۶ء