22 Oct, 2017 | 1 Safar, 1439 AH

اسلام علیکم میرے محترم میرا سوال یہ ہے کہ میری عمر تقریبا 30 سال ہے اس میں مجھ سے بہت سے نمازیں قزاں ہو چکی ہے۔ اور اس کی اصل تعداد کا مجھے علم نہیں ہے۔ اور اس نمازوں کا قزاں پڑھنا چاھتا ہوں اب مجھے ترتیب کا علم نہیں ہے کہ کیسے پڑھوں برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

اسلام علیکم میرے محترم میرا سوال یہ ہے کہ میری عمر تقریبا 30 سال ہے اس میں مجھ سے بہت سے نمازیں قضاہو چکی ہے۔ اور اس کی اصل تعداد کا مجھے علم نہیں ہے۔ اور اس نمازوں کا قضا پڑھنا چاھتا ہوں اب مجھے ترتیب کا علم نہیں ہے کہ کیسے پڑھوں برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب حامدا ومصلیا

جب سے آپ بالغ ہوئے ہیں، غور و فکر کر کے  محتاط حساب لگائیں   کہ اس وقت سے  اب تک کتنی نمازیں آپ  نہیں پڑھیں۔ جس تعداد پر دل مطمئن ہوجائے  اس کی قضا کرلی جائے۔ اور قضا نماز پڑھتے وقت نیت  اس طرح کی جائے گی کہ فجر کی جتنی نمازوں کی قضا میرے ذمہ میں ہے، ان میں سے  سب سے پہلی کی قضا کرتا ہوں، یاظہر کی جتنی نمازیں میرے ذمہ میں ہیں، ان میں سے سب سے پہلی  کی قضا کرتا ہوں۔ اسی طرح جس نماز کی قضا کرنا چاہتے ہوں  اس کا اسی طرح نام لے قضا پڑھیں۔ اور  یہ بھی واضح رہے کہ قضا صرف فرض نمازوں اور وتر کی پڑھی جاتی ہے، سنتوں کی قضا نہیں ہوتی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 76)

كثرت الفوائت نوى أول ظهر عليه أو آخره.

(قوله كثرت الفوائت إلخ) مثاله: لو فاته صلاة الخميس والجمعة والسبت فإذا قضاها لا بد من التعيين لأن فجر الخميس مثلا غير فجر الجمعة، فإن أراد تسهيل الأمر، يقول أول فجر مثلا، فإنه إذا صلاه يصير ما يليه أولا أو يقول آخر فجر، فإن ما قبله يصير آخرا، ولا يضره عكس الترتيب لسقوطه بكثرة الفوائت.

                واللہ اعلم بالصواب                 

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۱؍رجب؍۱۴۳۸ھ

۲۸؍مارچ؍۲۰۱۷ء