21 Oct, 2017 | 30 Muharram, 1439 AH

main engineering university main parhta hn. Yahan masjid kai imam sahab haftai main 2 chuttian krtai hain. us doran koi bhi shaks un ki jaga imamat kai liay agai kr dia jata hai.1)kabhi kabhi to aisa shaks imamat krwata hai jo darhi bhi katwata ho. aisi surat main hmain kia krna chahiay? kia hamari namaz us shaks kai pechai ho jati hai? 2)Imam sahab jb nahin hotai to us sorat main azan ka bhi masla hota hai. kabhi kabhi koi azan nai hti or kabhi kabhi 2 martaba azan ho jati hai. to aisi sorat main kia namaz ada ho jati hai? 3)Hamari masjid main aksr log bd main dusri jamaat masjid kai ander krwa rahai htai hain. to kia wo namaz qabool ho jati hai? agar dusri jamaat masjid kai ander ho rahi ho to kia us main shamil ho sktai hain ya apni namaz akailai parhain jbke ijtemai namaz ki fazilat zayada hai. 4)aik din fajr ki namaz main imam sahab sai kisi ayat main ghalti ho gai or namaz kai baad pta chala. phr imam sahab nai kisi mufti sb sai rabta kia or kch dair kai bd dobara fajr ki jamaat krwai. is doraan kch log namaz parh kai jaa chukai thai or un ko ghalti ka nai pata chala. to jo log jaa chukai thai to kia un ki namaz ada ho gai?

میں  انجینئرنگ  یونیورسٹی میں پڑھتا ہوں۔  یہاں مسجد کے امام صاحب ہفتہ میں دو چھٹیاں کرتے ہیں، ان دو دنوں میں  کوئی بھی شخص امامت کے لیے آگے کردیا جاتا ہے۔

1-  کبھی کبھی  ایسا شخص امامت کرواتا ہے جو داڑھی بھی کٹواتا ہے۔ ایسی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ کیا ایسے شخص کے پیچھے ہماری نماز ہوجاتی ہے؟

2-  امام صاحب جب نہیں ہوتے  تو اس صورت میں اذان کا بھی مسئلہ ہوتا ہے کہ  کبھی اذان نہیں ہوتی  ، اور کبھی دو مرتبہ ہوجاتی ہے۔، ایسی صورت میں ہماری نماز ہوجاتی ہے؟

3-   ہماری مسجد میں اکثر لوگ بعد میں دوسری جماعت کراتے ہیں، تو کیا ان کی نماز ہوجاتی ہے؟ تو اگر دوسری جماعت ہورہی ہو تو بعد میں آنے والا اس جماعت میں شریک ہوسکتا ہے یا اکیلے پڑھے؟

4-   ایک دن امام صاحب سے فجر کی نماز میں غلطی ہوئی ،  اور ان کو نماز کے بعد پتہ چلا، انہوں نے مفتی صاحب سے  رابطہ کرکے مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ دوبارہ نماز پڑھائی جائے، انہوں نے کچھ دیر دوبارہ جماعت کرائی ، اس سے پہلے کچھ لوگ چلے گئے تھے تو کیا  جو لوگ چلے گئے تھے  ان کو  غلطی کا پتہ نہیں تھا ، تو ان لوگوں کی نماز ہوگئی  ہے یا نہیں؟

الجواب حامد اومصلیاً

1-  ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے۔ داڑھی منڈانا یا ایک مشت سے کم کرنا  حرام ہے،  اور یہ عمل موجِب فسق ہے، اور امام کا نیک ،صالح  شریعت کا پابند ہونا ضروری ہے۔ لہذا داڑھی منڈانے والے  شخص کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے۔  البتہ ! اگر خدانخواستہ  وہاں موجود سبھی لوگ ہی  ایسے ہوں ، توپھر مکروہ نہیں۔

آپ کے ہاں یہ  ایک مستقل مسئلہ ہے، اور ہفتہ میں  دو دن  پیش آتا ہے، اس لیے  یونیورسٹی کی انتظامیہ اور وہاں کے بااثر لوگوں پرواجب ہے کہ ان دو دنوں کے لیے نیک صالح اور  متبع سنت امام کا انتظام کریں۔

2-   نماز کے لیے اذان دیناسنت ہے،  اذان دیےبغیر نماز ہوجاتی ہے، البتہ اذان کو چھوڑنے کا گناہ ہوگا۔

3-   جس مسجد کے نمازی اور امام متعین ہو، اس میں جب ایک مرتبہ محلہ کے لوگ  اذان اور اقامت کے ساتھ باجماعت نماز پڑھ لیں تو اس میں دوبارہ جماعت کرانا مکروہ تحریمی  ( گناہ ) ہے ، لہذا اس سے بچنا چاہیے۔

4-    امام نے کس قسم کی غلطی کی تھی؟ ، اس کے  جاننےکے بعد ہی جواب دیا جائے گا کہ  ان لوگو ں کو دوبارہ نماز پڑھنی چاہیے یا نہیں؟

فی الدر المختار (6/ 407)

يحرم على الرجل قطع لحيته.

وفی الدر المختار  (1/ 559)

(ويكره)  ... (إمامة عبد) ولو معتقا.... (وفاسق).

وفی حاشية ابن عابدين  (1/ 560)

 (قوله وفاسق) من الفسق: وهو الخروج عن الاستقامة، ولعل المراد به من يرتكب الكبائر كشارب الخمر، والزاني وآكل الربا ونحو ذلك، كذا في البرجندي إسماعيل. وفي المعراج قال أصحابنا: لا ينبغي أن يقتدي بالفاسق إلا في الجمعة لأنه في غيرها يجد إماما غيره. اهـ. قال في الفتح وعليه فيكره في الجمعة إذا تعددت إقامتها في المصر على قول محمد المفتى به لأنه بسبيل إلى التحول.

وفی الدر المختار (1/ 552)

 ويكره تكرار الجماعة بأذان وإقامة في مسجد محلة لا في مسجد طريق أو مسجد لا إمام له ولا مؤذن.

وفی حاشية ابن عابدين (1/ 552)

مطلب في تكرار الجماعة في المسجد  قوله ( ويكره ) أي تحريما لقول الكافي لا يجوز والمجمع لا يباح وشرح الجامع الصغير إنه بدعة كما في رسالة السندي. قوله ( بأذان وإقامة الخ ) عبارته في الخزائنأجمع مما هنا ونصها يكره تكرار الجماعة في مسجد محلةبأذان وإقامة إلا إذا صلى بهما فيه أو لا غير أهله أو أهله لكن بمخافتة الأذان ولو كرر أهله بدونهما أو كان مسجد طريق جاز إجماعا كما في مسجد ليس له إمام ولا مؤذن ويصلي الناس فيه فوجا فوجا فإن الأفضل أن يصلي كل فريق بأذان وإقامة على حدة كما في أمالي قاضيخان. والمراد بمسجد المحلة ما له إمام وجماعة معلومون كما في الدرر وغيرها

 قال في المنبع والتقييد بالمسجد المختص بالمحلة احتراز من الشارع وبالأذان الثاني احتراز عما إذا صلى في مسجد المحلة جماعة بغير أذان حيث يباح إجماعا ..... وأما مسجد الشارع فالناس فيه سواء لا اختصاص له بفريق دون فريق.

 واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۳۰؍جمادی الاول؍۱۴۳۸ھ

         ۲۸؍فروری؍۲۰۱۷ء