17 Jun, 2018 | 3 Syawal, 1439 AH

السَّلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ حضرت ایک طالبہ کے لئے ایام کے دنوں میں تفسیر کی کتاب کو چھونا جائز ہے؟کسی نے مسئلہ یوں بیان کیا تھا کہ اگر تفسیر کی کتاب میں قرآنی عربی کے الفاظ سے 50 فیصد زیادہ کسی اور زبان کے الفاظ ہوں تو ایسی تفسیر کی کتاب کو چھونا جائز ہے۔ ۲ حدیث مبارکہ کی کتاب کے بارے میں کیا حکم ہے،ایام کے دنوں میں حدیث کی کتاب پکڑ سکتے ہیں؟اور اگر حدیث کی عبارت پر ہاتھ لگ جائے تو گناہ ہوگا؟

السَّلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ حضرت ایک طالبہ کے لئے ایام کے دنوں میں تفسیر کی کتاب کو چھونا جائز ہے؟کسی نے مسئلہ یوں بیان کیا تھا کہ اگر تفسیر کی کتاب میں قرآنی عربی کے الفاظ سے 50 فیصد زیادہ کسی اور زبان کے الفاظ ہوں تو ایسی تفسیر کی کتاب کو چھونا جائز ہے۔

 ۲ حدیث مبارکہ کی کتاب کے بارے میں کیا حکم ہے،ایام کے دنوں میں حدیث کی کتاب پکڑ سکتے ہیں؟اور اگر حدیث کی عبارت پر ہاتھ لگ جائے تو گناہ ہوگا؟

الجواب حامدا ومصلیا

ایام (حیض کی حالت) میں تفسیر اور فقہ کی کتابوں کو چھونا  اور پڑھناجائز ہے۔ جس تفسیر کی کتاب میں تفسیر کا حصہ زیادہ ہے (خواہ تفسیر عربی میں ہو یا اردو میں) اس کو  بھی ایام (حیض کی حالت) میں چھونے کی گنجائش ہے، لیکن جہاں قرآنی آیات لکھی ہیں، ان پر ہاتھ لگا نا جائز نہیں ہے۔  اور جس تفسیر کی کتاب میں قرآن کا حصہ زیادہ ہو، اور تفسیر کہیں کہیں ہو تو (خواہ تفسیر عربی میں ہو یا اردو میں) اس کو ایام   (حیض کی حالت) میں چھونا جائز نہیں ہے۔

فی الدر المختار (1/ 177)

وقد جوز أصحابنا مس كتب التفسير للمحدث ولم يفصلوا بين كون الأكثر تفسيرا أو قرآنا ولو قيل به اعتبارا للغالب لكان حسنا .  قلت لكنه يخالف ما مر فتدبر.

وفی حاشية ابن عابدين (1/ 177)

فيكره مسه دون غيره من الكتب الشرعية كما جرى عليه المصنف تبعا للدرر ومشى عليه في الحاوي القدسي وكذا في المعراج والتحفة فتلخص في المسألة ثلاثة أقوال  قال ط وما في السراج أوفق بالقواعد . أقول الأظهر والأحوط القول الثالث أي كراهته في التفسير دون غيره لظهور الفرق فإن القرآن في التفسير أكثر منه في غيره وذكره فيه مقصود استقلالا لا تبعا فشبهه بالمصحف أقرب من شبهه ببقية الكتب . والظاهر أن الخلاف في التفسير الذي كتب فيه القرآن بخلاف غيره كبعض نسخ الكشاف . قوله ( ولو قيل به ) أي بهذا التفصيل بأن يقال إن كان التفسير أكثر لا يكره وإن كان القرآن أكثر يكره والأولى إلحاق المساواة بالثاني وهذا التفصيل ربما يشير إليه ما ذكرناه عن النهر وبه يحصل التوفيق بين القولين . قوله ( قلت لكنه إلخ ) استدراك على قوله ولو قيل به الخ . وحاصله أن ما مر في المتن مطلق فتقييد الكراهة بما إذا كان القرآن مخالف له ولا يخفى أن هذا الاستدراك غير الأول لأن الأول كان على كراهة مس التفسير وهذا على تقييد الكراهة فافهم .  قوله ( فتدبر ) لعله يشير به إلى أنه يمكن ادعاء تقييد إطلاق المتن بما إذا لم يكن التفسير أكثر فلا ينادي دعوى التفصيل.

واللہ اعلم بالصواب

      احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

  دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۲؍صفر المظفر؍۱۴۳۹ھ

                ۱۲؍نومبر؍۲۰۱۷ء