17 Nov, 2017 | 27 Safar, 1439 AH

Assalamoalaikum aaj Kal Jo log deen ka ziada Ilm nai rkhte vo paki napaki ka khayal rkhne me laparwahi krte hain.Garmi ki waja se hathon me paseena ajata Hai ye geele hath ager kisi aisi cheez ko lag Jaen Jo paak nai Hai jaise k public washroom ka sink ya phr uni ki laboratory me alcohol ki bottle etc toh ab iss tarah ki soorat e haal SE kaise bchein?Kia Kiya jae k hum napaki se interaction se bch jaen

جو لوگ دین کا زیادہ علم نہیں رکھتے، وہ پاکی نا پاکی  کا خیا ل نہیں رکھتے، اس میں لاپرواہی کرتے ہیں۔ گرمی کی وجہ سے ہاتھو میں پسینہ آجاتا ہے۔  یہ گیلے ہاتھ کسی  ایسی چیز پر کو لگ جائے جو پاک نہیں ہے، جیساکہ پبلک واش روم وغیرہ ، یا پھر  لیبارٹری میں الکحل کی بوتل پڑی ہوتی ہے، اس کو ہاتھ لگ جاتا ہے۔ تو اس طرح کی صورت حال سے  نجاست سے کیسے بچہ جائے۔

الجواب حامدا ومصلیا

اگر بیسن وغیرہ پر   بظاہر کوئی نجاست نہ ہو تو  اس کو پاک سمجھا جائے گا۔  اسی طرح جو لوگ ناپاکی میں لاپرواہی کرتے ہیں اگر ان کے ہاتھوں میں بظاہر کوئی نجاست نہ ہو ، تو  ان کو پاک سمجھا جائےگا۔ لہذا جب بظاہر نجاست  لگی ہوئی نہ ہو، تو اس کو پاک ہی سمجھا جائے گا، اور  اس حوالے سے مزید کھید کُرید  میں  نہیں پڑنا چاہیے۔  

شرعی  حکم  کے لحاظ سے الکحل کی دوقسمیں ہیں :

الف ۔۔۔ وہ الکحل جو منقّی ٰ، انگور یا کھجور کی شراب سے بنایا گیا ہو ، یہ بالاتفاق ناپاک ہے ۔دوا، کھانے کی چیز، اور خوشبو(پرفیوم) وغیرہ میں ملایا گیا ہو تو وہ بھی ناپاک  ہے اور اس کا استعمال  حرام ہے ۔

ب ۔۔۔ وہ الکحل جو مذکورہ بالا اشیاء کے علاوہ کسی اور چیز مثلاً ، جَو، آلو ،شہد اور چاول وغیرہ کی شراب سے بنایا گیا ہو۔ راجح قول کے مطابق یہ پاک ہے

آج کل کے الکحل  چونکہ عام طور پر اس دوسری قسم کے ہوتے ہیں اس لئے راجح قول کے مطابق یہ پاک ہیں اورکپڑے پر لگنے سے کپڑے ناپاک نہیں ہوں گے۔ تاہم اگر کسی الکحل کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہوجائے کہ وہ پہلی قسم کی شراب سے بنایا گیا ہے تو وہ ناپاک ہے، لیکن صرف اس  کی بوتل  کو ہاتھ  لگالینے سے ہاتھ  ناپاک نہیں ہوں گے ، جب تک  الکحل کا اثر جسم  کو نہ پہنچے۔

الفتاوى الهندية (1/ 48)

ثم اتفق المتأخرون على سقوط اعتبار ما بقي من النجاسة بعد الاستنجاء بالحجر في حق العرق حتى إذا أصابه العرق من المقعدة لا يتنجس.

وفی مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 95)

والطاهر لا يزول طهارته بالشك .

لمافی تکملة فتح الملهم (۳/ ۶۰۸):

اما غیر الاشربۃ   الاربعۃ فلیست نجسۃ عند الامام ابی حنیفۃ ؒ . وبھٰذا یتبین حکم الکحول المسکرۃ(AL COHALS)   التی عمت  بھا البلوٰی الیوم فانھا تستعمل فی کثیر من الادویۃ والعطور والمرکبات الاخریٰ ،فانھاان اتخذت من العنب اوالتمر فلاسبیل الی  حلتھا او طھارتھا وان اتخذت من غیرھما فالامر فیھا سھل علی مذھب ابی حنیفۃؒ ولایحرم استعمالھا للتداوی او لاغراض مباحۃ اخری مالم تبلغ حد الاسکار،لانھا انماتستعمل مرکبۃ مع المواد الا خریٰ  ولایحکم بنجاستھااخذاًبقول ابی حنیفۃؒ.

وان معظم الکحول التی تستعمل الیوم فی الادویۃ والعطور وغیرھا لاتتخذ من العنب اوالتمر ،انماتتخذ من الحبوب  اوالقشور او البترول وغیرہ  ..... وحینئذھناك  فسحۃ فی الاخذ بقول  ابی حنیفۃ ؒ عند عموم ا لبلوی واللہ سبحانہ اعلم .

واللہ اعلم بالصواب 

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۱۷؍رجب المرجب؍۱۴۳۸ھ

۱۵؍اپریل؍۲۰۱۷ء