17 Nov, 2017 | 27 Safar, 1439 AH

Kiya Quran ki ustadza Haiz ke dooran: 1) bachoon se Quran sun sakti hai? 2) galat pary howay alfaz ko durost kar sakti hai? 3) ayat ko tor tor ke, lafz ba lafz bachoon ko yaad karwa sakti hai? جزاك الله خيرا

1-   کیا قرآن پڑھانے والی  عورت( معلمہ ) حیض کے دنوں میں قرآن مجید بچوں سے سن سکتی ہے ؟

2-    غلط پڑھے ہوئے الفاظ کو درست کراسکتی ہے؟

3-   آیات کو توڑ توڑ  کر لفظ  بلفظ بچوں کو یا د کراسکتی ہے؟

الجواب حامدا ومصلیاً

1-  قرآن پڑھانے والی  عورت( معلّمہ )  کے لیے ماہواری کے ایام میں  قرآن کریم کی تلاوت کرنا اور اس کو ہاتھ لگانا جائز نہیں، البتہ وہ قرآن کریم کو چھوئے بغیر بچوں سے سن سکتی ہے، سننے میں کوئی حرج نہیں۔

2-  3-  غلط پڑھے ہوئے الفاظ کو درست  کرانےاور بچوں کو  سبق یا د کرانے کا طریقہ یہ ہے کہ آیت کا  ہر ہر کلمہ الگ  الگ کرکے  بتلایا جائے، یعنی رواں پڑھنے کےبجائے سانس توڑ توڑ کر پڑھائے، مثلاً: الحمد ..... للہ ...... ربّ ..... العالمین. اس طرح معلّمہ کے لیے آیت  کے کلمات کے لیے ہجے کرانا جائز ہے۔

فی حاشية ابن عابدين (1/ 293)

قوله ( وقراءة قرآن ) أي ولو دون آية من المركبات لا المفردات لأنه جوز للحائض المعلمة تعليمه كلمة كلمة كما قدمناه وكالقرآن التوراة والإنجيل والزبور كما قدمه المصنف .قوله ( بقصده ) فلو قرأت الفاتحة على وجه الدعاء أو شيئا من الآيات التي فيها معنى الدعاء ولم ترد القراءة لا بأس به.

واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۸؍جمادی الاول؍۱۴۳۸ھ

۲۵؍فروری؍۲۰۱۷ء