25 Apr, 2018 | 9 Syaaban, 1439 AH

Assalam-o-Alaikum, aap say kuch meeras k masail k baaray may pochana hay.. mere dada ji ka inteqal 20 january 2018 ko huwa. unki aolad may 3 betay hay aor 5 betian hay. meri dadi g b abi hayat hay, unko alzhimer ki bemari hay. mere abbu sab say badhay hay. jo naqd pese wo chorh kar gaye hay aor jo jaidad wo chorh kar gaye hay un k bare may aap say pochna ta. 1. jo naqd pese wo chorh kar gaye hay wo mere walid sahb aor chacha ne apni 3 behno ko jo thore ghareeb tay unko 40,000+40,000+40,000 diye aor baqi 2 behno ko 30,000+30,000 diye. sab say choti bhai ko 25,000 diye. mere abbu ne un say ye b kaha k in peso may say jitna ho sakay apne walid sahb k naam per sadqa karday. gawo k msajido may b 20,000+20,000+20,000 aor gawo may aik female madrassa hay usko 15,000 diye. mere walid sahb aor chacha nay khud un peso say kuch b nai liya. aap say pochna tay k ye taqseem jo mere abbu aor chacha ne kiye hay kia ye shariat k mutabiq teek hay? 2. jo jaidad wo chorh kar gay hay unki taqseem k baray may rehnumai farmaye, jaidad ki tafseel ye hay. i. pehli jaidad wo hay jo khalis mere dada g ne khud li ti ya un k walid sahb ki taraf say unko mili ti aor wo ab b un k naam per hay. ii. dosri jaidad wo hay jo mere dada g, mere abbu aor chachowo ne pese jama kar k li ti aor wo mere dada g k naam per hay. iii. theesri jaidad wo hay jo mere dada g, mere abbu aor chachowo ne pese jama kar k li ti aor wo un k theeno beto k naam per hay. iv. chothi wo hay jo sirf mere abbu aor chachowo ne pese jama kar k li ti aor wo un theeno k naam per hay. v. panchwi jaidad wo hay jo mere dada g k naam per jo zameen ti wo mere dada g ne apni hayat may hi apne theeno beto k naam per transfer kar di ti. is may qabil zikar baat ye hay k jo jaidad inho ne ikathe li ti un may ziada tar pese mere abbu ne diye tay lekin ab un ko yaad nai hay k exactly kitne kitne pese har aik ne diye tay. ya us waqt ye baat b nai huwi ti k baad may ye pese ham pir aik dosre ko dengay. ab aap say poochna ta k is jaidad ki wirasat kis tareeqay say hogi. jesa may ne ooper zikar kiya, mere dada k 3 betay aor 5 betyian hay. mere dadi b abi zinda hay.

السلام علیکم ! آپ سے کچھ میراث کے مسائل کے بارے میں پوچھنا ہے ،

  1. میرے دادا کا انتقال 20جنوری 2018 کو ہوا ان کی اولاد میں تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں ۔میری دادی جی بھی ابھی حیات ہیں ،ان کو alzhimerکی بیماری ہے ۔میرے ابو سب سے بڑے ہیں ،جو نقد پیسے وہ چھوڑ گئے ہیں اور جو جائیداد وہ چھوڑ کر گئے ہیں ان کے بارے میں آپ سے پوچھنا تھا ۔ جو نقد پیسے چھوڑ کر گئے ہیں وہ میرے والد اور چچا نے اپنی 3بہنوں کو جو تھوڑے غریب تھے ان کو 40,000+40,000+40,000دیے اور باقی 2 بہنوں کو 30,000+30,000دئیے ۔سب سے چھوٹے بھائی کو 25,000دیئے۔میرے ابو نے ان سے یہ بھی کہا کہ ان پیسوں میں سے جتنا ہو سکے اپنے والد کے نا م پر صدقہ کر دیں ،گاوں کے مسجدوں میں بھی 20,000+20,000+20,000اور گاوں میں ایک خواتین کا مدرسہ ہے اس کو 15,000 دیئے ہیں ۔میرے والد صاحب اور چچا نے ان پیسوں سے کچھ بھی نہیں لیا ،آپ سے پوچھنا تھا کہ یہ تقسیم جو میرے ابو اور چچا نے کی ہے کیا یہ شریعت کے مطابق ٹھیک ہے ۔؟
  2. جو جائیداد وہ چھوڑ کر گئے ہیں ان کی تقسیم کے بارے میں رہنمائی فرمائیں ۔جائیداد کی تفصیل یہ ہے،

۱۔۔پہلی جائیداد وہ ہے جو خالص میرے دادا جی نے خود لی تھی یا ان کے والد صاحب کی طرف سے ا ن کو ملی تھی اور وہ اب بھی ان کے نام پر ہے ۔

۲۔۔دوسری جائیداد وہ ہے جو میرے داد ،میرے ابو اور چچاوں نے پیسے جمع کرکے لی تھی اور میرے داد جی کے نام پر ہے ۔

۳۔۔تیسری جائیداد وہ ہے میرے دادا جی ،میرے ابو اور چچاوں نے پیسے جمع کرکے لی تھی اور وہ ان کے تینوں بیٹوں کے نام پر ہے ۔

۴۔۔چوتھی وہ ہے جو صرف میرے ابو اور چچاوں نے پیسے جمع کرکے لی تھی اور وہ ان تینوں کے نام پر جو زمین تھی وہ میرے داد جی نے اپنی حیات میں ہی اپنے تینوں بیٹوں کے نام پر ٹرانسفر کر دی تھی ۔اس میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ جو جائیداد انہوں نے اکٹھی لی تھی ان میں  زیادہ تر پیسے میرے ابو نے دئیے تھے لیکن اب ان کو یاد نہیں ہے کہ مکمل طور پر کتنے کتنے پیسے ہر ایک نے دیئے تھے ،یا اس وقت یہ بات بھی نہیں ہوئی تھی کہ بعد میں یہ پیسے ہم پھر ایک دوسرے کو دیں گے ۔

5- اب آپ سے پوچھنا تھا کہ اس جائیداد کی وراثت کس طریقے سے ہو گی ،جیسا میں نے اوپر ذکر کیا ،میرا داداکے 3بیٹے اور 5بیٹیاں ہیں ،میرے دادا بھی زندہ ہیں۔

الجواب حامدا ومصلیا

  1.  یہ تقسیم درست نہیں ہے، اس کی صحیح تقسیم  جواب کے   آخر میں درج ہے۔
  2. جو جائیداد آپ کے دادا نے صرف اپنے پیسوں سے لی تھی ، وہ  صرف آپ کے دادا کی ہے، اور اس  کے ترکہ میں شمار ہوکر ورثہ میں تقسیم کی جائے گی۔
  3. جو جایئداد آپ کے ابو، چچاؤں، اور دادا نے  پیسے ملاکر خریدی ہے، وہ ساری جائیداد ان( شرکاء) کے درمیان مشترک ہے، اب چونکہ یہ معلوم نہیں ہے کہ کس نے کتنا رقم لگائی ہے، اس لیے یہ شرکت فاسدہ ہونے کی وجہ سے ان کے درمیان برابر، برابر تقسیم ہوگی، اور جو حصہ آپ کے  دادے کا بنے گا، وہ دادےکے ترکہ میں تقسیم ہوگا۔ خواہ یہ جائیداد آپ کے دادا کے نام پر ہو، یا  آپ  کے ابو اور چچاؤں کے نام پر ہو۔
  4. جو جائیداد آپ کے ابو اور چچاؤں نے ملکر خریدی ہے، وہ آپ کے ابو اور چچاؤں کی ہے، اس میں  آپ کے دادا کا حصہ نہیں ہے۔
  5. صورتِ مسئولہ  میں ترکہ کی شرعی تقسیم میں تفصیل یہ ہے کہ آپ کے دادا مرحوم  نے  انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ  مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان چھوڑا ہے ،وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے،اس میں سےکفن ودفن  کےاخراجات نکالنےکے بعد اگر ان کے ذمہ کسی قسم کے قرض وغیرہ مالی واجبات ہوں، تو انہیں ترکہ سے اداکیاجائے، پھر اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی ماندہ ترکہ کے ایک تہائی تک سے اسے پوراکیا جائے، پھر جو ترکہ باقی بچ جائے اس کواٹھاسی (88) برابر حصوں میں تقسیم کردیا جائے۔ اس میں سے ہر بیٹے کو چودہ( 14) حصے اور ہر بیٹی  کو سات (7) حصے اور بیوہ  (دادی) کو گیارہ حصے دیے جائیں۔

فی الدر المختارمع رد المحتار - (4 / 326)

(والربح في الشركة الفاسدة بقدر المال ولا عبرة بشرط الفضل) وفی رد المحتار: قوله ( والربح الخ ) حاصله أن الشركة الفاسدة إما بدون مال أو به من الجانبين أو من أحدهما فحكم الأولى أن الربح فيها للعامل كما علمت والثانية بقدر المال ولم يذكر أن لأحدهم أجرا لأنه لا أجر للشريك في العمل بالمشترك.

وفی البحر الرائق - (5 / 198)

قوله ( والربح في الشركة الفاسدة بقدر المال وإن شرط الفضل ) لأن الربح فيه تابع للمال فيقدر بقدره كما أن الريع تابع للزرع في المزارعة والزيادة إنما تستحق بالتسمية وقد فسدت فبقي الاستحقاق على قدر رأس المال أفاد بقوله بقدر المال أنها شركة في الأموال .

وفی تنقيح الفتاوى الحامدية - (5 / 136)

والربح في الشركة الفاسدة بقدر المال وإن شرط الفضل ؛ لأن الربح فيها تابع للمال فيقدر بقدره .

   واللہ اعلم بالصواب

      احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

  دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۱۲؍رجب المرجب؍۱۴۳۹ھ

                     ۳۰؍مارچ؍۲۰۱۸ء