22 Jan, 2018 | 5 Jamadil Awal, 1439 AH

میڈیکل انشورنس اختیاری ہے۔ لیکن کمپنی یہ بینیفٹ مفت دیتی ہے کیونکہ کمپنی خود انشورنس کرواتی ہے۔ کیا میں اپنے لیے یا اپنی فیملی کے لئے کمپنی کو کچھ فیس ادا کرکے میڈیکل کی سہولت لے سکتا ہوں۔ کیونکہ میں خود میڈیکل انشورنس نہی خرید رہا۔ میں صرف کمپنی کو فیس ادا کر رہا ہوں۔ On Nov 29, 2017, at 11:03 PM, Ask Mahad wrote: Dear Muhammad Asim, Please read the answer below for you question "اسلام علیکم حضرت میں کینیڈا میں رہتا ہوں اور ایک موبائل کمپنی میں کام کرتا ہوں۔ کمپنی کے بینیفٹس میں میڈیکل شامل ہے جس میں کور ہوتا ہوں۔ اگر میں اپنی فیملی کا میڈیکل بھی شامل کروانا چاہوں تو ماہانہ کچھ فیس کمپنی کو ادا کر نا ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ کہیں یہ انشورنس کے زمرے میں تو نہی آتا۔ کیونکہ بیشتر کمپنیاں ملازمیں کی میڈکل انشورنس کرواتی ہیں اور ملازم کمپنی کو ایک برائے نام فیس ادا کرتا ہے یا کچھ بھی ادا نہی کرتا۔ کیونکہ یہاں میڈیکل بہت مہنگا ہے۔ کیا میں اپنے لیے یا اپنی فیملی کے لئے کمپنی کو کچھ فیس ادا کرکے میڈیکل کی سہولت لے سکتا ہوں۔ کیونکہ میں خود میڈیکل انشورنس نہی خرید رہا۔ میں صرف کمپنی کو فیس ادا کر رہا ہوں۔ جزاک اللہ": Answer: یہ میڈکل انشورنس کرانا اختیاری ہے یا قانونی طور پر مجبور کیا جاتا ہے کہ میڈیکل انشورنس ضرور کرانا ہے؟ Regards

اسلام علیکم حضرت میں کینیڈا میں رہتا ہوں اور ایک موبائل کمپنی میں کام کرتا ہوں۔ کمپنی کے بینیفٹس میں میڈیکل شامل ہے جس میں کور ہوتا ہوں۔ اگر میں اپنی فیملی کا میڈیکل بھی شامل کروانا چاہوں تو ماہانہ کچھ فیس کمپنی کو ادا کر نا ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ کہیں یہ انشورنس کے زمرے میں تو نہی آتا۔ کیونکہ بیشتر کمپنیاں ملازمیں کی میڈکل انشورنس کرواتی ہیں اور ملازم کمپنی کو ایک برائے نام فیس ادا کرتا ہے یا کچھ بھی ادا نہی کرتا۔ کیونکہ یہاں میڈیکل بہت مہنگا ہے۔ کیا میں اپنے لیے یا اپنی فیملی کے لئے کمپنی کو کچھ فیس ادا کرکے میڈیکل کی سہولت لے سکتا ہوں۔ کیونکہ میں خود میڈیکل انشورنس نہی خرید رہا۔ میں صرف کمپنی کو فیس ادا کر رہا ہوں۔ یہ میڈیکل انشورنس اختیاری ہے۔ لیکن کمپنی یہ بینیفٹ مفت دیتی ہے کیونکہ کمپنی خود انشورنس کرواتی ہے۔ کیا میں اپنے لیے یا اپنی فیملی کے لئے کمپنی کو کچھ فیس ادا کرکے میڈیکل کی سہولت لے سکتا ہوں۔ کیونکہ میں خود میڈیکل انشورنس نہی خرید رہا۔ میں صرف کمپنی کو فیس ادا کر رہا ہوں۔

الجواب حامدا ومصلیا

مروجہ انشورنس  کمپنیوں کا کاروبار سود اور قمار (جوا) وغیرہ پر مبنی ہوتاہے۔  لہذا صورت مسؤلہ میں میڈیکل  انشورنس سے بچنا ضروری ہے۔البتہ علماء کرام نے انشورنس کا شرعی متبادل "تکافل" کے نام سے پیش کیا ہے ،جس کے تحت متعدد تکافل کمپنیاں مستند علماء کرام کی زیرِ نگرانی کام کررہی ہیں، ان سے معاملات کرنا جائز ہے۔

     واللہ اعلم بالصواب

      احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

  دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۶؍ربیع الثانی؍۱۴۳۹ھ

                                                                               ۲۵؍دسمبر؍۲۰۱۷ء