17 Jun, 2018 | 3 Syawal, 1439 AH

As salaamuwalaikum wa rahmatullahi wa barakatahu, Aurat ka satar mehram mardon K liye wahi hai Jo namaz ka satar hai,Aur gair mehram ko chehra bhi dikhana jayez nahi, aur hadees mein bhi humne suna tha k jeth toh mauth hai.Likin kisi k majboori hai aur unko devar aur jeth K saath rehna hai aur parda karne aur zarurat se zyada baat naa karne par bohath sunaya jata ho ,aur zarurat par agar kahin bahar jana ho toh devar k saath hi jaane ki ijazat hai toh phir kya karen? Jab k uss ladki devar se baat karna ya iss tarha bahar jana bilkul gawara na ho.

دیور اور جیٹھ سے پردہ کرنا ضروری ہے، اگر کہیں پر لڑکی کرے تو اس کو باتیں سنائی جاتی ہوں تو لڑکی کیا کرے؟ ایسی طرح دیور کے ساتھ باہر جانا پڑ جاتا ہے، تو لڑکی کو کیا کرنا چاہیے جبکہ گھر والے مجبور کرتے ہیں؟

الجواب حامدا ومصلیا

دیور سے پردہ بھی ضروری ہے،لہذا عورت اپنے دیور، جیٹھ کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے، چہرے کا پردہ کرے، بے تکلفی کے ساتھ باتیں نہ کرے، ہنسی مذاق نہ کرے۔

 آج کل چونکہ پردے کا رواج نہیں، اس لئے معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے آپ ساس سسر، اورشوہر وغیرہ   کی بے ادبی سے مکمل بچیں، اور ان کو نرمی اور شفقت سے سمجھائیں، اللہ تعالیٰ سے دعائیں بھی کریں۔  اپنے شرعی پردہ کو بھی جاری رکھیں، اور جو وہ کہتے ہیں ،اس کو برداشت کرلیا کریں، یقینا اللہ تعالی اس پربھی الگ سے  اجر عطافرمائیں گے۔

واللہ اعلم بالصواب

      احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

  دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۱؍صفر المظفر؍۱۴۳۹ھ

                      ۱۱؍نومبر؍۲۰۱۷ء