22 Nov, 2017 | 3 Rabiul Awal, 1439 AH

Asslam o ALAIKUM medicines mai alcohol hota h . kya wo medicines halal hoti h?

دوائیوں میں الکحل ہوتا ہے ۔ کیا وہ دوائیاں حلال ہے؟

الجواب حامداومصلیا

شرعی  حکم  کے لحاظ سے الکحل کی دوقسمیں ہیں :

الف ۔۔۔ وہ الکحل جو منقّی ٰ، انگور یا کھجور کی شراب سے بنایا گیا ہو ، یہ بالاتفاق ناپاک ہے ۔دوا، کھانے کی چیز، اور خوشبو(پرفیوم) وغیرہ میں ملایا گیا ہو تو وہ بھی ناپاک  ہے اور اس کا استعمال  حرام ہے ۔

ب ۔۔۔ وہ الکحل جو مذکورہ بالا اشیاء کے علاوہ کسی اور چیز مثلاً ، جَو، آلو ،شہد اور چاول وغیرہ کی شراب سے بنایا گیا ہو۔ راجح قول کے مطابق یہ پاک ہے

آج کل کے الکحل  چونکہ عام طور پر اس دوسری قسم کے ہوتے ہیں، اس لئے راجح قول کے مطابق یہ پاک ہیں اور اس کواستعمال کرنا جائز ہے ، کپڑے پر لگنے سے کپڑے ناپاک نہیں ہوں گے۔اور جس دوائی یہ ملائی گئی ہو اس کا استعمال بھی جائز ہے۔ تاہم اگر کسی دوائی کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہوجائے کہ اس میں  پہلے قسم والی الکحل ڈالی گئی  ہے تو اس کا استعمال کرنا حرام اور ناجائز ہے۔

لما فی تکملۃ فتح الملھم (۳/ ۶۰۸):

اما غیر الاشربۃ   الاربعۃ فلیست نجسۃ عند الامام ابی حنیفۃ ؒ . وبھٰذا یتبین حکم الکحول المسکرۃ(AL COHALS)   التی عمت  بھا البلوٰی الیوم فانھا تستعمل فی کثیر من الادویۃ والعطور والمرکبات الاخریٰ ،فانھاان اتخذت من العنب اوالتمر فلاسبیل الی  حلتھا او طھارتھا وان اتخذت من غیرھما فالامر فیھا سھل علی مذھب ابی حنیفۃؒ ولایحرم استعمالھا للتداوی او لاغراض مباحۃ اخری مالم تبلغ حد الاسکار،لانھا انماتستعمل مرکبۃ مع المواد الا خریٰ  ولایحکم بنجاستھااخذاًبقول ابی حنیفۃؒ.

وان معظم الکحول التی تستعمل الیوم فی الادویۃ والعطور وغیرھا لاتتخذ من العنب اوالتمر ،انماتتخذ من الحبوب  اوالقشور او البترول وغیرہ  ..... وحینئذھناك  فسحۃ فی الاخذ بقول  ابی حنیفۃ ؒ عند عموم ا لبلوی واللہ سبحانہ اعلم .

                                                                                   واللہ اعلم بالصواب

      احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

  دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۱۸؍صفر المظفر؍۱۴۳۹ھ

                     ۸؍نومبر؍۲۰۱۷ء