22 Nov, 2017 | 3 Rabiul Awal, 1439 AH

Asalam o alikum G pics banana nd pas rakhna jsy aj kal mobile mein pics bnaty hain selfies r ghron m lgaty hain kya y gunha h?? quran or hadhes sy sabat kryy? ek aur sawal hai apsy k jeens (paint) wear krna y gunah h ??? islami dress kon C hai?? w salam g

السلام علیکم !

1-  موبائل سے تصویر بنانا اور اس کو اپنے پاس رکھنا، سیلفیاں بنانا، اس کا پرنٹ نکال کر گھروں میں لگانا کیسا ہے؟

2-   کیا جینز (  پینٹ) پہننا گناہ ہے؟

3-  اسلامی لباس کیا ہے؟

الجواب حامدا ومصلیا

1- ڈیجیٹل کیمرے کے ذریعے بنائی گی تصویرکا اگر پرنٹ لیا جائے، یا انہیں پائیدار طریقے سے کسی چیز پر نقش کر لیا جائے، تو شرعاً ان پر تصویر کے احکام جاری ہوں گے ۔البتہ اگر ان کا پرنٹ نہ لیا جائے یا پائیدار طریقے سے کسی چیز پر نقش نہ کیا جائے تو ان کے تصویر ہونے میں حضراتِ علماء کرام  کی تین رائیں ہیں :

۱۔ بعض حضراتِ علماءِ کرام کے نزدیک ان پر تصویر کے احکام جاری ہوتے ہیں۔

۲۔ بعض حضراتِ علماءِ کرام کے نزدیک ان پر تصویر کے احکام جاری نہیں ہوتے ہیں۔

۳۔ بعض حضراتِ علماءِ کرام کے نزدیک اگرچہ تصویر ہیں ۔لیکن چونکہ ان کے بحکم ِ تصویر ہونے یا نہ ہونے میں ایک سے زیادہ فقہی آراء ہیں لہذا مجتہد فیہ ہونے کی بناء پر بقدر حاجتِ شرعیہ مثلاً جہاد وغیرہ کے موقع پر ان کے استعمال کی گنجائش ہے۔

لہذا   احتیاط اسی میں ہے کہ ڈیجیٹل کیمرے کے ذریعے تصویر   اور سیلفیاں بنانے سے اجتناب کیا جائے۔

2- آج کل اگرچہ مسلمانوں میں پینٹ شرٹ کا استعمال عام ہوگیا ہے، مگر چونکہ  یہ نیک لوگوں کا لباس نہیں  ہے، اور اصلاً یہ غیروں کا لباس ہے اس لیے اس کا استعمال پسندیدہ نہیں ہے، اور  بلا مجبوری اس کا استعمال بہتر  نہیں ہے۔  ایک مسلمان کو ہرچیز میں حتی الامکان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کرنا چاہیے وہ ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں۔ لیکن واضح رہے کہ اگر کوئی لباس اتنا چست و تنگ ہوکہ اس کو پہن کر  جسم کے پوشیدہ رکھے جانے والے اعضاء،  مثلا:  کولہے ،ران وغیرہ کی بناوٹ اور حجم نظر آتا ہو تو اس کا پہننا بالکل جائز  ہی نہیں ہے۔

3- رسول اللہ ﷺ کا  کا لباس مبارک ہمیشہ کے لیے کوئی مقرر نہیں تھا، بلکہ مختلف حالات، یعنی گرمی، سردی، سفر اور گھر میں، اور دوسرے طبعی تقاضوں کی وجہ سے مختلف قسموں اور مختلف رنگوں  والا ہوتا تھا۔ کبھی ٹوپی،  کبھی عمامہ، کبھی  کرتا یا جبہ، اور  کبھی تہبند استعمال فرمایا ہے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پائجامہ کو بھی پسند فرمایا ہے اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر بدن پر بجائے جبہ وغیرہ کے ایک چادر استعمال فرماتے تھے اور کبھی کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کندھے پر ایک چادر مزید رکھتے تھے۔

 آپ ﷺ کو قمیص زیادہ پسندیدہ تھی۔ آپ ﷺ کی آستین گٹوں تک تھی۔ رنگ کے اعتبار سے سفید رنگ پسند تھا۔ مزید تفصیل شمائل کی کتابو میں موجود ہے۔ البتہ آپ ﷺ کے تمام لباسوں میں مندرجہ ذیل باتیں پائی جاتی تھیں:

۱ـ لباس  کا سادہ  ہونا، اس میں تکلفات کا نہ ہونا۔

۲-  لباس کا کشادہ ہونا، پست اور تنگ نہ ہونا۔

۳ـ  ریشمی نہ ہونا

۴ـ لباس اس انداز کا ہونا کہ جس سے مسلمانوں کا قومی امتیاز باقی رہے اور غیر مسلموں سے مشابہت نہ ہو۔

مذکورہ باتوں کی رعایت کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ کا عام معمول یہ تھا کہ لباس کی فکر میں نہیں رہتے تھے، بلکہ ہر وقت جس قسم کا لباس دستیاب ہوجاتا، چاہے عمدہ یا معمولی، اسی کو استعمال فرمالیتے تھے۔

تکملۃ فتح الملھم _ /۱۶۴)

فان کانت صور الانسان حیۃ بحیث تبدو علی الشاشۃ فی نفس الوقت الذی یظھر فیہ الانسان امام الکیمرا ، فان الصورۃ لا تستقر علی الکیمرا ولا علی الشاشۃ   ،وانما ھی اجزاء کھربائیۃ  تنتقل من الکیمرا الی الشاشۃ وتظھر علیھا بترتیبھا الاصلی ، ثم تفنی وتزول ۔ واما اذا احتفظ بالصورۃ فی شریط الفیدیو ، فان الصور لاتنقش علی الشریط ، وانما تحفظ فیھا الاجزاء الکھربائیۃ  التی لیس فیھا صورۃ فاذا ظھرت ھذہ الاجزاء علی الشاشۃ ظھرت مرۃ  اخری بذلک الترتیب الطبیعی ، ولکن لیس لھا ثبات ولا استقرار علی الشاشۃ ، انما ھی تظھر وتفنی ۔ فلا یبدو ان ھناک مرحلۃ من المراحل تنتقش فیھا الصورۃ علی شیء بصفۃ مستقرۃ او دائمۃ ۔وعلی ھذا فتنزیل ھذہ الصورۃ المستقرۃ مشکل۔

زاد المعاد في هدي خير العباد - (1 / 137)

 ولبس القميص وكان أحبَّ الثياب إليه، وكان كُمُّه إلى الرُّسُغ، ولبس الجُبَّةَ والفَروج وهو شبه القَباء، والفرجية، ولبس القَباء أيضاً، ولبس في السفر جُبة ضَيِّقَةَ الكُمَّين، ولبس الإِزار والرداء. قال الواقدي: كان رداؤه وبرده طولَ ستة أذرع في ثلاثة وشبر، وإزاره من نسج عُمان طول أربعة أذرع وشبر في عرض ذراعين وشبر.

ولبس حُلة حمراء، والحلة: إزار ورداء، ولا تكون الحُلة إلا اسماً للثوبين معاً، وغلط من ظن أنها كانت حمراء بحتاً لا يُخالطها غيره، وإنما الحلةُ الحمراء: بردان يمانيان منسوجان بخطوط حمر مع الأسود، كسائر البرود اليمنية، وهي معروفة بهذا الاسم باعتبار ما فيها من الخطوط الحمر، وإلا فالأحمر البحتُ.

سنن الترمذي - (4 / 237)

عن أم سلمة قالت : كان أحب الثياب إلى النبي صلى الله عليه و سلم القميص.

       واللہ اعلم بالصواب

      احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

  دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۷؍ذیقعدہ؍۱۴۳۸ھ

                  ۳۱؍جولائی؍۲۰۱۷ء