22 Nov, 2017 | 3 Rabiul Awal, 1439 AH

حضرت آجکل تصویروں کا دور بہت چل رہا ہے بڑے بڑے اللہ والوں کی تصویریں واٹس ایپ پر اور فیس بک پر ہیں حالانکہ حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب نور اللہ مرقدہ تصویروں کے بہت خلاف تھے اور سارے علماء حق بھی خلاف تھے لیکن اب کوئ اس عمل کو گناہ نہیں سمجھتا کیا کوئ جواز کا فتوی یا کوئ صورت پیدا ہوگئ ہے؟ اگر نہیں تو اس عمل سے اور بزرگوں کی تصویریں شئیر کرنے پر وعیدیں بتائیں تاکہ ہم سب لوگ اس عمل سے بچنے کی کوشش کرسکیں جزاکم اللہ خیرا

حضرت آجکل تصویروں کا دور بہت چل رہا ہے بڑے بڑے اللہ والوں کی تصویریں واٹس ایپ پر اور فیس بک پر ہیں حالانکہ حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب نور اللہ مرقدہ تصویروں کے بہت خلاف تھے اور سارے علماء حق بھی خلاف تھے لیکن اب کوئ اس عمل کو گناہ نہیں سمجھتا کیا کوئ جواز کا فتوی یا کوئ صورت پیدا ہوگئ ہے؟ اگر نہیں تو اس عمل سے اور بزرگوں کی تصویریں شئیر کرنے پر وعیدیں بتائیں تاکہ ہم سب لوگ اس عمل سے بچنے کی کوشش کرسکیں جزاکم اللہ خیرا

الجواب حامدا مصلیا

ڈیجیٹل کیمرے کے ذریعے بنائی گی تصویرکا اگر پرنٹ لیا جائے یا انہیں پائیدار طریقے سے کسی چیز پر نقش کر لیا جائے تو شرعاً ان پر تصویر کے احکام جاری ہوں گے ۔البتہ اگر ان کا پرنٹ نہ لیا جائے یا پائیدار طریقے سے کسی چیز پر نقش نہ کیا جائے تو ان کے تصویر ہونے میں حضراتِ علماء کرام  کی تین رائیں ہیں :

۱۔ بعض حضراتِ علماءِ کرام کے نزدیک ان پر تصویر کے احکام جاری ہوتے ہیں۔

۲۔ بعض حضراتِ علماءِ کرام کے نزدیک ان پر تصویر کے احکام جاری نہیں ہوتے ہیں۔

۳۔ بعض حضراتِ علماءِ کرام کے نزدیک اگرچہ تصویر ہیں ۔لیکن چونکہ ان کے بحکم ِ تصویر ہونے یا نہ ہونے میں ایک سے زیادہ فقہی آراء ہیں لہذا مجتہد فیہ ہونے کی بناء پر بقدر حاجتِ شرعیہ مثلاً جہاد وغیرہ کے موقع پر ان کے استعمال کی گنجائش ہے۔

ہماری طرف سے ڈیجیٹل کیمرے کے ذریعے تصویر  بنانے سے بھی احتیاط کرنے کا کہاجاتا ہے۔

تکملۃ فتح الملھم _ /۱۶۴)

فان کانت صور الانسان حیۃ بحیث تبدو علی الشاشۃ فی نفس الوقت الذی یظھر فیہ الانسان امام الکیمرا ، فان الصورۃ لا تستقر علی الکیمرا ولا علی الشاشۃ   ،وانما ھی اجزاء کھربائیۃ  تنتقل من الکیمرا الی الشاشۃ وتظھر علیھا بترتیبھا الاصلی ، ثم تفنی وتزول ۔ واما اذا احتفظ بالصورۃ فی شریط الفیدیو ، فان الصور لاتنقش علی الشریط ، وانما تحفظ فیھا الاجزاء الکھربائیۃ  التی لیس فیھا صورۃ فاذا ظھرت ھذہ الاجزاء علی الشاشۃ ظھرت مرۃ  اخری بذلک الترتیب الطبیعی ، ولکن لیس لھا ثبات ولا استقرار علی الشاشۃ ، انما ھی تظھر وتفنی ۔ فلا یبدو ان ھناک مرحلۃ من المراحل تنتقش فیھا الصورۃ علی شیء بصفۃ مستقرۃ او دائمۃ ۔وعلی ھذا فتنزیل ھذہ الصورۃ المستقرۃ مشکل۔

  واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

  دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۹؍رمضان المبارک؍۱۴۳۸ھ

۵؍جون؍۲۰۱۷ء